Daily Mashriq


امت مسلمہ عملی طور پر ترکی کا ساتھ دے

امت مسلمہ عملی طور پر ترکی کا ساتھ دے

کا امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خلاف کمرکس کر حالات کا مقابلہ کرنے کا اعلان حوصلہ افزاء امر ہے۔ترکی کے صدر طیب اردگان نے امریکہ کی تیار کردہ برقی مصنوعات سمیت ان تمام چیزوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے جس پر میڈ ان امریکہ کی تحریر ہو۔ ترک صد ر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہو گا کیوں کہ دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے۔اس لیے امریکی پروڈکٹ کو چھوڑ کر ہمیں دوسرے ممالک کی تیارکردہ متبادل مصنوعات کو اپنانا ہو گا۔ طیب اردگان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی کرنسی کی قدر کی بحالی اور معیشت کے فروغ کے لیے 4 ممالک سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کے ساتھ دیگر انقلابی اقدامات کر رہے ہیں۔ مغرور امریکہ کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے اب عوام کو بھی آگے آ کر امریکی مصنوعات کو خیر باد کہنا ہو گا۔ دوسری جانب پاکستان کے بعدانڈونیشیا نے بھی امریکہ اورترکی کی تجارتی جنگ میں ترکی کی حمایت کا اعلان کر دیاہے،انڈونیشیاکی علماکونسل کی خارجہ امورکمیٹی کے سربراہ نے میڈیاسے گفتگومیں کہاکہ وہ امریکی تجارتی حملے کے جواب میں ترک صدرکے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے مسلم ممالک کونشانہ بنانے اورخطے میں ترکی کااثر ورسوخ کم کرنے کے اقدامات اس بات کاتقاضا کرتے ہیں کہ مسلم ممالک کو باہمی تجارت کیلئے ڈالر کی بجائے اپنی کرنسی کا استعمال کرنا چاہئے۔ترکی اور امریکہ کے درمیان وجہ نزاع ایک امریکی پادری کی ترک حکام کے ہاتھوں دہشت گردی کے الزام میں گرفتاری ہے جس پر خود ساختہ عالمی تھانیدار یہ دیکھے بغیر سیخ پا ہے کہ خود اس کا اپنا رویہ اور معاملات کیا ہیں۔ دہشت گردی کے سچے جھوٹے الزامات کے تحت خود امریکہ تو دنیا کو تاراج کرسکتا ہے مگر اس کے کسی شہری پر الزام لگے تو اس کے شواہد اور ثبوت مانگنے کی بجائے اس ملک کی معیشت سے کھیلنے پر اتر آتا ہے۔ یورپی یونین کے ممبر اور برادر ملک ترکی کی معیشت ہی مستحکم نہیں بلکہ ترکی کے عوام کا جوش و جذبہ اور مثالی اتحاد بھی کسی سے پوشیدہ امر نہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے ڈالر نذر آتش کرکے ڈالر میں لین دین ترک کرکے اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ جس طرح حیلے بہانے سے ایران‘ ترکی اور پاکستان تینوں بڑے اور اہم ممالک کے گرد مختلف شکل و صورت اور طریقوں سے گھیرا تنگ کرنے لگا ہے اس کے پیش نظر ان تین ممالک ہی کو نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور عالم اسلام کو آگے آنا چاہئے۔ سعودی عرب کی قیادت اگر اس موقع پر حوصلے سے کام لیتے ہوئے امریکہ میں موجود اپنے شہریوں کی دولت کی واپسی اور سعودی سرمایہ کاری کا وہاں سے خاتمے کا اعلان کرے تو اس کا مقابلہ کرنا امریکہ کے لئے مشکل ہوگا۔ سعودی عرب اس طرح سے اہم اسلامی ممالک کے خلاف امریکی کارروائیوں کا توڑ کرسکتا ہے جبکہ من حیث المجموع امت مسلمہ کو اب اس امر کا متفقہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ پوری طرح ترکی کے ساتھ ہے ۔ اگر امت مسلمہ ڈالر سے تجارت اور امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا عزم صمیم کے ساتھ اعلان کرکے اس پر کار بند رہے تو امریکہ کے لئے صورتحال کا مقابلہ کرنا آسان نہ ہوگا۔ جب تک اسلامی ممالک مصلحتوں کاشکار رہیں گے ایک ایک کرکے ان کو کمزور کرنے کے حربوں میں کمی نہیں آئے گی۔ اس لئے مکمل اتحاد و اتفاق کے ساتھ ہی حالات کا مقابلہ کیاجائے اور باہمی تجارت اور ایک دوسرے کی اقتصادیات کو سہارا دینے کے امکانات و عوامل کا جائزہ لینے اور اس پر پوری طرح سے عمل درآمد کرکے ہی بقاء کی جنگ میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں