بجٹ میں تاخیر اورملازمین

بجٹ میں تاخیر اورملازمین

وہ جو ہر سال اس موسم میں جسے یار لوگ بجٹ کا موسم کہتے ہیں ، سرکاری ملازمین اور خصوصاً پنشنرز کوتھوڑ ے بہت عارضی خوشی کے لمحات میسر آجاتے تھے ، ان سیاسی رہنمائو ں نے اب کی بار وہ بھی چھین لئے ہیں ، حالانکہ ہر سال کی طرح گزشتہ کچھ روز سے فلر (Filler)کے طور پر ایک بار پھر ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے حوالے سے بعض حوصلہ افزاء خبریں مختلف اخبارات میں شائع ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جنہیں پڑھ پڑھ کر بے چارے ملازمین دل ہی دل میں امید کی شمعیں روشن کئے ہوئے روپے کی قیمت میں ڈالر کے مقابلے میں ایک بار پھر کمی سے جس مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں اس سے نمٹنے کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے ، ساتھ ہی وہ حسب روایت تنخواہوں اور دیگر مراعات میں معقول اضافے کے حوالے سے مطالبات سامنے لار ہے تھے ، کہ ان کی امید وں پر تحریک انصاف کے سربراہ نے یہ اعلان کر کے پانی پھیر دیا کہ وہ وفاقی حکومت کو نئے سال کا بجٹ پیش کرنے نہیں دیں گے ، موصوف کے اس اعلان نے ادھر خیبر پختونخوا حکومت کو بھی تذبذب کا شکار کر دیا اور بعد میں ان کی جانب سے صوبائی حکومت کو صوبائی بجٹ پیش کرنے سے مبینہ طور پر باقاعدہ منع کرنے کا بھی یہ نتیجہ نکلا کہ گزشتہ روز اس بات کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ سیاسی فائدے کیلئے بجٹ پیش کرنا موجودہ حکومت کا حق نہیں ۔ البتہ چار ماہ کیلئے عبوری بجٹ پیش کیا جا سکتا ہے ، ادھر اس صورتحال نے مرکزی حکومت کو بھی مخمصے میں ڈال دیا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم بھی (آج بروز پیر جب یہ کالم تحریر کیا جارہا ہے )فیصلہ کریں گے کہ بجٹ ان کی حکومت پیش کرے یا نگران حکومت ؟ اور ان سطور کے شائع ہونے تک اس حوالے سے فیصلہ بھی شاید سامنے آچکا ہوگا کہ بجٹ پیش کرنے کی ذمہ داری کس کی ہو گی۔ اگرچہ اصولی طور پر اس بات میں بہت وزن ہے کہ جس حکومت کے پاس اقتدار کے گنتی کے دن ہی رہ گئے ہوں اور اس سلسلے میں الٹی گنتی شروع ہو چکی ہو جسے انگریزی میں کائونٹ ڈائون کہا جاتا ہے تو اسے آنے والے پورے سال کے لئے بجٹ پیش کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ، تاہم اعتراض کرنے والوں کو یہ بھی ضرور دیکھنا چاہیئے کہ جب تک نئی حکومت انتخابات جیت کر اقتدار سنبھال نہیں لیتی ، اگر بجٹ باقاعدہ پیش نہیں کیا جائے گا تو جہاں ایک جانب حکومت کے جاری اخراجات کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکے گا اور سارا کام ٹھپ ہو جائے گا ، تو دوسری جانب پہلے سے منظور شدہ منصوبوں پر بھی کام رک جائے گا ، یہ بات درست ہے کہ نیا بجٹ انہی حوالوں سے محدود ہونا چاہیے اور خصوصاً بڑے منصوبوں کیلئے رقوم مختص کرنے سے احتراز کرتے ہوئے یہ کام آنے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیلئے چھوڑ دینا چاہیئے ، تاکہ جو بھی نئی حکومت آئے یہ اس کی صوابدید ہو کہ وہ اپنے اپنے منشور میں عوام سے کئے ہوئے وعدوں کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے بڑے منصوبوں کیلئے رقوم مختص کر کے ان کو متعلقہ اسمبلیوں سے منظور کرائے ، جبکہ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ انتخابات میں انتہائی کم وقت رہ جانے کے باوجود ابھی تک کسی بھی سیاسی جماعت نے عوام کے سامنے اپنے منشور پیش ہی نہیں کئے ، بلکہ ابھی تک وہ ایک دوسرے کو سیاسی طور پر نیچا دکھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیںموجودہ صورتحال میں اگرچہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ جو عوامی بہبود کے منصوبے پہلے سے شروع کئے جا چکے ہیں کم از کم ان کیلئے اخراجات کو جاری رکھنے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری تو دی جاتی ، بصورت دیگر جہاں موجودہ منصوبوں پر مزید اخراجات پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں ، مثلاً صرف ایک ہی منصوبے یعنی پشاور میں بی آر ٹی منصوبے ہی کو لیجئے ، اگر اس کیلئے اخراجات کی منظوری نہیں دی جائے گی تو کیا یہ منصوبہ رک جانے کا خطرہ نہیں ہوگا ؟ ہو سکتا ہے کہ میرے یہ خدشات غلط ہوں اور ایسا نہ ہو ، یعنی اس حوالے سے آئینی اور قانونی ماہرین ہی بہتر طور پر اظہار خیال کر سکتے ہیں ، تاہم اگر ایسا ہے جیسا کہ گزارش کی جا چکی ہے تو اس منصوبے پر کام ٹھپ ہوجانے کی وجہ سے نہ صرف عوام کو پہلے سے درپیش مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ اخراجات میں معتدبہ اضافہ ہو سکتا ہے ۔رہے سرکاری ملازمین اور پنشنرز ، جن کے حوالے سے ہی اس کالم کا آغاز کیا گیا تھا ، ان کی امید وں پر اوس پڑنے کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے اور وہ یوں کہ جو خبریں سامنے آرہی تھیں ان کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں جس قدر اضافے کی اطلاعات تھیں ، ضروری نہیں کہ آنے والی حکومتیں ان بے چاروں کو اتنا ریلیف دینے پر آمادہ ہو سکیں ، یعنی اب تک تو تنخواہوں میں پندرہ سے بیس فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات میں بھی اضافے کی امید تھی جبکہ پنشن میں 20تا 25فیصد اضافے کی باتیں ہورہی تھیں ، حالانکہ یہ کوئی حتمی فیصلہ بالکل نہیں تھا اور ان خبروں کو دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ہی سمجھا جا سکتا تھا ، مگر اب تو جبکہ بجٹ کو آنے والی حکومت اور چار ماہ کیلئے نگران حکومت کیلئے چھوڑنے کی خبریں گردش میں ہیں تو ضروری نہیں کہ یہ اضافہ گزشتہ برسوں کی طرح دس فیصد سے زیادہ ہو ، بلکہ اگر ’’خزانہ خالی ‘‘ کا بہانہ بنا کر ایک پیسے کا اضافہ بھی نہ کیا جائے تو بے چارے ملازمین کیا کر سکتے ہیں !!۔

اداریہ