Daily Mashriq


دوسرا دور حکومت‘ حالات ساز گار مگر بہت سخت

دوسرا دور حکومت‘ حالات ساز گار مگر بہت سخت

تحریک انصاف کے قائد عمران خان انتخابات میں کامیابی کے بعد کامیاب جماعتی اراکین اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ناصحانہ انداز میں کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کا اقتدار چیلنجز سے بھرپور ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ برطانیہ کی طرز پر ہر ہفتے بطور وزیر اعظم ایک گھنٹہ سوالات کاجواب دینے پر صرف کریں گے اور وزراء کو بھی صحیح معنوں میں جواب دہ بنائیں گے۔ یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ عوام نے سابق حکمران جماعتوں کو حاصل اپنی حمایت کا رخ تحریک انصاف کی طرف اس لئے ہی تو موڑا ہے کہ تحریک انصاف ان دونوں سیاسی جماعتوں اور روایتی سیاست اور طرز حکومت کی ناقدر ہی ہے اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے پی ٹی آئی جداگانہ طرز حکومت اختیار کرنے کی داعی ہے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نامزد قائد محمود خان کا ایوان سے77 ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے منتخب ہونے کے بعد صوبے میں تحریک انصاف کی منتخب حکومت کا دوسرا دور شروع ہوگیا ہے۔ چونکہ صوبے کے عوام نے تحریک انصاف کو صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت دلا کر اپنے پورے اعتماد کااظہار کیا ہے۔ اس تناظر میں نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپے قائد کے خیالات اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے رات دن ایک کریں۔ صوبے میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت گزشتہ حکومت سے دو بڑے عوامل کی بناء پر زیادہ بہتر ہونی چاہئے۔ اولاً یہ کہ وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے جبکہ صوبائی اسمبلی میں محمود خان کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور ان کو کسی اتحادی یا گروپ کی ناراضگی یا شراکت اقتدار کے معاہدوں پر پابندی کی کسی مجبوری کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔ اس قسم کی آئیڈیل صورتحال میں نو منتخب وزیر اعلیٰ سے اسی قسم کی کارکردگی کی توقعات وابستہ کرنا فطری امر ہے۔ یہ صورتحال جہاں تحریک انصاف کی حکومت کے لئے اطمینان کا لمحہ ہے وہاں اس کے پہلو میں بے چینی بھی جھانک رہی ہے کہ جب عوام نے ساز گار سیاسی حمایت کے ساتھ اقتدار کے سنگھا سن کے قابل بنا دیا ہے تو پھر بدلے میں صوبے کی حکومت کو بھی عوام کے اس خلوص و محبت کا جواب اسی انداز میں دینا ہوگا۔ ہمارے تئیں تو جس طرح سابق ادوار میں پنجاب حکومت کی کارکردگی کی مثالیں دی جاتی تھیں اس دور میں خیبر پختونخوا حکومت کی مثالیں دینے کی اگر نوبت نہ آئے تو اس سے بڑی ناکامی کوئی اور ہوگی نہیں۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت کو سب سے پہلے گزشتہ حکومت کے جاری منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دینی چاہئے خصوصاً صوبائی دارالحکومت میں جاری ریپڈ بس منصوبہ تو راتوں رات تکمیل کا متقاضی ہے جس کے بعد مردان‘ چارسدہ‘ نوشہرہ پشاور ریلوے سروس کے جس منصوبے کو قابل عمل قرار دے کر منظوری دی گئی ہے اس کا آغاز کرکے ہی لاہور اور پشاور کا موازنہ ممکن ہوگا۔ موجودہ صوبائی حکومت کو ماضی کی غلطیوں کا جہاں ازالہ کرنے کی سعی کرنی ہوگی وہاں ان غلطیوں کا اعادہ کرنے کی غلطی سے بھی اجتناب کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ حکومت کے پاس اس قسم کی کوتاہی کی بالکل بھی گنجائش نہیں کہ عوامی شکایات کی تعداد بڑھتی جائے۔ گزشتہ حکومت میں سرکاری دستاویزات کے مطابق2015سے لیکر2018تک ای آر ٹی آئی کے تحت19محکموں کو ملنے والی784 درخواستوں میں سے صرف56درخواستوں پر ہی معلومات فراہم کی جاسکیں۔ موجودہ حکومت کو اولاً سرکاری محکموں میں شکایات کی نوبت ہی نہ آنے دینے کے لئے مربوط اور ٹھوس حکمت عملی وضع کرکے اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور اگر شکایات ملیں تو ان کو نمٹانے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے جبکہ معلومات کی فراہمی کے نظام کو سو فیصد بنانا ہوگا۔خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی سابق حکومت نے صوبائی احتساب کا ادارہ اور عوام کو معلومات کی فراہمی کا ادارہ بڑے چائو سے قائم کیا تھا مگر دونوں ہی اداروں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ اس حوالے سے شکایتیں بھی سامنے آئیں لیکن گزشتہ حکومت ان کو دور کرنے میں ناکام رہی۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا کے مصداق خوش قسمتی سے صوبے میں بننے والی حکومت گزشتہ کا تسلسل ہے جس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان تمام وعدوں اور دعوؤں کو عملی شکل دینے میں اپنا کردار ادا کرے جس میں کسی وجہ سے بھی کوتاہی کی گئی تھی۔ آنے والی حکومت کو صوبائی احتساب کمیشن اور معلومات کی فراہمی کے نظام کو مربوط اور فعال بنانے کیساتھ ساتھ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے معاملے میں سنجیدگی اختیار کرنا پڑے گی۔مقام اطمینان ہے کہ نو منتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔انہوںنے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے جاری منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔منتخب وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کا عوامی توقعات پر پورا اترنے کا عزم اور جماعتی منشور کے مطابق عوام کی خدمت کا عزم احسن بھی اور ان کی ذمہ دار ی بھی ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے صوبے کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک حکمران جماعت کو دوسری مرتبہ تسلسل کے ساتھ حق حکمرانی سونپ کر تحریک انصاف کو امتحان میں ڈالا ہے اس لئے عوام کی توقعات بھی کہیں زیادہ ہیں جن پر پورا اترنا نو منتخب زیر اعلیٰ کے لئے بہت بڑے امتحان سے کم نہ ہوگا۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کے پاس کسی مزید غلطی کی گنجائش نہیں اس لئے ان کو مزید محتاط رویہ اپنانا ہوگا ۔ صوبے کے اہم منصوبوں بی آر ٹی‘ سوات ایکسپریس وے اور اس جیسے دیگر نا مکمل منصوبوں کی کم سے کم وقت میں تکمیل ہی کافی نہ ہوگی بلکہ صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ نئے منصوبے شروع کرنے اور عوام کو کم سے کم وقت میں تبدیلی کا عملی تاثر بھی دینا ان کا امتحان ہوگا۔ وزیر اعلیٰ حکومت چلانے کے لئے کس قسم کی ٹیم تشکیل دیتے ہیں یہ اہم ہوگا اس لئے اس مرحلے پر احتیاط کے ساتھ کارکردگی کی صلاحیت رکھنے والی ٹیم منتخب کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی کامیابی کا انحصار ٹیم ورک خدمت کے عزم اور اچھی حکمت عملی پر ہوگا جس پر کار بند رہنا حکمران جماعت حکومت اور عوام سبھی کے مفاد میںہے۔ اراکین کابینہ اور حکومتی عہدیداروں سے مشاورت اور اعتماد کی فضا میں کام کیاجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کامیابی کی منزل نہ ملے۔

متعلقہ خبریں