Daily Mashriq


حیات آباد ، دہشتگردوں کیخلاف غیر معمولی طویل آپریشن

حیات آباد ، دہشتگردوں کیخلاف غیر معمولی طویل آپریشن

پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایک مکان میں چھپے دہشت گردوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان گزشتہ رات سے جاری طویل مقابلہ اختتام پذیر ہوچکا ہے پانچ دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچائے جا چکے۔ دہشت گردوں کو گھیر کر کیفر کردار تک پہنچانے کے واقعے میں پولیس اہلکار کی شہادت ضرور ہوئی ہے لیکن پولیس اور آرمی کے جوانوں کی طویل کارروائی سے جہاں دہشت گردوں کے منظم گروہ کاخاتمہ ہواہے وہاں اس سے عوام میں تحفظ کا احساس بھی بڑھنا فطری امر ہوگا ۔گوکہ اس قسم کے واقعے پر وقتی طور پر لوگوں میں خوف وہراس پیدا ہونا فطری امر ہے لیکن آپریشن کے اختتام پر اس تشویش کااطمینان میں تبدیلی ہونا فطری امر ہے۔ اگرچہ یہ آپریشن نہایت احسن طریقے سے مکمل ہوچکا لیکن اس آپریشن کی طوالت شکوک اور سوالات کا باعث ضرور ہے ایک گھر میں محصور چند دہشت گردوں پر قابو پانے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ گنجان آبادی والا علاقہ تھا جس کے مکینوں کے تحفظ کیلئے احتیاط کے تقاضے پورے کئے گئے بہرحال ابھی تک پوری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں ممکن ہے اُن کے سامنے آنے سے شکوک وشبہات کا ازالہ ہواس طرح کے واقعات کا شہر کی ایک جدید بستی میں ہونا خود ہمارے اداروں اور پولیس کی کارکردگی پر اگرچہ ایک طرف سوالیہ نشان ہے تو دوسری طرف بہرحال یہ کریڈٹ بھی انہی کو جاتا ہے کہ ان دہشت گردوں کا سراغ لگا کر اُن کو ٹھکانے لگا دیا گیا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کے اس منظم گروہ کا سراغ لگانے اور جان پرکھیل کر کیفر کردار تک پہنچانے کا یہ عمل اتنا سہل نہیں یہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بڑی کامیابی ملی ہے اگر خدانخواستہ ان افراد کے خلاف اب بھی کارروائی نہ ہوتی اوروہ مزید ایک دو دن پوشیدہ رہنے میں کامیاب ہوجاتے تو ممکن ہے کہ حیات آباد میں کوئی اور بڑا واقعہ رونما ہوتا۔ حیات آباد میں پولیس افسران ،ججوں اور سرکاری افسران کو نشانہ بنانے کی جو کارروائیاں ہوتی رہی ہیں ان میں اس گروہ کا ملوث ہونابہت حد تک ممکن ہے۔اگر ہم حیات آباد فیز7کے اس علاقے کاجائزہ لیں تو یہ علاقہ ایک جانب جہاں تھانہ تاتارا سے زیادہ دور نہیں تو دوسری جانب ضلع خیبر کی حدود سے متصل دیوار کے اس پار واقع ہے جہاں سے ان دہشت گردوں کی آمدورفت اور اسلحہ کی منتقلی بآسانی ممکن تھا۔ حیات آباد کے گرد چاردیواری کی جگہ جگہ سے شکستگی اور خاص طور پر آمدورفت کیلئے دیواروں میں گزرنے کے باعث سوراخ ،کانٹا تار توڑ کر دیوار پھلانگ کر آنے اور جانے کی عدم روک تھام کا جو سلسلہ باوجود نشاندہی اور عوامی مطالبات کئے جاری ہے اس واقعے کے بعد اس کی گنجائش نہیںہونی چاہیئے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حیات آباد کی چاردیواری کی ہنگامی طور پرمرمت کی جائے اور غیر قانونی آمدورفت کی مکمل روک تھام کی جائے۔ حیات آباد کی چاردیواری کے ساتھ فر نٹیئرکانسٹیبلری کے پکٹ تو مناسب فاصلے پر بنے ہیں اور نفری بھی موجود ہوتی ہے لیکن ان کی موجودگی اور عدم موجودگی میں اس لئے زیادہ فرق نہیں کہ ایف سی اہلکار اپنے مشاغل میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ دیوار پھلانگنے والے منشیات فروشوں اورسماج دشمن عناصر سے ذرا بھی تعرض نہیں کرتے۔ حیات آباد میں پولیس گشت کا نظام بھی کمزور ہے سیف حیات آباد اور پولیس کے درمیان ہم آہنگی کی بجائے عدم تعاون کی کیفیت ہے ۔سیکورٹی کیمروں کی فعالیت بھی یقینی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ضلع خیبر کی سمت اور اچینی کی طرف سے حیات آباد میں غیر قانونی داخلے کی روک تھام کر کے سیکورٹی کی صورتحال بہتر بنائی جاسکتی ہے۔کباڑاکٹھا کرنے والوں اور دیگر چھوٹے موٹے کاروباری افراد کی شناخت اور رجسٹریشن کے بعد کام کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کاریکارڈ رکھا جائے تو ان کے بھیس میں دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر کی آمدورفت کی بہتر روک تھام ہوسکتی ہے ۔ ان سطور کی تحریر کے وقت مستند ذرائع سے دہشت گردوں کی تعداد آمد اور سکونت کے حوالے سے اطلاعات نہیں بعض ذرائع نے ان کا تعلق داعش اور طالبان سے بتایا ہے ایک کا تعلق قریبی ضلع خیبر کے علاقے سے بتایا گیا ہے۔ بہرحال یہ اطلاعات اپنی جگہ جو اصل واقعہ رونما ہوا ہے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو کارروائی کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ اس طرح کے مشکوک افراد کی علاقے میں موجودگی کی اطلاع دینے کی ذمہ داری میں شہریوں کا بھی کردار ادا کرنا اہم قدم ہوتا ہے۔ شہری اگر اپنی اس ذمہ داری کو سمجھیں تو اس قسم کے عناصر کا زیادہ دیر خود کو پوشیدہ رکھنا ممکن نہ ہوگا۔بہتر ہوگا کہ حیات آباد میں مکینوں کی شناخت اور ریکارڈ کا ایک مرتبہ پھر گھر گھر جا کر جائزہ لیا جائے اور مشکوک عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جس کے ساتھ ساتھ حیات آباد آمد واخراج کے راستوں کی پوری طرح نگرانی میں تساہل کا مظاہرہ نہ ہو تاکہ محولہ قسم کے واقعات کی پیشگی روک تھام ہوسکے۔

متعلقہ خبریں