Daily Mashriq


پٹواری رشوت، بیت المال اور کونج کا شکار

پٹواری رشوت، بیت المال اور کونج کا شکار

آج کالم کی ابتداء بنا تمہید قارئین کرام کے برقی پیغامات اور خیالات سے کرتے ہیں۔کرک سے ایک نوجوان نے حکومت کی توجہ علاقہ پٹواری کی رشوت ستانی کی طرف دلاتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ پٹواری کو ایم پی اے کی آشیر باد حاصل ہے ۔ پٹواری رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔ پٹواریوں کی رشوت ستانی ضرب المثل ہوچکی جس کا حل بندوبست اراضی کی کمپیوٹرائیز یشن ضرور ہے لیکن پٹواری کے ذمے اراضی کی منتقلی کے علاوہ بھی بڑے سرکاری کام ہوتے ہیں۔ پٹواری علاقے کا بادشاہ ہوتا ہے معلوم نہیں کہ پٹواری سیاستدانوں کے خاص آدمی ہوتے ہیں یا سیاستدان پٹواری کے خاص آدمی ہوتے ہیں۔ برا ہو ہمارے ہاں کی سیاست تھانیدار اور پٹواری کے گرد گھومتی ہے اور ہمارے سیاستدان ان سے نیا زبرتتے ہیں۔جس مسئلے کی کرک کے نوجوان نے نشاندہی کی ہے تبدیلی سرکار کو اس کا فوری اور سخت نوٹس لینا چاہیئے ۔عوام مہنگائی کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں۔ کم از کم ان کو پٹواری کے بوجھ سے تو نجات دلائی جائے۔ دیر سے ایک اعلیٰ تعلیمیافتہ نوجوان ملازمت نہ ملنے پر چھوٹا سا کاروبار شروع کر کے گزراوقات کرتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی کو مرگی کا مرض لاحق ہے جن کے علاج کی وہ بمشکل سکت رکھتے ہیں۔پانچ سال سے جاری علاج میں مدد کیلئے نوجوان نے بیت المال سے رجوع کیا تو ان کو جو فارم دیا گیا نوجوان کے مطابق اتنا لمبااور پیچیدہ ہے کہ وہ سارے لوازمات پوری کرنے لگ جائیں تو کاروبار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ درجنوں چکر اور دیر سے پشاور آنے جانے پر انہوں نے فارم کو پھاڑ پھینکنے کو ترجیح دی۔ معلوم نہیں ہمارے سرکاری دفاتر کانظام اتنا پیچیدہ اور مشکل کیوں ہے اور اسے سہل کیوں نہیں بنایا جاتا شاید اس لئے کہ عوام کو بار بار کے چکر دے کر ہی رشوت وبدعنوانی کا درکھولا جاتا ہے۔ رشوت وبد عنوانی اور عوام کی شکایات کے خاتمے کیلئے سرکاری معاملات کو سہل سادہ اور آسان بنایا جانا چاہیئے۔ مالی امداد کے طلب گار سوفیصد مجبور اور کم تعلیم یافتہ بلکہ ان پڑھ لوگ ہوتے ہیں۔ ان کو وہ بھول بھلیوں میں پڑ کر مالی امداد حاصل نہیں کر سکتے ۔زکوٰۃ ہو یا بیت المال یا کوئی اور سرکاری امداد ملی بھگت ،رشوت اور سفارش کے بغیر نہیں ملتی اور جو ملتی بھی ہے وہ بھی حقداروں کو کم اور غیر مستحق افراد کو زیادہ ملتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں 2005ء کے شدید زلزلہ کے متاثرین کے بچوں کیلئے بیرونی وظائف آئے تو سرکاری افسران نے اپنے بچے ان سکالر شپ پر لندن بھیجے، کیا اس سے بد ترین مثال کوئی ہوسکتی ہے۔ ایک قاری نے کونجوں کے تحفظ کیلئے کالم لکھنے کی استدعا کی ہے ۔کونج سائبیر یا اور راجستھان کے درمیان موسمی آمدورفت کرتے ہیں۔ راستے میں ہمارے ہاں ان کو جال پھینک کرپکڑا جاتا ہے ۔ کونج میرا بھی پسندیدہ پر ندہ ہے مجھے بھی اس کے تحفظ کا بڑا خیال رہتا ہے یہاں ملکی خزانے پر جال پھنک کر لوٹا جاتا ہے مہاجر پرندے کا تحفظ کون کرے ۔ متعلقہ محکمے کے پاس اختیارات اور قوانین ہیں لیکن محکمے کے اہلکار خود پرندوں کی تجارت کرنے والوں سے ملے ہوتے ہیں۔ جبھی دیکھو محکمے کا اہلکار پرندوں کی مارکیٹ کے باہر منڈلاتا نظر آئے گا۔پرندوں کے تاجروں کو کچھ نہیں کہے گا جیسے ہی کوئی خریدار پرندہ لیکر باہر آئے گا لائسنس کا سوال ہوگا اور پانچ سو روپے پر سودا۔بے شمار چیزیں ہیں کس کس کی نشاندہی کی جائے اور کس سے کارروائی کی توقع رکھی جائے۔مردان کے اشفاق مسرور جو خصوصی افراد میں سے ہیں انہوں نے خصوصی افراد کو درپیش جو مسئلہ بیان کیا ہے اس سے تو محکمہ زکوٰۃ خود مسائل کا ذمہ دار لگتا ہے ۔ زکوٰۃ سے متعلق جو بھی مسائل ومعلومات ہوں اس کیلئے خواہ آپ جس ضلع کے بھی ہوں پشاور میں حکام کے سامنے حاضری دینی پڑتی ہے۔ اضلاع کو زکوٰۃ کی رقم منتقل نہیں ہوتی اور خصوصی افراد ومستحقین کی راہ تکتے تکتے آنکھیں پتھر اجاتی ہیں۔ اس سے زیادہ لکھنے کی مجھ میں تاب نہیں سوائے اس کے کہ حکومت خواہ مخواہ لوگوں سے زکوٰۃ کا ٹتی ہے اور مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری نہیں نبھاتی۔ لوگوں کی زکوٰۃ اس وقت تک ادا نہیں ہوگی جب تک مستحق کو دے کر ان کو مالک وقابض نہ بنایا جائے ۔ یہاں سال سال گزرتے ہیں مستحقین کو ادائیگی نہیں ہوتی لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی حکومتی اداروں کی بجائے بنکوں سے یکم رمضان سے قبل رقم نکال کر خود ہی اپنے ہاتھوں سے مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھائیں۔ سرکاری اداروں پر چھوڑدیں تو رقم بھی ضائع اور زکوٰۃ کا ذمہ بھی باقی رہے گا۔محمد صدیق مجبورخٹک آج ایک تحریری ٹیسٹ کی روداد شیئر کرنا چاہتاہے۔ قیوم سٹیڈیم پشاور میں ریسکیو 1122میں خالی اسامیوں کیلئے ٹیسٹ ہوا۔ امیدواروں سے دوڑ کا ٹیسٹ بھی لیا گیا۔ جن امیدواروں نے دوڑ ٹیسٹ پاس کیا وہ تحریری ٹیسٹ کیلئے اہل قراردیئے گئے۔ بروز تحریری ٹیسٹ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ دوڑ کا کوئی معیار مقرر نہ تھا۔ کیونکہ رش بہت زیادہ تھی جس سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہورہی تھی کہ دال میں کچھ کالاہے دوسری بات یہ ہے کہ لا ئوڈ سپیکر سے صرف یہ اعلان ہوااپنے موبائل بند کر لیں لیکن ایک سو میں ایک دو نے اس بات پر عمل کیا باقی چیٹنگ میں مصروف رہے۔ اب باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیسٹ کینسل ہورہا ہے اگر اس طرح ٹیسٹ بغیر کسی پلاننگ کے لئے جائیں اور بعد میں کینسل کرنا پڑے تو مجھے ان ناخدائو ںسے یہ پوچھنا ہے کہ یہ بے چارے بے روزگار کب تک آپ لوگوں کی آپس کی چیقلش کا شکار رہیں گے؟کیونکہ ان میں بعض چترال کے ہونگے اور بعض جنوبی اضلاع سے۔ ان بے چاروں کے ایک ٹیسٹ پر کم از کم دوہزار روپے آنے جانے میں خرچ ہوئے ہوں گے بلکہ زیادہ۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں