Daily Mashriq

سیاسی عدم استحکام سے بیرونی سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے، ایمل ولی خان

سیاسی عدم استحکام سے بیرونی سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے، ایمل ولی خان

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے آڈیٹر جنرل کی جانب سے پارلیمنٹ کو بھجوائی جانے والی 40وفاقی محکموں کی گزشتہ مالی سال کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربوں کی بے قاعدگیاں سامنے آنے کے بعد صادق و امین حکومت کا دامن داغدار ہو چکا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں 292 ارب 97 کروڑ روپے مالیت کے کیسوں میں قوانین کی خلاف ورزی اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وفاقی حکومت کے سول اکائونٹس کے گزشتہ مالی سال کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق237 کیسز میں 292ارب 97 کروڑ 49لاکھ روپے مالیت کے کیسوں میں قوانین کی خلاف ورزی اور بے ضابطگیاں کی گئیں،اسی طرح رپورٹ میں 86کروڑ24لاکھ کے فراڈ ، چوری اور بدعنوانیوں کے 11کیسوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ علی بابا چالیس چور قومی خزانے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں جس سے ملکی معیشت تشویشناک حد تک تباہ ہو چکی ہے، انہوں نے کہا کہ قبل ازیں حکومت کی کارکردگی کے بارے سٹیٹ بنک کی رپورٹ بھی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے ، سٹیٹ بنک نے مالیاتی کمزور ی اور بیرونی سرمایہ کاری میں پچاس فیصد کمی کا اعتراف کر لیا ہے ، یہ رپورٹ حکومت کی ناقص کارکردگی کی عکاس ہے ، انہوں نے کہاکہ حکومت نے ملک میں افراتفری پھیلا رکھی ہے جب کسی ملک میں بے یقینی ہو تو بیرونی سرمایہ کار اس ملک کا رخ نہیں کرتے ، سیاسی حکومت عدم استحکام کا شکار ہے اس لئے یہاں بیرونی سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے ،انہوں نے کہاکہ ملک تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اور سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت و مالیاتی سیکٹر کو سب سے زیادہ خطرہ ادائیگیوں کے توازن کی دگرگوں صورتحال سے ہے،انہوں نے واضح کیا کہ بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اقتصادی ترقی کی رفتار میں مزید کمی آسکتی ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ نااہل اور غیر سنجیدہ حکمرانوں نے ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے صورتحال میں بہتری لانے اور ملک کو صومالیہ بننے سے بچانے کیلئے نئے شفاف انتخابات کرا کے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔

متعلقہ خبریں