Daily Mashriq


کلبھوشن' ایک نیا ڈوزیئر

کلبھوشن' ایک نیا ڈوزیئر

وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے گزشتہ روز بھارتی جاسوس ' تخریب کار 'دہشت گرد اور ''را'' کے ایجنٹ سدھیر کلبھوشن یادیو کے مقدمے کے بارے میں تفصیلات میڈیا پر عام کر دیں۔ انہوں نے یہ اقدام بھارت کے ہائی کمشنر بمبانوالہ کی دفتر خارجہ کی سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کے چند گھنٹے کے بعد کی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں فعال تر سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اس تجویز کو شاید کمزوری سمجھتے ہوئے بھارت نے ہٹ دھرمی پر مبنی ردعمل کا اظہار کیا ہے اور تمام دوطرفہ رابطوں کو معطل کر دیا ہے۔ اور طے شدہ میری ٹائم سیکورٹی سے متعلق مذاکرات میں شرکت سے بھی انکار کر دیا ہے۔ بھارت کا رویہ دھونس کا ہے ۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ بھارت کو دوطرفہ فعال تر سفارت کاری کی پیش کش کی بجائے کلبھوشن کے اعترافات ' اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کی شفافیت کے حوالے سے بین الاقوامی رائے عامہ کو مخاطب کیا جائے اور دہشت گردی کے الزام کے پیچھے بھارت کا اصل مکروہ چہرہ دکھایا جائے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ بھارت نے کلبھوشن کے سزائے موت کے فیصلے کو بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ اس لیے کہا جا رہا ہے کہ دفتر خارجہ کلبھوشن یادیو کے بارے میں ایک نیا ڈوزیئر تیار کر رہا ہے جو اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا اور جیسا کہ چند روز پہلے انہی کالموں میں کہا گیا تھا اسلام آباد میں مقیم تمام ملکوں کے سفیروں کو پیش کیاجائے گا۔ یہاں تک اس حکمت عملی سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن اس میں بھی شاید یہ التزام رکھا جا رہا ہے کہ بھارت کی پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی خفیہ کاری کے شواہد کو سفارت کاروں اور اقوام متحدہ کے اہل کاروں تک محدود رکھا جا ئے۔ یاد رہے کہ بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ تک رسائی حاصل کرنے کے امکان پر عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل کی ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں البتہ پاکستان اور بھارت کو اس معاملے میں مذاکرات کرنے چاہئیں۔ اب جو اسلام آبا دمیں مقیم سفیروں اور اقوام متحدہ کو نیا ڈوزیئر پیش کرنے کی بات ہو رہی ہے اس میں بھی یہ نظر آتا ہے کہ معاملے کو سرکاری سطح تک محدود رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ اس سے قبل کا تجربہ یہ ہے کہ سابق سیکرٹری جنرل بانکی مون کو بھارت کی کارروائیوں سے متعلق جو ڈوزیئر پیش کیا تھا وہ انہوں نے وصول کر لیا اور اس کے بعد اس پر کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اب اسلام آباد میں مقیم سفیر وں کو جو ڈوزیئر پیش کیا جائے گا وہ بھی ان کے ممالک کے دفتر خارجہ تک ہی پہنچے گا اور ممکن ہے اس پرکسی سطح پر غور بھی کیا جائے ۔ تاہم محض اس ڈوزیئر کی بنا پر ان ممالک کی پالیسی میں تبدیلی کی توقع کچھ زیادہ ہی پرامیدی کے رویے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کو جو نیا ڈوزیئر پیش کیا جائے گا اس سے یہ تو ممکن ہے کہ بھارت کے رابطوں کی صورت میں اس ڈوزیئر کو بھی زیر بحث لانے کی طرف جھکاؤ ہو لیکن اس کی پذیرائی کا امکان کم ہو گا۔ جب تک اس کو آگے بڑھانے کے لیے فعال تر سفارت کاری اختیار نہ کی جائے ۔ اس لیے جہاں ایک طرف یہ ضروری سمجھا جانا چاہیے کہ یہ ڈوزیئر محض کلبھوشن کے مقدمے تک محدود ہونے کی بجائے بھارت کے پاکستان کے خلاف عمومی رویہ اور پراپیگنڈے کے بارے میں ہو اور کلبھوشن کا معاملہ اس کے تقویتی مواد کی صورت میں پیش کیا جائے۔ اور یہ نیا ڈوزیئر اسلام آباد میں مقیم سفیروں کو پیش کیے جانے کے ساتھ ساتھ تمام پاکستانی سفارت خان کو بھی فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ وہ ان ممالک کے رائے عامہ کے قائدین اور عامة الناس کو اس طرف متوجہ کر سکیں۔

متعلقہ خبریں