پنجابی دوستوں کی جمہوریت پسندی

پنجابی دوستوں کی جمہوریت پسندی

ان دنوں فقیر کو اپنے پنجابی دوستوں پر بہت ترس آتا ہے جو نسلی شائونزم پر نواز شریف کی محبت میں گردن تک دھنسے جمہوریت سیاپے میں مصروف ہیں۔ تین فوجی آمریتوں اور پرویز مشرف کی جرنیلی جمہوریت کے دور میں ہمارے یہی دوست ہمیں حب الوطنی کا چورن استعمال کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ نظریہ پاکستان اور اسلام بھی کبھی ان کے من پسند تھے لیکن ان دنوں نواز شریف سے دنیا شروع ہوتی ہے اور نواز شریف پر ختم۔ کاش جمہوریت‘ دستور‘ نظام انصاف بارے وہ تب بھی بولتے جب چھوٹے صوبوں اور مظلوم اقوام کے رہنمائوں میں سے کوئی لیاقت باغ کے اندر سٹیج پر گولی کا شکار ہوتا‘ کوئی راولپنڈی کی جیل میں پھانسی چڑھتا‘ کسی کو لیاقت باغ کے باہر دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا اور کوئی بیروت کے ہوٹل میں مردہ پایا جاتا۔ ہمارے یہ دوست ان دنوں طعنہ دیتے ہیں کہ ہم نواز شریف کی دشمنی میں جمہوریت مخالف قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب ہم ان سے کہتے تھے کہ احتساب کے بلا امتیاز نظام کی ضرورت ہے تو جواب ملتا تھا آپ لوگ اصل میں ریاست کے محافظ اداروں کے لئے اپنے اندر موجود بغض کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اب کیا ہوا‘ اسلام نظریہ پاکستان اور حب الوطنی کے ان سکہ بند محافظوں کو کایا کلپ ہوگئی ان کی۔ سول و ملٹری اشرافیہ اور عدالتی نظام سمیت ہر چیز میں کیڑے دکھائی دینے لگے؟ جناب نواز شریف جس جگہ آج کھڑے ہیں یہاں تک وہ بہت محنت سے پہنچے ہیں۔ فقیر کی ان سے ذاتی عداوت بہر طور نہیں طرز حکومت متکبرانہ انداز اور سب خرید لو کے جنون سے اختلاف ہے اور یہ کسی بھی دوسرے رائے دہندہ کی طرح ہمارا حق ہے۔ 1997ء میں جب ان کے نادر شاہی حکم پر میرے بڑے بھائی سید اسد محمود بخاری کو پی آئی اے سے برطرف کیا گیا تھا تو اس دن سے آج تک کبھی ان سے شکوہ نہیں کیا۔ جناب زرداری کے دور میں سینکڑوں لوگ بحال ہوئے میرے بھائی کی بحالی کی فائل کیوں روک دی گئی اس پر کبھی پیپلز پارٹی سے شکوہ نہیں کیا۔ قبلہ گاہی پرویز مشرف نے سرکاری کارندوں کے ذریعیگیڈر کٹ لگوائی تو رویانہ شکوہ کیا۔ صحافت کے کوچہ میں پہلے دن کا سبق یہ تھا کہ اگر اپنی فکر کے مطابق چلو گے تو قربانی دینا پڑے گی۔ ساڑھے چار دہائیوں کے صحافتی سفر میں پانچ سال حوالاتیں‘ عقوبت خانے‘ لاہور کا شاہی قلعہ اور جیلیں بھگت لیں۔ شکوہ کیا نہ احسان جتایا۔ شہری کے طور پر پہلی محبت نیشنل عوامی پارٹی تھی اب بھی ہے نیپ کی تازہ صورت اے این پی ہے۔ بہت سارے شکوئوں کے ساتھ یہ محبت قائم ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ہماری نسل کے اذہان کو متاثر کیا بشری خامیوں کے باوجود وہ آج بھی محبوب و محترم ہیں۔ ان تمہیدی سطور کا مقصد یہ ہے کہ صحافت ذاتی محبتوں اور دشمنیوں پر نہیں ہوتی۔ ان سطور میں ایک نہیں کئی بار عرض کر چکا کہ بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں اور قوم پرستوں نے خود کو فرقہ پرستوں کی طرح بنا لیا ہے۔ رہی جمہوریت تو وہ اس ملک میں تھی کب جس کی دشمنی میں منہ کالا کیا جائے؟ طبقاتی نظام کی ساجھے دار اشرافیہ جمہوریت کی علمبردار بھی ہوتی ہے اور فوجی حکومتوں کا ہر اول دستہ بھی۔ ستر سال کی تاریخ کے جرائم کو چھوڑئیے پچھلے دس برسوں پر بات کرلیجئے لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے‘ صحت ‘ تعلیم اور روز گار کی حکومتی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے کیاکیا گیا؟ 17جون 2014ء کو پیش آنے والے اس المناک سانحہ میں 14 مرد و زن اپنی جانوں سے گئے 100کے قریب زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں دو خواتین تھیں ان میں سے ایک کے چہرے اور منہ میں براہ راست گولیاں ماری گئیں۔ محبان نواز شریف و جمہوریت نے کب اور کس لمحے اس بربریت کی مذمت میں دو لفظ کہے؟ یہ ضرور ہوا کہ اس سانحہ کو اداروں کی سازش قرار دیاگیا۔ کہا گیا کہ کوئی طاقت جمہوریت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ ٹی وی سکرینوں پر گولیاں چلانے والوں کے چہرے ہزاروں لاکھوں لوگوں نے دیکھے 4سال ہونے کو ہیں ایک مجرم کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ بہت احترام سے یہ دریافت کیا جاسکتا ہے کہ قاتلوں اور منصوبہ سازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مقاصد کیا تھے۔ یہ کیسی جمہوریت تھی جو14معصوم لوگوں کے خون پر پلی پھلی پھولی؟ ویسے جو کام کرپشن اور تجاوزات پنجاب کے لیڈروں کے لئے حلال ہیں اور دفاع میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں ان پر سماجی اقدار اور سیاسی روایات کی روشنی میں پنجابی دوست بات کیوں نہیں کرتے۔ جان کی امان ہو تو عرض کروں بھارت دوستی کل حرام اور آج حلال کیوں ہے۔ نواز شریف کی محبت میں تقسیم پنجاب (1947ء والی تقسیم) سے کہانی شروع کرنے کی وجہ کیا تھی۔ عدالتی فیصلے پیپلز پارٹی کے لئے سو فیصد حلال اور اب شریفوں کے لئے حرام کیوں ہیں۔ حضور! یہ جمہوریت نہیں ایک خاندان کی اطاعت ہے لگے ہوئے روز گار کی محبت ہے۔ باقی باتیں رہنے دیجئے۔ یاد آیا جب جنرل خالد مقبول نیب کے سربراہ تھے تو ایک بار ان کی خدمت میں عرض کیا تھا حضور کرپٹ لوگ زندگی کے سارے شعبوں میں ہیں آپ ایسی قانون سازی کیوں نہیں کروالیتے کہ نیب ہمہ قسم کے چوروں پر ہاتھ ڈالے اور انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے۔ انہوں نے بلند و بانگ دعوے کئے لیکن چند دنوں میں ایک چودھری اور ایک مولوی کی فائل بند کردی پھر نیب نے پیپلز پارٹی کے اندر سے محب وطن تلاش کرکے جمالی کی حکومت بنوالی۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ طبقاتی نظام کو جمہوریت کہنا ایسے ہی ہے کہ کتا کنویں میں رہے اور 40ڈول پانی نکال لیا جائے۔

اداریہ