Daily Mashriq


بیمار معیشت کا علاج

بیمار معیشت کا علاج

زندگی کے سفر میں نشیب و فراز کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ دکھ سکھ کی آنکھ مچولی لگی رہتی ہے۔ دکھ درد سے بچنا ممکن نہیں اور خوشیاں خریدی نہیں جاسکتیں۔زندگی سے محبت کرنے والے اسے آسان اور خوبصورت بنانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ ہم سب نے مٹی میں مل کر مٹی ہوجانا ہے لیکن جب تک زندہ ہیں دنیا کے دھول دھبے سے تو اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ مسائل کے ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا سے قدم قدم پرہمارا واسطہ پڑتا ہے مگر اس میں اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ہم ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ اچھے فیصلے کرنے کے لیے حالات کوکن زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کس نکتہ نظر سے کس مسئلے کو دیکھنا ہے! اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسائل سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ درپیش مسئلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ آپ ان مسائل سے کس انداز میں نپٹتے ہیں ؟اس کالم میں ان مسائل سے نپٹنے کے حوالے سے ایک اچھے انسان کی مخلصانہ کاوشوں کا ذکر کرنا مقصود ہے !Dr. Edward De Bono عصر حاضر کا ایک خوبصورت نام ! مالٹا میں پیدا ہوئے بڑے اچھے فزیشن، فلسفی، ماہر نفسیات اور کئی کتابوںکے مصنف ہیں ان کی بہت زیادہ پڑھی جانے والی کتا ب Six thinking hats ہے جس میں انہوں نے بڑے خوبصورت اور منطقی انداز میں مسائل کو حل کرنے کے طریقے بتائے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے ایک فارمولاپیش کیا ہے جو دلچسپ بھی ہے اور ہمارے مسائل کے حل کے لیے ایک بہترین معاون و مددگار کا کردار بھی اداکرتا ہے۔یہ فارمولا آپ کو اپنے سوچنے کے عام انداز سے ہٹ کر سوچنے کی تربیت دیتا ہے یہ مسائل کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کے انداز سکھاتا ہے آپ اپنے بہت سے مسائل صرف اپنی سوچ کا انداز بدل لینے سے حل کرسکتے ہیں۔اس سے آپ کی شخصیت کا ایک خوشگوار تاثر ابھرکر سامنے آتا ہے!سب سے پہلے آپ اپنے سامنے موجود مسئلے پر غور کرتے ہیں مسئلے کے حوالے سے موجود معلومات کا جائزہ لیتے ہیں ماضی میں اس قسم کے مسائل کس طرح حل کیے گئے اور اس حوالے سے مزید کیا سیکھا جاسکتا ہے؟ اس کے علاوہ آپ اپنی معلومات کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آج وطن عزیز میں کمزور معیشت ایک بہت بڑے مسئلے کے طور پر موجود ہے۔ اس کمزور معیشت کو استحکام بخشنے کے لیے آپ کے پاس کون کون سے ذرائع موجود ہیں؟ علم کتنا ہے تجربہ کتنا ہے آپ سے پہلے اس قسم کے مسائل کو کس طرح حل کیا گیا؟ کیا آپ اس مسئلے کا کوئی پائیدار حل تلاش کرنے کے قابل ہیںیا پھر ماضی کے حکمرانوں کی طرح ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر صرف اپنے پانچ برس پورے کرنے کی فکر میں ہیں؟اگر آپ اس قسم کے مسائل کو اپوزیشن جماعتوں کے دبائو کی وجہ سے غصے اور جذبات کی روشنی میں دیکھتے ہیںاور صرف یہی دیکھتے ہیں کہ آپ کے مخاطب کا جذباتی ردعمل کیا ہے؟ اور آپ اس سے زیادہ شدید جذبات کا اظہار کرکے اس کی زبان بند کرنے کی فکر میں ہیں تو یہ ایک کمزور رویہ ہے۔ اس طرح مسائل کا پائیدار حل کبھی بھی نہیں ڈھونڈا جاسکتا !جذباتی ردعمل کی بجائے معلومات حاصل کی جائیں حقائق کو اکٹھا کیا جائے۔ اپنے وسائل کا جائزہ لیا جائے انتظامی امور کو بہتر انداز سے چلایا جائے تاکہ سرکاری اہل کاروں کی جیب میں جانے والے پیسے کو قومی خزانے کا حصہ بنایا جائے۔ اسی طرح آمدن کے مزید ذرائع تلاش کیے جائیں۔ ہماری ضروریات کیا ہیں اور ہمارے پاس کن اشیاء کی کمی ہے؟ ہمارے کمزور پہلو کون سے ہیں انہیں کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے ؟ یہ سب کچھ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب مسائل کو حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے !مایوسی سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں اس حوالے سے تخلیقی سوچ کی ضرورت ہے پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے۔ اس میں سیاحت کے فروغ کے شاندار امکانات موجود ہیں اس حوالے سے کوئی مثبت کوشش نظر نہیں آتی ہم وطن عزیز میں سیاحت کو فروغ دے کر اپنی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتے ہیںسیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے پاکستان میں خوبصورت تاریخی مقامات کی کمی نہیں ہے۔ موہنجوداڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا کی قدیم تہذیبیں، مغلیہ دور کی تاریخی عمارات خوبصورت باغات اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات! بس ذرا سی توجہ اور ہنر چاہیے !اسی طرح ایک بہت بڑا مسئلہ ٹیکس کا ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے ہر مہینے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے لیکن تاجر حضرات اور دوسرے بہت سے شعبے ایسے ہیں جویا تو ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے اور اگر ادا کرتے بھی ہیں تو اس ٹیکس کا ایک کثیر حصہ اہل کاروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ سرکاری خزانے تک نہیں پہنچ پاتا اس نظام کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے !ہمیں اپنی برآمدات بہتر بنانے کی ضرورت ہے پاکستان میں دنیا کا بہترین ڈرائی اور فریش فروٹ پایا جاتا ہے۔ ہم اسے برآمد کرکے اپنی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتے ہیں نظام کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں