Daily Mashriq


دعا کو ہاتھ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

دعا کو ہاتھ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

ہمیں آنکھیں دیکھنے کے لئے ودیعت ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی ساخت کروڑہا ڈالر سے بھی زیادہ قیمت کے حساس کیمرے جیسی ہے۔ اگر ہم آنکھ سے اپنے سامنے پڑی کسی چیز کا عکس اپنے دماغ کے پردے پر اتارتے ہیں تو اپنے کانوں کے آڈیو سسٹم کے ذریعے دیکھی جانے والی چیز کے سمعی اثرات کی جان کاری آوازیں سن کر کرتے ہیں۔ ہم اپنے ارد گرد پھیلی جادو نگری میں اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہیں اس کے متعلق اپنے دماغ سے سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو کچھ سمجھتے ہیں اسے اپنی زبان و بیان سے دوسروں تک پہنچانے کی بھی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات تو چشم حیرت سے نظر آنے والی اشیا کو بیان کرنے سے قاصر رہتے ہوئے کہہ اٹھتے ہیں کہ

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

ہم نے اپنی زندگی میں حب الوطنی کے جذبوں سے سرشار پہلی فلم سینما ہال میں جاکر دیکھی تھی۔ بیداری نام تھا اس فلم کا اور اس میں آؤبچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی، اور اے قائد اعظم تیرا احسان ہے، تیرا احسان قسم کے مشہور عالم ملی نغمے بھی فلمائے گئے تھے۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد فلم بینی کا ایسا چسکا پڑا کہ جیب خرچ سے پیسے بچاکر گھر کا سودا سلف لانے والے لڑکے کو دیتا اور وہ بھی سودا سلف لانے کے پیسوں میں سے کچھ پیسے چرالیتا اور یوں ہم دونوں چھپ چھپا کرچھ آنے والی تھرڈ کلاس میں بیٹھ کر فلم بینی کا شوق پورا کرنے لگتے۔ آنکھیں پردہ سکرین پر جمی ہوتیں کان فلم کی موسیقی اور مکالمے سننے میں مگن ہوتے جس کا اثر دل اور دماغ دونوں پر ہوتا کبھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے کبھی ٹپ ٹپ آنسو بہانے لگتے۔ کبھی جھوم اٹھتے کبھی سیٹیاں بجانے لگتے۔ اور کبھی ہاتھ میں پکڑی ریزگاری پردہ سکرین پر ناچنے والی کے حسن دلربا اور اس کی ہر ادا پر نچھاور کردیتے کہ یہی تھا رائج ذوق فلم بینی کا سکہ ان دنوں ۔ کتنے برے تھے ہم کتنے مادر پدر آزاد آوارہ منش فلم بین ’آوارہ ہوں یا گردش میں ہوں آسمان کا تارا ہوں‘ ناکام محبت کی عشقیہ داستانوں پر مبنی ہوتی تھیں ہمار ے عہد لڑکپن کی بلیک اینڈ وائٹ فلمیں۔ لڑائی مارکٹائی سے بھرپور فلمیں بھی کھڑکی توڑ ہفتوں کے ریکارڈ قائم کرتیں ۔ ہم سینما ہال میں دکھائی جانے والی فلم کو اس وقت تک فلم ماننے کو تیار نہ ہوتے جب تک اس میں کم و بیش نصف درجن گیت اور ڈانس کے مناظر نہ ہوتے۔ فلمیں بنانے والے یہ سب کچھ فلم بینوں کے ذوق فلم بینی کی تواضع کے لئے فلماتے کہ لوگ یہی کچھ دیکھنا پسند کرتے تھے لیکن دوسری طرف ہالی ووڈ والے ایسی ایسی فلمیں سینما ہال میں دکھانے کے لئے پیش کرتے جن میں سننے اور دیکھنے کے علاوہ سوچنے اور سمجھنے کی بھی دعوت ہوتی۔ ایسی ہی ایک فلم تصوراتی سمندری سفر Fantastic Voyage کے عنوان سے بن کر ہمارے سینما ہالز میں نمائش کے لئے پہنچی، اس فلم کو ہم میڈیکل سائنس فکشن کی ذیل میں رکھیں گے ، کیونکہ اس فلم کے کردار ایک اتنی چھوٹی آبدوز میں بیٹھ کر انسانی جسم میں دوڑنے والے خون کا سفر کے لئے روانہ ہوتے ہیں جو عام آنکھ کو نظر آنہیں سکتی، اس کو صرف مائیکرو سکوپ میں دیکھا جاسکتا ہے ، اس آبدوز اور اس کے اندر موجود عملہ کو اتنا چھوٹا کردیا جاتا ہے کہ ان کو ایک انجکشن کے ذریعے ایک مریض کی رگوں میں دوڑنے والے خون میں شامل کردیا جاتا ہے۔ اور یوں وہ آبدوز اور اس میں سوار عملہ مریض کے جسم کی رگ و پے میں گردش کرنے والے خون کے دریا میں خطرناک مہماتی سفر کرتے انسانی دماغ کے اس حصے تک بڑی مشکل سے پہنچ جاتے ہیں جس کا آپریشن کرنا آبدوز سواروں کے مشن میں شامل ہوتا ہے ، اس دوران ہمیں لاتعداد معلومات افزاء مناظر دیکھنے کو ملتے ، مثلاًجب خون کے دریا میں سفر کرتی دل کے قریب سے گزرتی تو انہیں دھڑکن دھڑکن اٹھنے والے طوفان بلا خیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، انسان کی رگ و پے میں دوڑنے والے یہ خون جسم انسانی کے اندر ہی وجود میں آتا ہے ، اور ایک خود کار نظام سے انسانی رگوں میں گردش کرتے ہوئے زندگی کے وجود کا باعث بنتا ہے ، جب انسانی جسم کے کسی حصے پر زخم آتا ہے تو خون کے جم جانے کی خاصیت خون کو بہہ کر ضائع ہونے سے روکتی ہے ۔ لیکن انسانی جسم میں زخموں کی رفو گری کرنے والی اس خاصیت کا ختم ہوجانا ہیمو فیلیا نامی خون کی خطر ناک بیماری کو جنم دیتا ہے، جس کا شعور بیدار کرنے کے لئے آج پاکستان سمیت ساری دنیا میںہیموفیلیا ڈے منایا جارہا ہے۔ اس مرض میں خون کو جمانے والے اجزاء کام کرنا چھوڑدیتے ہیں ۔ اور یہ بیماری چھوٹی عمر کے لڑکوں کو لاحق ہوتی ہے ، اس کا علاج انجکشن کے ذریعے کیا جاتا ہے ، جو بے حد قیمتی ہے ، دوسری صورت میں مریض کو پلازمہ ایف ایف پی دیا جاتا ہے جو صحت مند انسان کے خون سے حاصل کیا جاتا ہے،ہیمو فیلیا کے علاوہ تھیلی سیمیا بھی خون کی کمی کی خطر ناک بیماری ہے اور بدقسمی میں ان دونوں بیماریوں میں مبتلا ہزاروں کی تعداد میں مریض ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں ، جن کوہم سب کی ہمدردیوں کے علاوہ خون کے عطیات اور مالی امداد کی ضرورت رہتی ہے ، اگر ہم ان کے لئے کچھ نہیں کرسکتے تو اتنا تو کرسکتے ہیں کہ آج کا دن ان دکھی لوگوں کے نام کرکے گڑ گڑا کران کی صحت کاملہ و عاجلہ کے لئے دعا مانگ لیںکہ

نہ چارہ گر کی ضرورت نہ کچھ دوا کی ہے

دعا کو ہاتھ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

متعلقہ خبریں