بس ایویں

بس ایویں

ہمارے پسندیدہ رائیٹر پطرس بخاری جیسے کتوں کی افادیت معلوم کرنے کے لئے کوشش کرتے رہے اور ناکام رہے اسی طرح ہم نے بھی ماہرین تعلیمات سے پوچھا' پرائمری سکولز کے اساتذہ سے دریافت کیا' خود بھی غور وخوض کرتے رہے لیکن اس فلسفہ کی گتھیاں سلجھانے میں ناکام رہے کہ پختونخوا کی حکومت کا پانچویں جماعت کے امتحانات کو جائزہ کا نام دے کر بورڈز کے سپرد کردینے میں کیا راز پوشیدہ ہے جبکہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ امتحان لینے سے بچوں کا فیل پاس کرنا مقصود نہیں تو پھر؟ بس ایویں۔ ہم نے سکول سے باہر پہلا امتحان آٹھویں جماعت کادیا تھا۔ یہ امتحان اس زمانے میں محکمہ تعلیم میں قائم ایک علیحدہ شعبے کی ذمہ داری تھی یقین جانئے اس امتحان کی دہشت کی یادیں آج تک ہمارے ذہن میں موجود ہیں۔ اس وقت ہماری عمر چودہ سال تھی۔ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پانچویں جماعت کے ایک بچے کو بورڈ کا عملہ جب قطار میں بٹھا کر اونچی آواز میں انہیں امتحانی قواعد و ضوابط سنانے لگے تو اس عالم محشر میں ان کی کیا حالت ہوگی۔ اس سارے عمل کو ہم بزبان انگریزی Futile exercise ہی کہیں گے کہ یہ صرف ایک جائزہ ہوگا تو پھر؟ بس ایویں۔ اب اس ایویں کی کچھ تفصیلات پیش کرنے کی اجازت دیجئے۔ پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھئے کہ ثانوی تعلیمی بورڈز جو پہلے ہی سارا سال امتحانات لینے میں مصروف رہتے ہیں اوپر سے ان کو یہ ایک اضافی قسم کی ایک ایسی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جو نتائج کے اعتبار سے لا یعنی ہے۔ بورڈز نے یہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیوں نہیں کیا۔ اس کی تفصیل ہم کسی دوسری تحریر میں پیش کریں گے فی الوقت اس لطیفہ کا حکایت سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کیجئے ۔ کہتے ہیں کہ ایک مریض کا جب بار بار ڈاکٹر کے پاس جانے سے کوئی افاقہ نہ ہوا تو اس نے ڈاکٹر سے پوچھا' کہ حضور مجھے تو آپ کی دوائوں سے کوئی فائدہ نہ ملا تو ڈاکٹر نے جواب میں کہا' مجھے تو آپ سے فیس وصول کرنے میں کافی فائدہ پہنچ چکا ہے۔ ثانوی تعلیمی بورڈز کا بھی یہی کچھ معاملہ ہے۔ بچوں کو اگر اس امتحان سے کچھ نہیں ملا بورڈز کو اس سے کافی مالی فوائد حاصل ہوئے۔ کیسے اور کس طرح اس ضمن میں ہماری کسی اگلی تحریر کا انتظار کیجئے فی الوقت دستیاب معلومات کی روشنی میں یہ بتاتے چلیں کہ گزشتہ سال پانچویں جماعت کے امتحانات میں صرف سرکاری سکول شامل ہوئے تھے۔ صوبے میں اس وقت آٹھ تعلیمی بورڈز قائم ہیں ۔ گزشتہ سال امتحانات کے اخراجات کی مد میں مردان کے ثانوی تعلیمی بورڈ کو ایک اطلاع کے مطابق چار کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس حساب سے صوبے کے آٹھ بورڈز کو ادائیگیوں کا تخمینہ کم و بیش 40کروڑ تک لگایا جاسکتا ہے۔ سال رواں میں نجی تعلیمی اداروں پر بھی یہ تجربہ آزمایا گیا۔ نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم پانچویں جماعت کے طلبہ کے ہے اس امتحان کے پرچے ترتیب دینے میں کیا حکمت عملی اختیار کی گئی ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں البتہ یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ سرکاری سکولوں میں تو ٹیکسٹ بورڈ کا تجویز کردہ نصاب پڑھایا جاتا ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں پر یہ نصاب پڑھانے کی کوئی پابندی نہیں۔ ایک ہی شہر میں قائم نجی سکولوں کے تعلیمی نصاب میں کوئی یکسانیت نہیں پائی جاتی ۔ اس سے پانچویں جماعت کے امتحانات کے لئے پرچے تیار کرنے والے بقراطوں نے ایسی کیا حکمت عملی اختیار کی ہوگی جس سے سرکاری اور نجی سکولوں کے تمام طلبہ مطمئن ہوگئے ہوں گے۔ ہم اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے جب امتحان میں پاس فیل کا کوئی تصور ہی موجود نہ ہو اس کے لئے اگر طلبہ کے ہاتھ میں جس نوعیت کاپرچہ بھی تھما دیا جائے انہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ پرچوں کی اسی غیر یقینی ترتیب کی وجہ سے ایک اخباری اطلاع کے مطابق اگر 132 نجی سکولوں نے اپنے طلبہ کو امتحان میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ تعلیمی بورڈز نے جب ان سے اس کی وجہ پوچھی تو آٹھ سو سے زائد نجی سکولوں نے بورڈز کے شوکاز نوٹس کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ گزشتہ سال جیسے کہ ہم عرض کرچکے ہیں پانچویں کے امتحانات پر 40کروڑ روپے تک کا تخمینہ لگایا جاسکتاہے۔ اس کا دائرہ کار نجی سکولوں تک بڑھانے سے اخراجات کو دوگنا سمجھنے میں کچھ ذہنی مشق کی ضرورت نہیں۔ ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی پانچویں جماعت کے اس جائزہ امتحان کا تجربہ صرف ہمارے صوبے میں کیوں آزما یا گیا ہے پاکستان کے کسی دوسرے صوبے سے یہ امتحان لینے کی کوئی اطلاع نہیں آئی۔ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں چاک اور ڈسٹر کا استعمال ختم ہو چکا ہے۔ ہمارے سکولوں میں یہ کام اب بھی ہو رہا ہے۔ ہم یہی عرض کرسکتے ہیں کہ اس ایویں تجربے کی بجائے اس پر اٹھنے والے خطیر اخراجات کی رقم ' سکولوں کی بوسیدہ عمارتوں کی مرمت پر خرچ کی جاتی اس رقم سے اساتذہ کی کمی کو ختم کیاجاتا۔ ہمارے بیشتر سکولز کے طلبہ کو گھروں سے بیٹھنے کے لئے چٹائی اور بورئیے لانے کے لئے کہا جاتا ہے۔ وہاں فرنیچر فراہم کیا جاسکتا تھا۔ سکولوں میں بچوں کے لئے نہ پینے کا پانی میسر ہے اور نہ وہاں واش روم کی سہولت موجود ہے جس سے آپ ان سکولوںکے اساتذہ اور بچوں کی اذیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ پانچویں جماعت کے بے نتیجہ امتحانات پر خرچ ہونے والی رقم اس نیک کام میں صرف کی جاتی ۔ ہم تو صرف مشورہ ہی دے سکتے ہیں باقی فیصلہ تو سرکار کا ہے کہ وہ پانچویں جماعت کے امتحانوں کی یہ بے معنی مشق ختم کرتی ہے یا اسے جاری کرنے پر اب بھی مصر ہے۔ ایویں قسم کے تجربات کرنے کی ہمیں عادت پڑ چکی ہے۔ جب نئی سرکار آتی ہے تو اس کا نعرہ ہوتا ہے ہم گزشتہ حکومتوں کے گند کو فوری طور پر کیسے ختم کرسکتے ہیں۔