مشرقیات

مشرقیات

حضرت امیر معاویہؓ چونکہ خود شام میں تھے اس لئے روم کی حکومت سے ان کی اکثر جنگ رہتی تھی۔ روم اس وقت کی سر پاور اور عظیم سلطنت تھی۔ ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ نے روم کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرلیا۔ تاریخ طے ہوگئی کہ اس تاریخ تک دونوں فریقوں میں سے کوئی جنگ نہیں کرے گا۔ ابھی جنگ بندی کا یہ معاہدہ ختم نہیں ہوا تھا۔ اس وقت حضرت معاویہؓ کے دل میں تدبیر آئی کہ معاہدے کی تاریخ ختم ہونے سے پہلے میں مسلمانوں کی فوجیں روم کی سرحد پر لے جا کر ڈال دوں اور جیسے ہی جنگ بندی کی تاریخ ختم ہو ہم فوراً حملہ کردیں۔ دشمن کی سرحد تک فوجیں لانے میں وقت لگے گا۔ وہ اس اچانک حملے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔
چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔جیسے ہی مقررہ تاریخ کا سورج غروب ہوا انہوں نے فوراً اپنے لشکر کو پیش قدمی کا حکم دے دیا۔ یہ تدبیر بڑی کامیاب ہوئی اور مسلمانوں کا لشکر شہر کے شہر‘ بستیوں کی بستیاں فتح کرتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ اسی دوران ایک دن دیکھا کہ ایک گھڑ سوار دوڑتا ہوا ان کی طرف آرہا ہے۔جب وہ سوار قریب ہوا اور آوازیں دینا شروع کیں۔
’’اللہ اکبر‘ اللہ کے بندو ٹھہر جائو! اللہ کے بندو! ٹھہر جائو۔‘‘
یہ سوار مشہور صحابی حضرت عمرو بن عبسہؓ تھے۔ انہوں نے فرمایا:’’ عہد پورا کرو‘ غداری مت کرو۔‘‘ حضرت معاویہؓ نے فرمایا: ہم نے کوئی عہد شکنی نہیں کی‘ معاہدہ ختم ہونے کے بعد حملہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت عمرو بن عبسہؓ نے فرمایا کہ تم نے مدت ختم ہونے سے پہلے اپنی فوجیں سرحد پر لا کر کھڑی کردی تھیں۔ یہ رسول اکرمؐ کے فرمان کے خلاف ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:ترجمہ: ’’ جب تمہارا کسی قوم سے معاہدہ ہو‘ اس وقت تک عہد نہ کھولو اور نہ باندھو جب تک اس کی مدت نہ گزر جائے یا وہ اس کے سامنے صاف طور پر اعلان کردے کہ ہم نے وہ معاہدہ ختم کردیا۔‘‘ اس لئے رومیوں کو اطلاع دئیے بغیر سرحد پر فوجیں لانا حضور اکرمؐ کے اس ارشاد کے مطابق آپ کے لئے جائز نہیں تھا۔
جب رسول اکرمؐ کا یہ ارشاد کان میں پڑا‘ حضرت معاویہؓ نے اس وقت اپنے نفس سے کوئی تاویل نہیں کی کہ اتنا بڑا فتح کیا ہوا علاقہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ انہوں نے فوراً اپنے لشکر کو حکم دیا کہ جتنا علاقہ فتح کیا ہے وہ سب واپس کردو۔
(جامع ترمذی‘ جلد اول‘ رقم 1646‘ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے)
اب پوری دنیا کی تاریخ میں قوموں کی فتح و شکست کے ریکارڈ چھان کر دیکھ لیجئے کوئی قوم ایسی نظیر پیش نہیں کرسکتی کہ محض وعدے کی پابندی کی وجہ سے مفتوحہ علاقہ واپس کردیاگیا ہو۔ وجہ یہی ہے کہ اس فتح سے نہ کسی ملک پر حکومت کرنا مقصود تھا اور نہ کوئی اقتدار حاصل کرنا مقصود تھا بلکہ مقصود صرف حق تعالیٰ کو راضی کرنا تھا۔

اداریہ