Daily Mashriq


کرم ایجنسی میں افغان فورسزکی اشتعال انگیزی

کرم ایجنسی میں افغان فورسزکی اشتعال انگیزی

اتوار کو کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر معمول کے گشت اور باڑ لگانے کے لئے ضروری اقدامات کا جائزہ لینے میں مصروف ایف سی کے اہلکاروں پر افغان حدود سے کی جانی والی فائرنگ سے 2ایف سی اہلکارشہیداور 5زخمی ہوگئے۔ پاکستان کی جانب سے سخت جوابی کارروائی سے گریز افغان شہریوں کو نقصان سے بچانے کے جذبہ کا مرہون منت ہے۔ افسوسناک واقعہ کی اطلاع پر سینکڑوں قبائل بھی ایف سی اور فوج کی مدد کے لئے موقع پر پہنچ گئے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس جذباتی صورتحال میں اگر عسکری حکام نے تحمل و برد باری کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو نہ صرف بڑے تصادم کا دروازہ کھل جاتا بلکہ طرفین کو بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑتا۔ افغان حدود سے پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ اہلکاروں اور شہریوں کی شہادت کا یہ پہلا واقعہ ہر گز نہیں البتہ یہ امر اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ برادر پروری کے جذبات اور امن پسندی کو اگر کوئی کمزوری سمجھتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ افغان حکام کو اپنے عسکری اداروں میں موجود ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھنا ہوگی جو دو طرفہ تعلقات اور امن کو تباہ کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ صدیوں کے باہمی رشتوں اور مشترکہ تہذیب و ثقافت ہی نہیں بلکہ دونوں طرف دین فطرت اسلام کے پیروکاران آباد ہیں۔ امید واثق ہے کہ افغان حکام اتوار کے افسوسناک واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف اپنے تادیبی قوانین کے مطابق کارروائی کو یقینی بناتے ہوئے اس امر کو بھی یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں اس طرح کے افسوسناک واقعات کا اعادہ نہ ہونے پائے۔

شامی بحران کا نیا موڑ

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شامی بحران کو جو خوفناک شکل دی ہے دنیا بھر میں عوامی رد عمل امریکی جارحیت کے خلاف سامنے آرہا ہے۔ امریکہ‘ فرانس اور برطانیہ میں حزب اختلاف نے اپنی حکومتوں کو شامی بحران کے حوالے سے جس طرح آڑے ہاتھوں لیا اس سے اس امر کو تقویت ملی کہ مغرب کے عوام شام پر عراق کی طرح کے الزامات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بد قسمتی سے شامی بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کا کردار بھی افسوسناک ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ امریکی صدر نے شام کو مزید حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔ دنیا بھر کے با شعور عوام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ امریکہ اور اتحادیوں کے عراق پر حملوں سے قبل بھی عراق پر کیمیائی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کے الزامات سے سماں باندھا گیا تھا پھر چند سالوں بعد امریکہ اور برطانیہ نے یہ اعتراف کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں بارے رپورٹس درست نہیں تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شام کے حوالے سے بھی ویسا ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس جنگ میں اسرائیل کی شرکت سازش اور منصوبے کو طشت از بام کردینے کے لئے کافی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ گروہی مفادات کی بدولت تقسیم عالم اسلام اپنے ایک برادر ملک کی سا لمیت پر امریکی حملہ پر خاموش ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ اگر امریکہ مزید کارروائیوں سے باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں تیسری عالمی جنگ کا دروازہ کھل جائے گا۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو امریکہ اور اتحادیوں پر جنگی جنون کو بڑھانے سے باز رہنے کے لئے اپنا دبائو بڑھانا ہوگا۔

لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں خوفناک اضافہ

دسمبر2017ء تک لوڈشیڈنگ سے نجات دلوانے کے سارے دعوے موسم گرما کے اولین دنوں میں جس طرح ہوا ہوئے ہیں اس سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ توانائی کے شعبہ پر کی گئی مالی برسات کیا ہو ئی اور بجلی پیدا کرنے کے نصف درجن سے زیادہ منصوبوں کے افتتاح کے باوجود شارٹ فال 2114 میگا واٹ تک کیسے پہنچ گیا۔ اندریں حالات وفاقی حکومت سے یہ سوال کرنا درست ہوگا کہ کیا نندی پور اور بھکی پاور پراجیکٹس غیر فعال ہیں اور اس غیر فعالیت کی وجہ ان پراجیکٹوں کے نا اہل عملے سے پیدا ہونے والی خرابیاں ہیں جو ابھی تک دور نہیں ہو سکیں؟ یہ امر افسوسناک ہے کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی شہری علاقوں میں 6سے8 اور دیہی علاقوں میں 16‘16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جولائی اگست اور ستمبر کی سہ ماہی میں لوڈشیڈنگ میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگا۔ وفاقی حکومت کسی تاخیر کے بغیر صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لے اور لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کے لئے اقدامات کرے۔

متعلقہ خبریں