ابھی شیشہ ہو ں ۔۔۔

ابھی شیشہ ہو ں ۔۔۔

ماسکو میں گزشتہ جمعہ کے روز افغانستان سے متعلق گیارہ ملکو ں کی کا نفر نس نے مطالبہ کیا کہ طالبان سے مذاکر ات کر کے افغانستان میں امن کی راہ بحال کی جائے کیو ں کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور نہ طاقت کے ذریعے کوئی مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ، اجلا س میں چین ، پا کستان ، ایر ان ، ترکستان ،روس ، تاجکستان وغیر ہ کے علا وہ بھارت بھی شریک ہو ا ، سبھی شریک ممالک کے اتفاق رائے سے اعلا میہ جا ری ہو ا ہے۔ اس اجلا س میں امریکا کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی لیکن اس نے اس دعوت کو مسترد کردیا تھا ، جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ امریکا افغانستان کے بارے میں اپنی ہی سو چ رکھتا ہے ۔یہ سو چ کیا ہے وہ طاقت کے بل بوتے اور افغانستان میںسکو ن امن غارت رکھ کر اپنا تسلط بر قرار رکھنا چاہتا ہے حالانکہ اس کا سب سے زیا دہ چونچال بانکا حلیف بھارت اس کا نفرنس میںشریک ہو ااور اس نے بھی اعلا میہ سے کلی اتفاق کیا ، گویا بھارت امریکی پالیسی کے بر عکس اس امر کا قائل ہے کہ افغانستان میں امن قائم کر نے کا واحد را ستہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ہی ہیں ۔ما سکو کا نفرنس بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس سے ایشیا کے اس خطے میں دور رس اثرات مر تب ہو ں گے۔ کانفرنس کے انعقاداور اس کے مو قف یا فیصلے نے امریکا کو خطے میں تنہا کر دیا ہے کیو ں کہ سب نے امر یکا کی پا لیسیو ں کے برخلا ف فیصلہ دیا ہے ۔
امریکا کیا چاہتا ہے اس پر کا فی سیر حاصل بحث ومباحثہ ہو تا رہتا ہے ، تاہم یہ یقین سے کہا جا تا ہے کہ امر یکا افغانستان کو بھالو کے کمبل کی طر ح لپٹ گیا ہے اور ایسی تما م کا وشو ں کو سبو تاژ کر تا ہے جو امن کے قیا م کے لیے کی جا تی ہیں ۔ ما سکو کا نفرنس کے بارے میں بھی روس نے امر یکا پر ایسا ہی الزام لگایا تھا ۔اور کانفرنس کو سبو تاژ کرنے کی کو شش میں اس نے انسانیت سے بھی دور ہو کر ایسی حرکت کی کہ عقل دنگ رہ گئی ہے ، جمعہ کی صبح ماسکو میں افغانستان سے متعلق کانفر نس ہو نے جارہی تھی اور اسی رات یعنی جمعہ کی رات کو امریکا نے افغانستان کے صوبہ ننگر ہا ر کے ضلع اچن پر 9800کلو گر ام وزنی بم گرایا جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس بم سے کم از کم 36داعش کے دہشت گر د ما رے گئے گویا صرف اتنی مختصر تعدا د کو ہلاک کر نے کی غرض سے دنیا کے طاقت ور ترین اور تباہ کن بم کو استعمال کیا گیا اور کیا اس حملے سے افغانستان سے داعش کا خاتمہ ہو گیا ، ایسا نہیں ہے اس بم کے استعمال سے کئی مقاصد حاصل کیے گئے ہیں ۔ کہنے کو تو یہ غیر ایٹمی بم ہے لیکن اس کی ہلا کت خیزی کے مقابلے میں ہیر و شیما پر گر ائے جا نے والے ایٹم بم کی ہلا کت خیزی کچھ بھی نہیں ہے۔ افغانستان کے جس شہر پر گرایا گیا ہے اس کی آبادی پچانو ے ہز ار ہے جہا ں ہو نے والی تباہی و بربادی کے بارے میں ہنو ز کوئی درست اعداد وشما ر میسر نہیں ہو ئے ہیں ۔ تاہم ماہر ین کا کہنا ہے کہ پو رے شہر کے ملیا میٹ ہو جا نے کے امکا نا ت ہیں ۔ ایک چھو ٹے سے مقصد کے لیے دنیا کا طا قت ور ترین بم استعمال کر نے کی پشت پر کیا امریکی مقاصد کا رفر ما تھے ، اس کا جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ بات وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ یہ تجر بہ رو س کو امر یکی بر تری اور ورلڈ پا ور کا رعب دینے کے لیے تھا ، کیو ں کہ یہ مدر بم عرا ق پر حملہ کرنے سے قبل جلدی میں تیا ر کیا گیا تھا مگر وہا ں استعمال نہیںکیا گیا، اس بم کے گرائے جا نے پر سب سے زیا دہ حقیقت پسند انہ تبصرہ افغانستان کے سابق صدر حامد کر زئی نے کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اپنے خطر نا ک اور جدید ہتھیاروں کے تجر با ت کی لیبارٹری افغانستان کو بنا رکھاہے ۔روس کا اس لیے جو اب تھا کہ 2007ء میں روس نے ایسا ہی طا قت ور بم بنایا تھا اور اس کے تجربے کے وقت کہا تھا کہ اس نے دنیا کا سب سے زیادہ طا قت ور بم بنایا ہے اور اس کو Father of Bombs یعنی بمو ں کا باپ قر ار دیا تھا۔ گویا روس کے پاس بمو ںکا باپ اور امر یکا کے پا س اب بمو ں کی ما ں ہے ، خیر یہ بات تو از راہ تفنن کہی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ بم کاتجر بہ کر نے کے لیے ایسا وقت چنا کہ افغانستان کے بارے میںامن کا نفرنس کے مو قع پر اس کا حملہ کیا گیا تاکہ کانفرنس کے شرکا ء آگاہ ہو جا ئیں کہ طاقت کا منبع رو س نہیں امر یکا ہے ۔روس کے لیے خصوصی طورپر پیغام تھا کہ ایک تو شام کے بارے میں روس نے سلا متی کو نسل میں قر ار داد کو ویٹو کر دیا ، دوم شام پر امریکی میزائل حملے کے ردعمل میں روس نے جو اقدام کیے اس کا بھی جو اب تھا اور سوم یہ کہ امریکا یہ گمان کر تا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے وہی اس خطے کا مائی با پ ہے اور کسی دوسرے کو اس خطے کے بارے میں کوئی فیصلہ اس کے لیے قابل قبول نہیں ہے ، چنا نچہ وہ کسی کی یہا ں کوئی مداخلت قبول نہیںکر ے گا ۔ جہا ں تک ما سکو کا نفر نس کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نتائج کا انتظار کر نا ہو گا ،طالبان کو بھی اس کا نفر نس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ، مگر انہو ں نے بہت تاخیر سے شرکت کر نے سے انکا ر کر دیا مگر انکا ر کی وجہ قابل فہم قر ا ر نہیں پا تی ، اگر طالبان اس کا نفر نس کا حصہ بن جاتے تو کا نفرنس کا کا نفرنس کے مخالفین کے مقابلے میں کا فی تقویت مل جا تی ، اگر دیکھا جا ئے تو داعش کے حوالے سے جو خطرنا ک بم امریکا نے استعمال کیا ہے وہ طالبان کو بھی تنبیہہ کر تا ہے کہ طالبان نے امریکا کے خلا ف یا اس کی منشا کے خلاف کوئی قدم بڑھایا تو ان کو بھی ایسے انجا م سے دوچا ر کیا جا سکتا ہے۔ جہا ں تک بم کے استعمال کا تعلق ہے اس سے جو معصوم لو گو ں کی ہلاکتیںہو ئی ہیں ا س کی ذمہ داری امر یکا کے ساتھ ساتھ خود اشرف غنی پر بھی عاید ہوتی ہے ، امریکی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اچن شہر پر حملہ افغانستان کی فوج کی درخواست پر کیا گیا ، اور ظاہر ہے کہ افغانستان کی فوج نے کس کے حکم پر درخواست کی ہو گی وہ اشرف غنی ہی ہیں ۔فی الحال ماسکو کا نفرنس کے بارے میں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ
ع ، ابھی شیشہ ہو ں تبھی چبھتا ہو ں سبھی کو
جب آئینہ ہوجا ؤں گا زمانہ دیکھے گا مجھے

اداریہ