جج کی اقامت گاہ پر فائرنگ کے قابل مذمت واقعات

جج کی اقامت گاہ پر فائرنگ کے قابل مذمت واقعات

سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے دو واقعات کے بعد مروجہ سیاست کی روایتی الزام تراشی میں مصروف سیاسی رہنمائوں اور بزعم خود سینئر تجزیہ نگاروں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے بے پر کیاں اڑانے سے گریز کرنا چاہئے۔ بجا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن اہم مقدمات کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ ہیں اور شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالتوں میںزیر سماعت بعض ریفرنسز میں نگران جج لیکن اس بنیاد پر یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ ان کی قیام گاہ پر ہونے والی فائرنگ کے پیچھے کوئی سیاسی خاندان ہے؟ بد قسمتی سے ہمارے یہاں سیاسی اختلافات ذاتی عناد اور نفرتوں سے گندھے نہ ہوں تو کچھ عناصر کی سیاست کی گاڑی چل نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینے والے فوراً اپنے مخالفین پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ لاہور میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب اور پھر اتوار کی صبح معزز جج صاحب کے گھر پر ہوائی فائرنگ کے بعد کسی قسم کی ابتدائی تحقیقات کے نتائج کے بغیر ہی الزامات کی دو دھاری تلوار یں سنبھالے بعض سیاسی رہنما اور تجزیہ کار جو کہہ رہے ہیں اس سے وہ قانون کی مدد نہیں کر رہے بلکہ جی کے پھپھولے پھوڑنے میں مصروف ہیں۔ عدم برداشت سے عبارت ماحول میں اس طرح کی الزام تراشی سے کس کو فائدہ ہوگا اور کسے نقصان اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ معزز جج کی قیام گاہ پر فائرنگ کے دو واقعات انتہائی افسوسناک ہیں۔ بظاہر کہا جاسکتا ہے کہ اس واقع کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ یہی قریب ترین حقیقت بھی ہے لیکن کسی تحقیقات کے بغیر ذمہ داروں کے حوالے سے ایک خاص سیاسی خاندان یا جماعت پر انگلیاں اٹھانے کو بھی فائرنگ کی طرح افسوسناک ہی سمجھا جانا چاہئے۔ جس امر پر پچھلے 24 سے 36گھنٹوں پرکسی نے توجہ دی نہ سوال اٹھایا وہ یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی قیام گاہوں کو خصوصی سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پونے گیارہ بجے کے قریب جب فائرنگ کا پہلا واقعہ ہوا تو جج کی اقامت گاہ پر تعینات حفاظتی عملہ کہاں تھا اور ٹیکنیکل حفاظتی ذرائع ( سی سی ڈی ٹی وی) کس حالت میں تھے؟ ثانیاً یہ کہ جب پہلے واقعہ کے بعد سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی تو پھر 11گھنٹے بعد دوسرا واقعہ کیسے پیش آگیا۔ پہلا واقعہ تو چلیں رات کی تاریکی میں ہوا تھا کہہ سکتے ہیں کہ اندھیرا اور بے آواز اسلحہ کا استعمال ملزموں نے ان دونوں باتوں کا فائدہ اٹھایا مگر دوسرا واقعہ اتوار کی صبح پونے دس بجے رونما ہوا۔ دن کی بھرپور روشنی اور پہلے کے مقابلے میں موثر حفاظتی اقدامات کے باوجود نا معلوم ملزمان فائرنگ کرکے فرار ہوگئے‘ کیمرے کی آنکھ دیکھ پائی نہ حفاظتی عملہ؟ہماری رائے میں اس واقعہ پر سیاست چمکانے کی بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کام آزادانہ ماحول میں کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ فائرنگ کے دو واقعات حفاظتی عملے کی ناکامی ہیں۔ جدید ذرائع کا استعمال دونوں میں سے کسی ایک وجہ کی نشاندہی بہر طور ٹھوس تحقیقات سے ہی سامنے آسکتی ہے۔ وہ عناصر جو اس واقعہ کو بنیاد بنا کر بحران کو نئی سمت دینے کے خواہش مند ہیں خواہشات کے بے لگام گھوڑے پر سواری کی بجائے تحقیقات کے نتائج کا ٹھنڈے دل سے انتظار کریں۔ ضروری نہیں کہ ان کے الزامات ہی حقیقت ہوں۔ لاہور میں معزز جج صاحب کی اقامت گاہ پر فائرنگ کے واقعات کے بعد وکلاء نے ملک گیر ہڑتال کی کال جناب چیف جسٹس کی اپیل پر واپس لے کر قانون کی عملداری کے حوالے سے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا وہیں وکلاء برادری نے ان عناصر کو بھی آگ بھڑکانے کا موقع نہیں دیا جو سستی شہرت کے لئے وکلاء کے احتجاج سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کا صبر و تحمل بھی خوش آئند ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر اس واقعہ کی موثر انداز میں تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے اور جے آئی ٹی پہلے مرحلہ میں دو اہم نکات کو مد نظر رکھے اولاً یہ کہ جج صاحب کی اقامت گاہ پر حفاظتی عملے کی تعداد کتنی تھی اور ہنگامی صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کے حوالے سے ان اہلکاروں کی اہلیت ثانیاً یہ کہ حفاظتی عملے کے علاوہ سیکورٹی کے دوسرے ذرائع ورکنگ پوزیشن میں تھے؟ ان دو سوالوں کا جواب ہی تحقیقات میں بہترین رہنمائی کا موجب بن سکتا ہے۔ اس امر کی جانب توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں صرف سیاسی مقدمات یا سیاستدانوں کی کرپشن کے مقدمات ہی زیر سماعت نہیں بلکہ امن دشمن سر گرمیوں میں ملوث سزا یافتہ افراد کے مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ ماضی میں امن دشمن عناصر کی طرف سے جج صاحبان کو دھمکانے اور نچلی سطح کی عدالتوں کے ذمہ داروں پرحملوں کے واقعات بھی ریکارڈ پر ہیں۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے والی قوتیں بھی ہمہ وقت اپنی مذموم سرگرمیوں میں جتی رہتی ہیں۔ جج کی اقامت گا ہ پر فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے قائم کی جانے والی جے آئی ٹی کو ان تمام پہلوئوں کو مد نظر رکھنا ہوگا عین ممکن ہے کہ کوئی طاقت موجودہ ابتر سیاسی حالات میں مزید بگاڑ پیداکرکے نظام انصاف اور جمہوری عمل ہر دو کے لئے مسائل پیدا کرنا چاہتی ہو۔ بہر طور ان سارے امکانات کا جواب تو تحقیقات کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس معاملے پر تشکیل دی گئی جے آئی ٹی تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کم سے کم وقت میں اصل حقائق سامنے لاکر ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی تاکہ الزامات اور سازش کی تھیوریاں فروخت کرنے والوں کو اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل نہ ہوسکے۔

اداریہ