شام کا المناک حال اور امت مسلمہ

شام کا المناک حال اور امت مسلمہ

اس کائنات میں جب انبیاء کرام ؑ کی تعلیمات سے انحراف کیاگیا ہے ، انسانیت نے ناقابل تلافی نقصان اُٹھایا ہے ۔ قرآن حکیم میں اُن اقوام کا ذکر کہیں تفصیلاً اور کہیں اجمالاً آیا ہے ۔ جنہوں نے انبیاء کرام ؑ کی نافرمانی اور ظلم وعدوان کے سبب تباہی وبربادی کا سامنا کیا ہے ۔ قوم لوط ؑ،قوم فرعون ، قوم ہاد و ثمود ،ایکہ اور رس اور تبع اور آخرمیں مکہ مکرمہ کے نافرمان قریش اور مدینہ منورہ کے یہودی قبائل کا ذکر قرآن کریم اورکتب تاریخ میں موجود ہے ۔ خاتم النبیین ؐکی بعثت کے بعد جب تک اُمت مسلمہ دین اسلام پر انفرادی اور اجتماعی طور پر عمل پیرا رہی، کامیاب وکامران اور عزت و وقار کی حامل رہی ۔ لیکن جب بھی اور جس دور اور عصر میں انحراف کیاتباہی وبربادی کا سامنا کرنے کے علاوہ ذلیل ورسوا ہو کررہی ۔ بغداد میں ہلاکو، مشرق وسطیٰ میں مغربی استعمار ، وسطیٰ ایشیاء میں اشتراکی روس اور ڈھاکہ میں آروڑہ کے ہاتھوں مسلمان امت کا جو حال بد ہواوہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہے ۔ پہلی او ردوسری جنگ عظیم میں کروڑوں انسان اس لئے لقمہ اجل بنے کہ مغربی اقوام میں انانیت‘ خود غرضی‘ مفاد پرستی اور وسائل پر قبضہ کرنے کی حرص اور لالچ نقطہ عروج پرپہنچ چکی تھی۔ آسٹریا کے ایک شہزادے کے قتل پر بہانے پہ بہانے بنتے چلے گئے اور یورپی اقوام دو گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک دسرے کے خلاف خوب لڑیں۔ پہلی جنگ کے بعد بھی چونکہ یورپ میں شیطانی جراثیم (Evil germs) باقی تھے جس کے سبب دوسری جنگ عظیم برپا ہوئی۔ ان دو جنگوں نے مغرب کو جنگوں کی ہولناکی دکھائی۔ اس کے بعد سرد جنگ شروع ہوئی تو امت مسلمہ دو بلاکوں( سرمایہ دارانہ اور اشتراکی) میں بٹ کر امریکہ اور روس کی حاشیہ بردار بن گئی۔ سوویت یونین کے انہدام و انتشار کے بعد امریکہ واحد سپر پاور بنا تو عراق‘ ایران اور دیگر عرب ممالک عرب بہار کے نام پر بکھر کر رہ گئے۔ عراق‘ لیبیا‘ مصر اور افغانستان میں اس دوران جو کچھ ہوا وہ ایک قطبی دنیا کے سپر پاور کے شاخسانے تھے۔ اس دوران روس اپنے اندرونی زخموں کی مرہم پٹی اور سہلانے میں مشغول رہا اور دنیا میں برپا ہوتی انہونیوں کی طرف زیادہ توجہ نہ دے سکا۔ لیکن اس دوران وہ دوسری طرف بہت سکون ٹھنڈے دماغ اور حکمت عملی کے ساتھ امریکی چالیں بغور دیکھتے ہوئے نوٹ کرتا رہا۔ امریکہ نے ایک طرح سے روس سے ’’فراغت‘‘ حاصل کرکے چین کے ساتھ علاقائی( تائیوان اور بعض سمندری حدود وغیرہ) اور معاشی چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ روس اگرچہ بالواسطہ طور پر امریکہ مخالف کیمپ کی سیاسی و سفارتی سپورٹ کرتا رہا لیکن سامنے آنے سے بوجوہ گریز کرتا رہا۔ البتہ یوکرائن‘ کریمیا وغیرہ پر کھل کر امریکہ اور یورپی یونین کے سامنے آیا اور اتحادیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔شام کے حوالے سے بھی روس ایک وقت تک حالات کا معائنہ کرنے ہی میں لگا رہا لیکن پھر جب امریکہ‘ بعض مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ زو فرانس ‘ ترکی اور ایران و سعودی عرب سب اس انسانیت سوز کھیل میں شامل ہوتے چلے گئے تو روس بھی طویل مدتی خواب سے بیدار ہو کر شام میں خم ٹھونک کر سامنے آگیا۔ سرد جنگ میں روس‘ شام کا سر پرست رہا تھا۔ شاید امریکہ کی دندناہٹ کو لگام ڈالنے کے ساتھ ایک اہم وجہ پرانے تعلقات کی تجدید کا بھی تقاضا تھا۔ لیکن یہاں روس کے کردار کو مدھم‘ مبہم بلکہ انسانیت کے خلاف ثابت کرنے کے لئے یہ واقعہ کافی تھا کہ شام میں دوسری بار کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال ہوا۔ بس امریکہ نے اپنے دو اتحادیوں کے ساتھ شام پر سو کے قریب کروز میزائل داغ دئیے۔ روس چین اور ترکی نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے اور روس نے مناسب وقت میں جواب دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ جرمنی‘ اٹلی اور دنیا کے دیگر کئی ممالک نے غیر جانبدار رہنے کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھی غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب‘ مصر‘ متحدہ عرب امارات وغیرہ نے امریکی حملے کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ داد بھی دی ہے۔ اب شامی عوام اور مسلمان امت کی بد قسمتی دیکھئے کہ ایک طرف سے شامی حکومت اپنے عوام پر بد ترین کیمیاوی ہتھیاروں کے ساتھ حملہ آور ہے اور دوسری طرف کیمیاوی ہتھیاروں کا بدلہ لینے کے لئے امریکہ شام پر میزائل کی بارش کر رہا ہے۔ ترکی‘ امریکی آشیر واد کے پروردہ کردوں کو مار رہا ہے۔ سعودی عرب بشار الاسد کی مخالفت میں جائز و ناجائز کی تمیز کرنے سے عاجز ہے۔ ستم ظریفی‘ ظلم و عدوان کی انتہادیکھئے کہ امت مسلمہ کے حکمرانوں کی بے حسی‘ عاقبت نا اندیشی کہ غیر مسلم قوتیں اور طاقتیں کبھی ایک ملک اور کبھی دوسرے کے بخیے ادھیڑ رہے ہیں اور کوئی ایک طاقت کا حمایتی اور کوئی دوسرے ملک اور سپر پاور کے حمایتی۔ اور کوی غیر جانبدار تماشائی بن کر کھڑا ہے۔ہمارا لبرل اور مغرب پرست طبقہ بجا کہہ رہا ہے کہ امت اسلامی تو کب کی مرچکی ہے لیکن ہم پھر بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید کہیں سے تو کوئی نجات دہندہ بن کر آئے ۔

اداریہ