نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں

نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں

سچ تو یہ ہے کہ چودھری شجاعت حسین نے اپنی آپ بیتی میں جو سچ لکھا ہے اس کے بعد نواز شریف کو یہ سوال چھوڑ دینا چاہئے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ ان کے باربار استفسار پر دھیان اس امر کی طرف جاتا تھا کہ وہ کس سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کو کیوں نکالا۔ عوام کے ذہن اس وقت شفاف ہو جا تے جب وہ یہ کہتے کہ ان کو کس نے نکالا، مگر سچ تو یہ ہے کہ پرویز مشرف کے دور کے ایک سیاسی مرد آہن چودھری شجاعت حسین نے اپنی کتاب سچ تو یہ ہے میں اس بات کی نشاندہی کر دی کہ میاں صاحب کو کیوں نکالا یا کس نے نکالا، چودھری صاحب کتا ب میں انکشاف فرما رہے ہیں کہ 2008ء کو پولنگ سے چند گھنٹے پہلے پاکستان کے فوجی کمانڈو آمر نے ان کو فون کر کے کہا کہ چودھری جی آپ کو تیس چالیس نشستیں ملیں گی ان پر اکتفا کر لینا، کوئی جھنجھٹ مت ڈالنا۔ چودھری جی حیران ہوئے کہ ابھی تو ووٹوں کی گنتی شروع نہیں ہوئی وہ پہلے سے ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ چودھری شجاعت رقم طراز ہیں کہ الیکشن سے دو روز پہلے پرویز الہٰی نے جوبائیڈن، جو بعد میں امریکہ کے نائب صدر بنے، سینیٹر جان کیری جو بعدازاں وزیر خارجہ بنے، چک ہیگل جو بعد میں امریکہ کے وزیر داخلہ بنے سے ملاقات کے دوران کہا کہ اگر ان کی جماعت الیکشن جیت گئی تو امریکہ اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔ پھر جاتے ہوئے سی این این کو بھی بتا گئے کہ مسلم لیگ ق کی کامیابی کو امریکہ قبول نہیں کرے گا جس کی واحد وجہ پی پی کیساتھ این آر او تھا۔ چودھری صاحب مزید لکھتے ہیں کہ بعد میں آرمٹیج نے بھی ان کو ہرانے کی سازش کی تصدیق کی تھی۔ آرمٹیج نے ایک ملاقات میں بتایا کہ الیکشن میں انہوں نے نہیں بلکہ ان کے بہترین دوستوں نے ہروایا ہے جن میں کونڈولیزا رائس بھی شامل تھیں۔ جب استفسار کیا گیا کہ باقی دو کون ہیں تو آرمٹیج نے جنرل پرویز مشرف اور طارق عزیز کا نا م لیا۔
’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں اگر یہ بات سچ ہے تو پاکستان کے آئندہ انتخابات کے بارے میں تجزیہ نگاروں کے تبصروں اور تجزیوں پر کیوں کر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ جس انداز سے آزاد گروپ جنم لے رہے ہیں وہ تو یہ مقدر ظاہر کر رہے ہیں کہ آئندہ وزیراعظم کوئی آزاد پنچھی ہی ہوگا۔آزاد پنچھیوں میں تو اب میر بلخ مزاری کا نام بھی لیا جانے لگا ہے جو جنوبی پنجاب کے آزاد گروپ کے سربراہ بنا دیئے گئے ہیں۔ میر صاحب پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے بلوچ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیشہ ہر سرکار کے وفادار رہے ہیں، اس طرح انہوں نے سچی سرداری روایات نبھائی ہیں۔ ان کے ایک بھائی میر شیر باز خان مزاری تھے جنہوں نے بھٹو مرحوم کے دور میں جمہوریت کے علاوہ نیشنل پارٹی کیلئے اہم ترین کردار ادا کیا تھا جب سپریم کورٹ کی جانب سے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگ گئی اس کے فوری بعد انہوں نے بیگم نسیم ولی خان کیساتھ مل کر نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی داغ بیل ڈالی اور اس طرح انہوں نے کالعدم نیپ کو بکھرنے سے بچا لیا حکومت وقت کے ساتھیوں میں صوبہ کے پی کا ایک بڑا سیاسی نام سیف اللہ فیملی کا بھی ہے، خبر چل رہی تھی کہ اس خاندان کے دو بڑے سیاسی بھائی تحریک انصاف میں اپنی دو رکنی جماعت کو ضم کرنے کی مساعی میں ہیں جس کا جلد ہی اعلان ہو جائے گا مگر ایک اخبار کے بقول وہ پرویز خٹک سے ہاتھ کر گئے اور تحریک میں شامل ہونے کی بجائے پی ٹی آئی سے تعاون پر راضی باضی ہو گئے ہیں اور آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ اس طرح وہ بھی آزاد سیاستدانوں کے کلب میں شامل ہوگئے۔ یہ خاندان مستقبل کے سیاسی حالات کا منجم ہے، ستاروں کی چالوں کو بہت پہلے بھانپ جاتا ہے، آزاد سیاستدانوں کی کھمبیاں اس امر کی غمازی کر رہی ہیں کہ اب سیاست میں اہم کردار انہی کا ہوگا اور معلق پارلیمنٹ کی طرف پیش قدمی شروع ہے۔
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے بھی اس بارے میں سیاسی بصارت کا عمدہ مظاہرہ کیا ہے اور انہوں نے سیاسی دیوار ڈھانے سے پہلے ہی جان لیا ہے کہ تحریک کی دیوار کو کچا کیا جا رہا ہے چنانچہ انتہائی سیاسی انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے نام پر آزاد گروپ دینا یا دیگر سیاسی اہداف کیلئے آزاد منڈلیاں قائم کرنا سمجھ سے باہر ہے، اگر ان کا کوئی مطالبہ یا اہداف ہیں تو وہ ان جماعتوں میں کیوں نہیں شامل ہو جاتے جو ان کے مطالبات کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔
بہرحال یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ جو پتے اُمید بہار میں شجر مسلم لیگ ن سے گر رہے ہیں وہ آزاد حیثیت میں مسلم لیگ ن کیلئے خطرہ نہیں بنیں گے بلکہ وہ پی ٹی آئی کیلئے سوگ کا باعث بن جائیں گے۔ ان کو یہ ہی سوچ وفکر دامن گیر ہو گئی ہے۔جوں جوں انتخابات کے دن گنے جا رہے ہیں یوں یوں عمران خان کا دامن تفکرات سے بھرتا جا رہا ہے، نہ صرف ان کو آزاد خیال کے چال چلن نے اُلجھا رکھا ہے بلکہ ان کی پارٹی کے اندر جو شکست وریخت کا عمل ہے وہ بھی دامن گیر ہے۔اب ان کیلئے یہ مشکل ہے کہ ان کی پارلیمانی پارٹی میں سینیٹ کے انتخابات میں بکنے کے الزام پر بغاوت کا سماں بندھا ہوا ہے۔ اس لیے ان کو بجٹ منظور کرانا ناممکن ہو گیا ہے جس کا توڑ یہ نکالا ہے کہ حکومت کے چند دنوں کا بہانہ بنا کر بجٹ کے امتحان سے خارج ہوا جائے حالانکہ کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ منتخب حکومت نے عبوری حکومت کیلئے بجٹ بنانے کا کام چھوڑ دیا ہو، اگر تحریک انصاف اصولاً رخصتی سے پہلے بجٹ پیش کرتی ہے اور وہ ناراض ارکان کی وجہ سے منظور ہونے کی بجائے مسترد ہو جاتا ہے تو یہ پی ٹی آئی کی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار ہوگا اور حکومت کا بٹہ لگ جا ئے گا۔ کیا خوب شاعر احمق پھپھوندی نے کہا ہے کہ
نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین حسن میں
کہو بلبل سے اب انڈے نہ رکھے آشیانے میں

اداریہ