Daily Mashriq


قانون کے بعد عمل کا میدان

قانون کے بعد عمل کا میدان

صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخواکنٹرول آف نارکوٹکس بل2019 کی منظوری دیتے ہوئے نوجوان نسل کو آئس کی خریدوفروخت کرنے والوں کے لئے مختلف سزائوں کا اعلان کر کے اُس خلا کو کسی حد تک پر کرنے کی کوشش کی ہے جو نئی نئی نشہ آور اشیاء کے باعث پیدا ہوا اورقانون کی عدم موجودگی کے باعث ایک طرف موت کے سوداگر انہیں آزادی سے نوجوان نسل کو منتقل کرتے رہے تو دوسری طرف اس آزادی کو سلب کرنے کے لئے جرائم کی بیخ کنی کرنے والے اداروں کے بھی ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔اب جہاں قانون کی منظوری سے یہ ادارے معاشرے میں آئس کے بڑھتے رجحان کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے تو ان کے پاس قانون کی عدم موجودگی کا کوئی بہانہ نہیں رہے گا۔تاہم ساتھ ہی اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے کے لئے ان اداروں کی ضروریات کا ادراک بھی کرنا ہوگا۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ منشیات کی روک تھام کے لئے ادارے بھی کھڑے کئے گئے ہیں اور جو نشہ آور اشیاء عشروں سے ملک بھر میں گردش کررہی ہیں ان کے خاتمے کے لئے قانون سازی بھی وقتاًفوقتاًہوتی رہی ہے تاہم سماج دشمن عناصر نے قانون پر عمل درآمد کے ذمہ دار اداروں میں نقب لگا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے ہیں اور ہم طویل عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرح کی قانون سازی کے بعدبھی پہلے سے موجود نشہ آور اشیاء میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آتا رہا ہے۔اس لئے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کسی منشیات کی تیاری یا فروخت پر سزائوں کا اعلان کر کے خود کو بری الذمہ قرار دے دیا جائے سزائوں اور قانون سازی کی منظوری اپنی جگہ اہم تاہم اس سے بھی بڑھ کر اہم ترین چیزان اداروں کی تطہیر ہے جو قانون پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان اداروں کی اصلاح احوال پر پوری سنجیدگی سے توجہ دی جائے تو قانون کی لاٹھی کا سامنا نئی نئی نشہ آور اشیاء متعارف کرانے والے نہیں کرسکیں گے۔ امید کی جانی چاہیئے کہ حکومت صرف قانون کی منظوری پر اکتفا کر کے اس ذمہ داری سے ہاتھ نہیں اٹھائے گی۔

قبائلی اضلاع انتخابات، خواتین کی شرکت ہونی چاہیئے

الیکشن کمیشن نے قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میںانضمام کے بعد صوبائی اسمبلی کی 16نشستوں کے لئے تاریخی انتخابات کے سلسلے میںاپنی تیاری کو حتمی شکل دیتے ہوئے ریٹرنگ افسران کی تعیناتی کا اہم اقدام اٹھایا ہے ۔قبل ازیں اور تازہ ترین اقدامات کو دیکھتے ہوئے امکان غالب ہے ان نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے لئے رواں ماہ شیڈول جاری کردیا جائے گا۔ یہ امکان اس لئے بھی جاندار ہے کہ الیکشن کمیشن کی انہی تیاریوں کو دیکھ کر حکمران جماعت کے قائدین نے قبائلی اضلاع کا پے بہ پے رخ کیا ہے تاہم دوسری طرف سوائے جے یو آئی(ف) کے کسی بھی اپوزیشن جماعت نے قبائلی اضلاع کا رخ نہیں کیا۔اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی انتخابات کے مرحلے سے گزر رہی ہیںاور شاید الیکشن کمیشن کا شیڈول آتے آتے یہ جماعتیں انٹرا پارٹی انتخابات سے فارغ ہو کر قبائلی اضلاع میں مہم جوئی پر روانہ ہو جائیں۔ بہر حال انضمام کے بعد سیاسی عمل میں قبائلی عوام کی شرکت کی راہ اب کھل چکی ہے اس لئے سب کواب الیکشن کمیشن کی ممکن مدد واعانت کرنی چاہیئے۔الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ ان جماعتوں کی مقامی قیادت بھی ووٹ کے تقدس اور اسکے استعمال سے متعلق آگہی پھیلانے کا کام بخوبی کرسکتی ہے ۔اصل مسئلہ ان علاقوں میںانتخابات کاانعقاد نہیں بلکہ ہر طبقے کی اس عمل میں شفاف شرکت یقینی بنانا ہے خاص کر خواتین ووٹرز سے متعلق شعور اور آگہی پھیلانے کی جتنی ضرورت ان علاقوں میں ہے کہیں اور نہیں ۔ ماضی میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں خواتین ووٹرز کو گھر تک محدود رکھنے کے معاہدے سامنے آتے رہے ہیں قبائلی اضلاع کی خواتین کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے کیسے قائل کرنا ہے اصل مسئلہ یہی ہے اور اسی کو انتخابات کی تیاری کے پیش نظر سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیئے۔ اس سلسلے میں تمام سیاسی جاعتوں کی مرکزی قیادت اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے سامنے اگر یہ تجویز رکھی جائے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران جلسے جلوسوں سے خطاب کرتے ہوئے خواتین ووٹرز کو خاص طور پر مخاطب کریں تو اس سے حوصلہ افزاء نتائج مل سکتے ہیں۔

پابندی کے باوجود پلاسٹک کے تھیلوں کی فروخت

خیبر پختونخوا میں پابندی کے باوجود غیر تحلیل پلاسٹک سے بنے شاپنگ بیگز اور دوسری مصنوعات کی تیاری اور خرید وفروخت حکومتی احکامات اور پابندی کو ہوا میں اڑا دینے کے مترادف ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے اگرچہ بعض مقامات پر پابندی کو موثر بنانے کیلئے نظر آنے والے اقدامات ہورہے ہیںلیکن جب تک مکمل طور پر پابندی کو روبہ عمل نہیں لایا جاتا جزوی اقدامات لاحاصل رہیں گے۔

متعلقہ خبریں