Daily Mashriq


وزیر اعظم کی قوم سے متحد ہونے کی اپیل

وزیر اعظم کی قوم سے متحد ہونے کی اپیل

مشال قتل کیس کا چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لے لیا ہے اور انسپکٹر جنرل پولیس سے واردات کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس سے ساری قوم کی امید بندھی ہے کہ مشال مرحوم کے ورثاء کو اور ساری قوم کو انصاف ملے گا۔ عدالت کی مصروفیت کے باوجود امید کی جانی چاہیے کہ انصاف جلد ہو گا اور ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی عدالت کے اعلان سے پہلے اس معاملہ کا نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ قوم متحد ہو کر اس واقعہ کی مذمت کرے۔ پیپلز پارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر تشدد کی حوصلہ افزائی کرنے والی سوچ دہشت گردی کی بنیادی وجہ ہے۔ گزشتہ روز یہ اطلاع آئی تھی کہ متحدہ دینی محاذ نے ایک اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ مشال قتل کیس میں جن ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں فوری طور پر رہا کیاجائے اور ایف آئی آر سے دہشت گردی کی دفعات کو خارج کیا جائے۔ اس اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام ف ' جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی کے صوبائی اور مقامی عہدیداروں نے شرکت کی۔ جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ اسلام سنی سنائی باتوں پر کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے ایک طرف یہ کہا ہے کسی بھی انسان کو تصدیق کیے بغیر توہینِ رسالت کے الزام میں قتل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے' کسی بھی شخص کو توہین رسالت پر سزا دینا ریاست کا کام ہے۔ مولانا سمیع الحق کا نقطۂ نظر نہایت واضح ہے کہ توہین رسالت کے الزام پر کسی کو بلا تصدیق سزا نہیں دی جا سکتی ۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے اور سزا دینا ریاست کا کام ہے۔ یہ اصول ہر الزام پر صادق آتا ہے جرم کی سزا تصدیق کے بعد عدالت دیتی ہے اور ریاست اس پر عمل درآمد کرتی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف جب کہتے ہیں کہ ساری قوم متحد ہو کر قتل کی اس واردات کی مذمت کرے جس کا ارتکاب بعض لوگوں نے خود قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے بلا تصدیق کیا جب کہ کسی جرم کی سزا دینا عدالت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم کا بیان ان کے منصب کے حوالے سے خود انہیں بھی جواب دہی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے کہ آیا قوم کے قائد کی حیثیت سے انہوں نے ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے کیا کیا۔ کیوں ان کے دورِ حکومت میں مشال خان کے قتل ایسی بہیمانہ واردات برپا ہوئی اور کیوں ان کے دورِ حکومت میں نہایت سنگین جرائم کے ارتکاب کی خبریں آئے دن منظرِ عام پر آتی رہتی ہیں۔ قانون کی حکمرانی قائم کرنا بنیادی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت نے یہ ذمہ داری کس حد تک ادا کی ہے یا اس کے ادا کرنے میں کس حد تک ناکام رہی ہے۔ جب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ قوم متحد ہو کر قتل کی اس واردات کی مذمت کرے تو ان کی قوم کے اتحاد سے کیا مراد ہے؟ اس بیان سے ایک تاثر یہ بھی ابھرتا ہے کہ قوم اس بہیمانہ جرم کی مذمت میں متحد نہیں ہے۔ آصف علی زرداری کے ردِعمل میں بھی ایسے ہی تاثرکا پتہ چلتا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر تشدد کی حوصلہ افزائی کرنے والی سوچ دہشت گردی کی بنیادی وجہ ہے۔ اگرایسی سوچ ہے تو کیا یہ کسی حکم نامے ' کسی اپیل یا نشاندہی کے ذریعے بدلی جا سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی سوچ کے تشکیل پانے میں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ عدل اور اس پر عوام کا اعتماد' تعلیم جو کسی خیال کو راسخ کرنے کی بجائے علمی تحقیق اور جستجو پر مبنی ہو۔ معاشرے کا عمومی بیانیہ جس سے اعلیٰ کردار کی توقیر اور بددیانتی کی تحقیر از خود نظر آئے۔ حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد ۔ اس اعتماد کی بنیاد عدل گستری ہے جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ اور قومی نصب العین ' وزیر اعظم کو خود اپنے آپ کو جواب دینا چاہیے کہ کسی قابلِ مذمت واقعے پر قوم سے اتحاد کے رویے کی آس لگانے سے پہلے انہوں نے قومی اتحاد پیدا کرنے کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کیا کیا۔ قانون نافذ کرنے والے' انصاف فراہم کرنے والے اداروں ' سماجی اور معاشی انصاف'دولت کی منصفانہ تقسیم کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی سے وہ مطمئن ہیں یا نہیں جب کہ حقیقت یہ نظر آتی ہے کہ وہ ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہے۔ وہ ایک انتخابی مہم میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری گرانٹس کا اعلان کرنے' سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی کاموں کے وعدے کرنے میں مصروف ہیں۔ کیا صرف مخصوص علاقوں میں بجلی ' پانی اور گیس کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر کے اعلان قومی اتحاد پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں۔

متعلقہ خبریں