Daily Mashriq


اتنا آسان بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا

اتنا آسان بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا

صورتحال بہت گنجلک سی ہے ، سوال ہی ایسا ہے جس کا جواب ذرا مشکل سے ملے گا، چلئے یہ تو ہم مان لیتے ہیں کہ جو بھی عروسی جوڑا پہن کر بلاول زرداری کی دلہن بنے وہ ذہین بھی ہو اورتعلیمیافتہ بھی ۔حالانکہ اس بات کی ضمانت دینا بھی قدرے مشکل ضرور ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ تعلیمیافتہ فرد کا ذہانت کے معیار پر پورا اترنا بھی لازم ہو، دراصل بعض لوگوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ خواہ وہ کتنے ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہوں، ذہانت ان کے قریب تک پھٹکنے کو تیار نہیں ہوتی،(اس میں مرد یا عورت کی کوئی تخصیص بھی نہیں ہے اس لئے اسے صنفی امتیاز کے حوالے سے نہ لیا جائے)تاہم جہاں تک خواتین کا تعلق ہے اگر خوش قسمتی سے وہ خوبصورت بھی ہو تو اس کی یہ خوبصورتی اس کی ذہانت پر حاوی ہو جاتی ہے اور اسے خود بھی اپنی ذہانت سے زیادہ اپنی خوبصورتی پر ناز ہوتا ہے،اور اکثر خواتین پھر بھول بھی جاتی ہیں کہ ان سے ذہانت کی توقع بھی کی جارہی ہے ،اور اگر وہ ذہانت سے کام لیں تو پھر بے چاریوں کو شریک حیات کے چنائو میں بعض اوقات دیگر ’’سہولیات‘‘ سے محروم ہونے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، وہ جو شاعر نے کہا تھا کہ

شانوں پہ زلف،زلف میںدل،دل میں حسرتیں

جب اتنا بوجھ سرپہ نزاکت کہاں رہی

تو یہاں لفظ نزاکت کو اگر تھوڑی دیر کیلئے ذہانت سے تبدیل کرلیا جائے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے،ویسے بھی اپنے حسن کے’’نشے‘‘ سے سرشار اکثر خواتین کا تعلیم کچھ نہیں بگاڑسکتی یوں ذہانت ان سے ایک خاص فاصلہ رکھنے پر مجبور ہوتی ہے ۔ چلئے چھوڑیئے یہ ایک فضول بحث ہے اور اس پر وقت ضائع کرنے کی بجائے بہتر یہ ہوگا کہ مسئلہ زیر بحث پر روشنی ڈالی جائے ۔یعنی وہ جو بلاول نے اپنی شریک حیات کے حوالے سے کہا ہے کہ اسے ذہین اور تعلیمیافتہ ہونا چاہیئے ۔ تو اس حد تک تو بلاول بھٹو زرداری نے درست سوچ اپنائی ہے حالانکہ جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزارش کی جاچکی ہے کہ بلاول کی یہ خواہش مشکل سے ہی پوری ہو سکتی ہے اگر چہ ناممکن نہیں ہے ، اس حوالے سے بہت سے لطیفے بھی موجود ہیں مگر ان سے تعرض کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور جس قسم کی دلہن کی تلاش میں بلاول نظر آرہے ہیںاگر ایسی کوئی خاتون مل بھی جائے تو کیا ضروری ہے کہ وہ خاتون بھی بلاول سے شادی پر تیار ہوجائے، اس لئے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی زندگی میں جس طرح کے سیاسی اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں ان کا سامنا کرنے اور انہیں برداشت کرنے کا حوصلہ بھی تو ہر خاتون میں نہیں ہوتا، اور پھر اگر خاتون واقعی ذہین بھی ہو تو وہ کسی ایسے سیاسی رہنما کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے سو بار ضرور سوچے گی جس رہنماء اور اس کی پارٹی کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت ہونے کا’’اعزاز‘‘ حاصل ہو اور ظاہر ہے ایسی جماعت اور ایسا رہنما ہروقت کسی بھی انداندیکھے عتاب سے نبردآزما ہونے کے خطرات کا سامنا ہو۔ دور کیوں جائیں خود بلاول کی والدہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سیاسی زندگی کا جائزہ لیا جائے جو ایک کھلی کتاب کی مانند ہے اور جنہوں نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے لئے سیاسی میدان کے کانٹے ہی چنے ،کہ وہ سیاسی میدان میں کسی سمجھوتے کی قائل تھی نہ ہی انہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ کیا، ایسی صورت میں زندگی کے کسی بھی موڑ پر اگر (خدانخواستہ) ممکنہ قید وبند کے خطرات سامنے ہوں تو کم کم ہی کوئی ذہین خاتون اپنے ہونے والے شوہر کو ایسی صورتحال سے دوچار ہونے کے خطرات برداشت کرنے کو تیار ہوسکتی ہے۔ایسی صورت میں بے چاری ظفر اقبال کا یہ شعر پڑھ کر اتنے بھاری پتھر کو چومنے کو تیار ہوسکے گی کہ

چارسو پھلتی خوشبو کی حفاظت کرنا

اتنا آسان بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا

کیونکہ محترمہ شہید جیسا حوصلہ کب کسی میں ہوسکتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے والدکے قید وبند کے کٹھن لمحوں میں صبر واستقامت کا بھر پور مظاہرہ کیا،بلکہ جب ان کے اپنے شوہر کو جیل میں ڈالا گیا اور ان کو اقتدار سے محروم کیا گیا تو وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ جیل کے باہر ملاقات کی غرض سے گھنٹوں خوار ہونے پر مجبور کی جاتی رہیں مگر ان کے حوصلے پست نہیں کئے جاسکے اور وہ عزم وہمت کا چٹان بن کر ہر جبر کا استقامت سے مقابلہ کرتی رہیں۔ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو زرداری نے ایک اور عجیب وغریب شرط جو اپنی ہونے والی شریک حیات پر ابھی سے عاید کردی ہے یہ ایک ایسی شرط ہے جس پر ایک محتاط اندازے کے مطابق آج تک بہ مشکل ہی ایک دو فیصد’’فریقین‘‘ ہی متفق ہوسکی ہیں، یعنی یہ کہ بقول بلاول’’سب سے اہم یہ ہے کہ اس(شریک حیات) کی میری بہنوں سے بننی چاہیئے‘‘۔ ساتھ ہی انہوں نے خواتین میں حس مزاح کو بھی لازمی قرار دیا ہے ۔ اس حس مزاح کو بھی ایک طرف رکھتے ہوئے نند بھاوج کے تعلقات والی بات کو لیا جائے تو یہ ایک ایشی شرط ہے جس پر دنیا کی خواتین آج تک ایک پیج پر نہیں آسکیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں،آج کے وزیراعظم کو دیکھ لیجئے کہ اپنی دوسری اور تیسری شادی کے حوالے سے ان کے اپنی بہنوں سے تعلقات آج تک معمول پر نہیں آسکے اور حال ہی میں وہ اپنی بھانجی کی رخصتی کی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے تو بلاول کی خواہش کیسے پوری ہوسکتی ہے۔منیر نیازی نے’’شاید‘‘ نند بھاوج کے حوالے ہی سے کہا ہوگا

ادب کی بات ہے ورنہ منیر سوچوتو

جو شخص سنتا ہے وہ بول بھی تو سکتا ہے

متعلقہ خبریں