Daily Mashriq

معاشی کلائی مروڑنے کا منصوبہ

معاشی کلائی مروڑنے کا منصوبہ

ملک کے ایک انگریزی اخبار کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے عالمی ادارے آئی ایم ایف اور اس پر اثر رسوخ رکھنے والے ممالک کی طرف سے پاکستان کی معاشی کلائی مروڑنے کی خوفناک حکمت عملی پر سے نقاب اُٹھایا ہے ۔انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ( آئی ایم ایف)اب سانتا کلاز کی طرح بچوں میں ٹافیاں بانٹنے والا مہربان اور ہمدرد کردار اور ادارہ نہیں رہا بلکہ اس کے ذریعے عالمی معیشت پر قابض ایک مخصوص ٹولہ کمزور معیشت کی حامل قوموں اور ملکوں کی سیاسی حرکیات پر اثرا نداز ہوتا ہے اور جہاں آئی ایم ایف کے ذریعے وہ ڈکٹیشن دلواکر قوموں کی معیشت کو اس حد تک مریض بنا دیتے ہیں کہ خود لوگ تنگ آکر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔معیشت لڑکھڑاتی ہے تو اس کا اثر دفاع سے سول سٹرکچر تک ہر شعبے پر پڑتا ہے اور یوں پھر ایک گرے ایریا جنم لیتا ہے جہاں آئی ایم ایف پر اثر رسوخ رکھنے والے ممالک اپنے من پسند نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر اشفاق کے انٹرویو سے پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران کے پیچھے عالمی قوتوں اور اداروں کے اسی کھیل کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے ۔ڈاکٹر اشفاق حسن نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے بڑے شیئر ہولڈر ممالک چاہتے ہیں کہ پاکستان یا تو سی پیک پر کام کی رفتار کم کرے یا پھر اس منصوبے سے الگ ہوجائے لیکن پاکستان اس انتہائی اہمیت کے حامل منصوبے سے باہر نہیں نکل سکتا جو پاکستان کی معیشت اور عوام کے لئے انتہائی اچھا ہے۔ڈاکٹر اشفاق کا کہنا ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ جیو سٹریٹجک ماحول کلی طور پر تبدیل ہوگیا ہے۔بعض ممالک کا تمام بڑی معیشتوں پر گہرا اثر رسوخ ہے جیسے یورپی یونین ،جاپان اور بھارت ہیںجس کا مطلب ہے کہ وہ آئی ایم ایف کو پاکستان کے قرض کے حوالے سے ڈکٹیٹ کر سکتے ہیں۔آج امریکہ ، بھارت ،جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل انڈو پیسفک الائنس دنیا میں چین کے اثر رسوخ کو روکنا چاہتا ہے ۔بعض ممالک پاکستان کو مجبور کریں گے کہ وہ سی پیک پر کام روک دے یا اس سے الگ ہوجائے ۔اس دبائو پر حکومت ترقیاتی بجٹ میں کمی کرے گی مگر دفاعی بجٹ میں کمی نہیں ہوگی جس پر عوام سوشل میڈیا پر تنقید کریں گے اور یوں عوام اور فوج میں خلیج پیدا ہوگی۔اس کے بعد کیا ہوگا ؟اس سے ایک زمانہ واقف اور آگاہ ہے۔ ایسے ہی مقامات پر معیشتوں کو پہنچا کر سوشل میڈیا کے ذریعے’’ عرب سپرنگ ‘‘ برپا کی جاتی ہے ۔لبوں پر آزادیوں ،انسانی حقوق کے نعرے ہوتے ہیں مگر آستینوں میں خانہ جنگی اور وسائل پر قبضے کے خنجر چھپے ہوتے ہیں۔ جمہوریت اورآزادیوں کی تلاش میں سرگرداں ہجوم امن سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔اس کی مثالیں تیونس ،لیبیا،شام ہیں جہاں اب امن روٹھ چکا ہے اور خانہ جنگی کا عفریت روزانہ عوام کو نگل رہا ہے۔