بلاک شناختی کارڈوں کا مسئلہ

بلاک شناختی کارڈوں کا مسئلہ

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کافی انتظار کے بعد ایک تفصیلی پریس کانفرنس میں پختونخوا کے باشندوں کے بلاک شناختی کارڈوں سمیت متعدد موضوعات پر اظہارِ خیال کیا ہے اور بہت سے جواب دیے ہیں۔ بلاک کارڈوں کے بارے میں انہوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ یہ پختونوں کا مسئلہ نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے ۔ اس اصولی موقف کے اظہار کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ زیادہ تر افغانوں کے کارڈ بلاک کیے گئے ہیں۔ اس ''زیادہ تر'' کی اصطلاح کے استعمال سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ایسے بھی شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں جو افغانوںکے نہیں ۔ جب کہ اس حوالے سے احتجاج کرنے والے اے این پی کے ارکان کا کہنا ہے کہ چار لاکھ کے قریب شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیںجن میں زیادہ تر پاکستانی پختونوں کے ہیں اور وزیر داخلہ ان کے تعداد پونے دو لاکھ کے قریب بتا رہے ہیں۔ شناختی کارڈوں کی بندش یقینا پاکستان کا مسئلہ ہے جس میں یہ پہلو بھی ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے کہ پاکستان کے کس ادارے نے یہ جعلی یا غیر قانونی شناختی کارڈ جاری کیے۔ لیکن یہ ان پاکستانی پختونوںکا بھی نہایت اذیت ناک مسئلہ ہے جن کے بچے اس بندش کے باعث کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے سے محروم ہو رہے ہیں اور جو حج و عمرہ کے لیے درخواستیں نہیں دے سکتے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وزارت داخلہ بلاک شناختی کارڈوں کے مکمل کوائف افشا کرے گی اور پاکستانی پختونوں کے بلاک شناختی کارڈ جلدی بحال کرے گی۔

 

اداریہ