آئین کی اٹھارہویں ترمیم آٹھ سال بعد

آئین کی اٹھارہویں ترمیم آٹھ سال بعد

ٓآٹھ سال پہلے19 اپریل2010ء کو اُس وقت کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے آئینِ پاکستان کی اٹھار ہویں ترمیم پر دستخط کئے تھے جو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر پہلے ہی منظور ہو چکی تھی۔ پاکستان کی آئینی تاریخ میں سنگِ میل کا درجہ رکھنے والی یہ ترمیم 97 شقوں پر مشتمل ہے ۔ اٹھارہویں ترمیم 1973ء کے آئین کے بعد اس حوالے سے کی جانے والی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اس ترمیم نے صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم کے درمیان اختیارات کے عدم توازن کا خاتمہ کیا اور تمام اختیارات وزیرِ اعظم کو واپس کرتے ہوئے پارلیمانی نظام کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا۔ مذکورہ ترمیم میں انتخابی اصلاحات بھی متعارف کروائی گئیں جن میں الیکشن کمیشن کو کل وقتی ممبران پر مشتمل ایک مستقل ادارہ بنایا گیا ۔ اس ترمیم کے تحت سرکاری عہدیداروں کے اختیارات میں کمی سمیت فوجی آمروں کے آئین پر چھوڑے جانے والے نقوش کو بھی مٹایا گیا۔ اٹھارہویں ترمیم کا سب سے اہم پہلو صوبوں کو دی جانے والی خود مختاری اور وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک نئے تعلق کی بنیاد رکھنا تھا۔سیاست دانوں، سیاسی تجزیہ کاروں ، گورننس کے ماہرین اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ صوبوں کو خودمختاری دینے کے حوالے سے اس ترمیم کے تحت کئے جانے والے اقدامات اس قدر اہمیت اختیا رکرچکے ہیں کہ وفاق کو احسن طریقے سے چلانا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اسی طرح کی ایک بحث چھوٹے صوبوں کی جانب سے بھی شروع کی گئی ہے جو صرف دفاع، خارجہ پالیسی اور کرنسی جیسے تین اہم امور ہی وفاق کے دائرہِ اختیار میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے وفاقی حکومت کے اختیارات میں کمی کے حوالے سے دیئے جانے والے ایک بیان، جس کی بعد میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جزوی تردید بھی کی گئی ہے، کے بعد اس بحث کی شدت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔حال ہی میں سپریم کورٹ نے انڈسٹریل ایکٹ 2012ء کے لاگو ہونے کے خلاف کی جانے والی اپیلوں کو مسترد کر دیا ہے جس کے بعد اٹھارہویں ترمیم کے تحت وفاق کی ذمہ داریوں ، خصوصاً بین الاقوامی ذمہ داریوںکے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے پیمراا ور اوگرا جیسی وفاقی ریگولیٹری اتھارٹیز کے حوالے سے وفاقی حکومت کے اختیار کو محدود کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق کسی بھی ریگولیٹری اتھارٹی کو کسی وزارت کے ماتحت لانے سے پہلے کونسل آف کامن انٹرسٹ(سی۔ سی۔ آئی )سے اس کی منظوری لی جانا ضروری ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹری کمیٹی آن کانسٹیٹیوشنل ریفارمز کے دو ممبران ـ، ایس ۔ایم۔ظفر اور وسیم سجاد، نے سی۔سی۔آئی کوـ’’ حکومت کے اندر ایک اور حکومت‘‘ کہا تھا۔ اگر ہم اٹھارہویں ترمیم کے آغاز اور اختیارات کی ایوانِ صدر سے وزیرِ اعظم ہائوس کو منتقلی کی بات کریں تو ہمیں آصف علی زرداری کو اس کا کریڈٹ ضرور دینا ہوگا۔پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں اس امر کی تعریف بھی کرنی چاہیے کہ ایک سیاسی عمل کے تحت اٹھارہویں ترمیم کو احسن طریقے سے آئینِ پاکستان کا حصہ بنایا گیا۔اس ترمیم کے کمیٹی میں شامل ممبران نے جس بالغ نظری سے سیاسی مخالفت کا سامنا کیا وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔ جہاں ہمیں اس اہم آئینی ترمیم کے آٹھ سال گزرنے کے بعد اس پر خوشی منانی چاہیے وہاں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس ترمیم کی تیاری کے سیاسی عمل میں کمزوریاں کہاں نظر آئی ہیں۔ اگرچہ آئینی ترمیم کے لئے بنائے جانے والی کمیٹی کی کارگزاری کو خفیہ رکھا جانا قابلِ فہم ہے لیکن پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد اس ترمیم پر پارلیمانی اور عوامی بحث کو مختصر کیا جانا انتہائی ناقابلِ فہم امر ہے۔قومی اسمبلی نے اس ترمیم پر صرف دو دن بحث کی جس میں قومی اسمبلی کے 342 ممبران میں سے صرف 18ممبران نے شرکت کی ۔دوسری جانب اس حوالے سے سینٹ میں صورتحال بہتر رہی جہاں چار دنوں تک اس ترمیم پر بحث کی گئی جس میں 60 سینیٹرز نے حصہ لیا۔ اگر اس ترمیم کا 1973 ء کے آئین سے موازنہ کیا جائے تو اُس وقت دو مہینے اور سات دنوں تک 1973ء کے آئین پر بحث ہوتی رہی تھی۔اسی طرح آئین کی آٹھویں ترمیم پر کی جانے والی پارلیمانی بحث 41 دن طویل تھی اور آئین کی دوسری ترمیم پر کی جانے والی بحث دو مہینوں تک جاری رہی تھی۔اگرچہ سینٹ مجموعی پارلیمان کا 23 فیصد ہے لیکن آئینی ترمیم کی کمیٹی میں اس کے ارکان کی شرح اس سے دوگنا زیادہ تھی۔ اسی طرح دونوں ایوانوںمیں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ۔ن اور پاکستان مسلم لیگ ۔ق کے اراکین کی شرح 75 فیصد تھی لیکن کمیٹی میں ان سیاسی جماعتوں کی نمائندگی11 سے 42 فیصد تک تھی۔ان سب خامیوں کے باوجود اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اٹھارہویں ترمیم ایک انتہائی احسن اقدا م تھا جس سے نہ صرف وفاقِ پاکستان بلکہ جمہوریت کی جڑیں بھی مضبوط ہوئیں ۔ آٹھ سال گزرنے کے بعد جہاں ہمیں اس ترمیم کی خوشی منانی چاہیے وہیں پر ہم سب اور خصوصاً سیاسی جماعتوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس ترمیم پر مکمل عمل درآمد پر کیاکوتاہیاں ہوئی ہیں اور ان پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