Daily Mashriq


جمہوریت کی ڈریکولا

جمہوریت کی ڈریکولا

مقبوضہ کشمیر میں لوک سبھا کی دو نشستوں پرضمنی انتخابات کے دوران آٹھ کشمیری نوجوان بھارتی جمہوریت کی بھینٹ چڑھ گئے ۔بھارت کی جمہوریت دہلی ،امرتسر ،ممبئی اور آگرہ میں شاید کوئی اچھا نظام ہو مگر کشمیر کی وادیوں میں یہ جمہوریت ایک خوفناک شکل اور ڈرائونا خواب بن چکی ہے جسے کشمیریوں کے لہو کی چاٹ لگ چکی ہے ۔جب تک یہ چند نوجوانوں کا لہو پی نہ لے اسے سکون اور قرار نہیں آتا ۔اتوار کو ایک بار پھر یہی ہواجب کشمیری نوجوان انتخابات کے بائیکاٹ کی حمایت میں اپنے جذبات کا اظہار کررہے تھے تو بھارتی فوجیوں نے کئی مقامات پر گولیاں چلا کردرجنوں نوجوانوں کو زخمی اور آٹھ کو شہید کیا۔برہان وانی کے بعد کشمیر غم واندوہ میں ڈوبا ہوا اور اپنے نوخیزوں کے چھلنی جسموں سے اُداس اور بچھڑنے والوں کی یاد میں ماتم زدہ ہے۔موت کے خوف سے آزاد ایک نسل کشمیریوں کی قیادت بھی کر رہی ہے اور ان کے رجحان اور رویوں کی تشکیل بھی کر رہی ہے ۔اس نسل کے پاس لٹانے کو آخری متاع نقد جاں ہے اور وہ سر ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کے مقابل کھڑی ہے ۔بھارت کے سابق وزیر دفاع یشونت سنہا کی سربراہی میں گزشتہ برس جس وفد نے کشمیر کے حالات کا بغور مشاہدہ کرکے اپنی رپورٹ جاری کی تھی اس کا خلاصہ بھی یہی تھا کہ کشمیر میں موت کے خوف سے آزاد نسل برسرمیدان ہے۔بھارت نے ان انتخابات میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے بے پناہ اقدامات کر رکھے تھے ۔بیس ہزار فوجی ان انتخابات کی نگرانی اور حفاظت کے کام پر مامور تھے ۔انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی حریت کانفرنس کی قیادت کو اپنی بات کہنے سے روکنے کے لئے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔پیلٹ گن کا خوف پہلے ہی لوگوں پر طاری کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔فاروق عبداللہ جو ایک نشست سے امیدوار تھے عوام کا دل لبھانے اور ہمدردی سمیٹنے کے لئے بھارت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید اور آمادہ ٔ مزاحمت نوجوانوں کی حمایت میں رطب اللسان دکھائی دیتے تھے ۔ان کی تقریروں کے ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے تھے ۔اس سے ووٹر ٹرن آئوٹ بڑھ جانے کا امکان تھا مگر پولنگ کے دن بوتھ ویران رہے اور پولنگ سٹیشنوں پرووٹروں سے زیادہ پولیس اور فوج کے اہلکاروں کی بھیڑ لگی رہی ۔انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی تھی ۔کشمیرکا آزاد اور بیرونی دنیا سے رابطہ کلی منقطع کر دیا گیا تھا ۔کشمیر کے ماتمی اور سوگوار ماحول میں کوئی بھی شخص انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا ۔کشمیریوں کے زخموں سے مسلسل خون رس رہا تھا۔وہ برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی مزاحمت کے ماحول سے ابھی ذہنی اور عملی طور پر باہر نہیں آئے تھے ۔ایسے میں بھارت نے انتخابات کا ڈول ڈال کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کی کوشش کی ۔شاید یہی وجہ ہے کہ وسطی کشمیر کی نشست کے لئے قائم ایک سو پولنگ سٹیشنوں پر خود مشتعل ووٹروں نے پولنگ بوتھوں پر پٹرول بموں اور پتھروں سے حملے کئے اور کئی ایک کو جلاڈالا گیا جن پر پولنگ نہ ہو سکی ۔وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے مقبوضہ کشمیر کی اس صورت حال پر تشویش کا اظہا رکیا ۔1990ء کے بعد کشمیر میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اس میں کئی برس تک وہاں صدر راج نافذ رہا ۔اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کی بجائے تمام معاملات گورنر چلاتا رہا ۔نوے کی دہائی کے وسط میں جب بھارت کے اوسان بحال ہوئے تو امریکہ ،برطانیہ اور دوسری عالمی طاقتوں کے تعاون سے بھارت نے کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی کی طرف پیش رفت شروع کی ۔ریاستی انتخابات کی مخالفت کو جمہوریت کی مخالفت کا لبادہ پہنا کر حریت پسندوں کو انتخابی عمل کی کھلی مخالفت سے باز رکھنے اور حریت پسندوں کو اسے سبوتاژ کرنے سے روکنے کے سرتوڑ سفارتی کوششیں ہوتی رہیں۔ وادی میں انتخابی عمل کے آغاز سے پہلے امریکی اور برطانوی سفارت کار وں نے اسلام آباد کے دورے کئے اور پاکستان پر حریت پسندوں کو انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے کا دبائو ڈالتے رہے ۔بعد کے ہر الیکشن میں بھارت کے ہاتھ یہی آسان نسخہ آگیا ۔ ہر الیکشن سے پہلے مغربی سفارت کار سرگرم ہو کر پاکستان پر دبائو بڑھاتے رہے جس کے نتیجے میں ایک طرف الیکشن میں حصہ لینے والے مقبوضہ کشمیر کے سیاست دان یہ اعلان کرتے رہے کہ انتخابات کا مسئلہ کشمیر سے کوئی لینا دینا نہیں اور یہ انتخابات عوام کے روز مسائل کے حل کے لئے لڑے جا رہے ہیں تو دوسری طرف مظفر آباد میں حریت پسندوں کی طرف سے کچھ ایسے ذومعنی جملے کہے جاتے جن سے وادی میں یہ پیغام جاتا رہا کہ الیکشن میں حصہ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔حریت کانفرنس کے اندر سے کچھ آوازیں انتخابات کو نان ایشو قرار دیتی رہیں اور یوں پاکستان سے اس عمل میں سہولت کاری کا کام لیا جاتا رہا ۔جس کے نتیجے میں وادی میں ووٹر ٹرن آئوٹ بتدریج بڑھتا چلا گیا ۔اب صورت حال قطعی مختلف ہے اوراس وقت پاکستان اور بھارت میں مذاکرات اور روابط کے سب راستے بند اور روابط منقطع ہیں۔بیک چینل ڈپلومیسی ختم ہے اور غیر ملکی سفارتی ذرائع بھی تھک کر پیچھے ہٹ چکے ہیں ۔اس ماحول میں بھارت اپنے بل بوتے پر وادی میں انتخابات کرانے کا یہ تجربہ کربیٹھا اور یوں بھارت کو عوامی غیظ وغضب کی شکل میںکشمیر کی زمینی حقیقت کا سامنا کرنا پڑااور بھارت کی جمہوریت کا دامن کشمیر یوں کے خون کے چھینٹوں سے داغ دار ہوکر رہ گیا۔

متعلقہ خبریں