جس وطن میں شہری آزادیوں اور جمہوریت کا خواب لئے عوام باہر نکلتے ہیں وہ وطن ان کے لئے خانہ جنگی کے باعث جہنم بن جاتا ہے اور ایک روز انہیں پناہ کی تلاش میں ملکوںملکوں پھرنا پڑتا ہے اور تب کسی ساحل پر ننھے ایلان کردی کی لاش خوابوں کے ہائی جیک ہوجانے کی کہانی بیان کر رہی ہوتی ہے ۔اشفاق حسن خان کی بات اسد عمر کی کتھا ہے نہ فواد چوہدری کا عذرلنگ اور نہ ہی کسی حکومتی حامی اور ترجمان کا بیان بلکہ یہ ایک غیر سیاسی اقتصادی ماہر اور واقف حال اور محرم ِراز کے خیالات ہیںجن سے یہ انداز ہ ہورہا ہے کہ پاکستان اور اس کے عوام اس وقت معاشی مشکلات اور بدحالی کی صورت میں سی پیک اور اپنی آزاد روی کی قیمت چکا رہے ہیں ۔اس وقت پاکستان کی معاشی مشکلات فقط معاشی نہیں بلکہ اس کی بنیادیں سیاسی اور سٹریٹجک ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے موجود ہ حکومت کے قیام کے وقت ہی کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کو سی پیک کے چینی قرضے چکانے کے لئے پاکستان کو مزید قرض دینے کی اجازت نہیں دیں گے ۔پاکستان اگر سی پیک سے الگ ہوتا ہے تو آئی ایم ایف کا رویہ بدل جانے میں لمحوں کی تاخیر نہیں ہوگی ۔اس کی کڑی شرائط یکایک نرم ہونا شروع ہوں گی اور پاکستان میں شرح نمو اچانک بڑھ جائے گی ۔اس اصول کو اگر تسلیم کیا گیا تو پھر چند سال کے بعد آئی ایم ایف ایٹمی پروگرام کے حوالے سے خواہشات کی ایسی فہرست لے کر بیٹھ جائے گا اور پھر اس کے بعد فوجی معاملات تک بات پہنچ جائے گی ۔ اور ڈو مور کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ اسی دن کے انتظار میں عالمی طاقتوں اور اداروں نے پاکستان کو قرض دے کر ان کی مانیٹرنگ کرنے اور کرپشن اور منی لانڈرنگ روکنے میں دلچسپی نہیں لی۔اب نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے حوالے سے ’’ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن ‘‘ والی کیفیت سے دوچار ہے۔حکومت کو موجودہ حالات میں گونگا بہرہ بننے کی بجائے عوام کواصل سازشوں سے آگاہ کرنا چاہئے تھا ۔اسد عمر امریکہ میں آئی ایم ایف کے ساتھ حتمی مذاکرات کرکے لوٹ آئے ہیں تو ان کی آمد سے پہلی ہی یہاں ان کی وزارت کی تبدیلی کی افواہیں زوروں پر تھیں ۔ ان افواہوں کے پیچھے یہی اطلاعات تھیں کہ آئی ایم ایف قرض دینے کے لئے اپنی کڑی شرائط پر نظر ثانی کرنے کو تیار نہیں۔اسد عمر نے واپس آتے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ تمام معاملات طے ہوجانے کا اعلان کیا ۔ساتھ ہی یہ تسلی بھی دی کہ آئی ایم ایف کی شرائط کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا۔ ہونا تو یہی چاہیے کیونکہ عام آدمی پر جو اثر پڑنا تھا وہ پڑچکا ہے۔عام آدمی کی اب کمر ہی نہیں رہی جو بوجھ پڑنے سے جھک سکے وہ تو مہنگائی سہہ سہہ کر آخر کار ٹوٹ گئی ہے۔اب عام آدمی میں کسی مزید اثر کو برداشت کرنے کی سکت اور یارا نہیں رہا ۔ایسا ممکن نہیں کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو جس انداز سے جکڑ اور جن کے کہنے پر جکڑ رکھا ہے وہ آسانی سے گرفت ڈھیلی ہونے دیں گے ۔

متعلقہ خبریں