Daily Mashriq

بھاگڑبھام ، ہائے رام ہائے رام

بھاگڑبھام ، ہائے رام ہائے رام

سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میںسیاست ایسی الٹی پلٹی مار رہی ہے کہ سیا سی جما عتو ں میں دھو بی پٹر اکھیلا جا رہا ہے ، حکومت سازی کی طر ف قدم بڑھائے جارہے ہیں اس ضمن میں مو روثی سیا ست کا ر فرما ہے یعنی روایات پر عمل ہو رہاہے جیسا کہ ما ضی میں بھان متی کا کنبہ جو ڑ کر حکمر انی کی جا تی تھی اب بھی ویسا ہی حال ہے۔ نئے پاکستان میں سیا سی چال بازی میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ گزشتہ روز تین صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی اسمبلی کے اسپیکرز کے انتخابات کا مر حلہ بہر حال گزر گیا لیکن اس سے پہلے ایک دن کی اہم ترین بات پر بات ہو جا ئے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے وہ ہے صدر مملکت کا اکہتر ویں آزادی کی سالگر ہ کے مو قع پر خطاب ، پا کستان کے صدر جو بنیا دی طور پر مملکت کا سربراہ ہو تا ہے مگر کہا یہ ہی جاتا ہے کہ یہ عہدہ علامتی ہے اختیا رات سب کے سب چیف ایگزیکٹو کے پا س ہی ہو تے ہیں گو وہ پاکستان کی مسلح افواج کا آئینی طور پر سپریم کما نڈر ہے مگر یہ بھی رسمی سا عہد ہ ہے چنا نچہ ایسی تقاریب میں صدر مملکت کا خطا ب بھی روایتی جا نا جا تا ہے ، مگر اس مرتبہ صدر مملکت ممنو ن حسین نے بین السطور ایسی بات بیا ن کر دی کہ جمہوریت سے کھلواڑکر نے والو ں کی سوچ کو بھک سے اڑا کر رکھ دیا ہو گا۔ صدر ممنون حسین نے تقریب سے اپنے خطا ب میں واضح طور پر کہا کہ ملکی نمائندے وہی ہیں جنہیں ووٹر سند دیں ، پاکستان کی قسمت کے فیصلے ووٹ کی پرچی سے ہونگے ۔ممنو ن حسین صدر پاکستان نے حال ہی میں منعقدہ عام انتخابات کا ذکر بھی کیا اورکہا کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت اور حزب اختلا ف نے انتہا ئی عرق ریزی سے انتخابی اصلا حا ت تیا ر کیں جن کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کو وسیع تر اختیارات دیئے گئے ، اس کے باوجود مختلف حلقو ںکی جانب سے بے اطمینانی محسو س کی جا ئے تو یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے رفع کرے ، صدر مملکت کی تقریر میں اور بھی فکر انگیز باتیںتھیں جو بہت گیر ائی رکھتی ہیں۔ مگر محولہ باتو ں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ تازہ ترین حالا ت سے مطا بقت رکھتی ہیں۔ کہنے کو تو یہ ہے کہ صدر کی تقریر آئینی صدر کی تقریر کا تسلسل ہی تھا جو ایسے مو قعوں پرکی جا تی ہے جس کا گراف کو ئی بلند نہیںہو ا کرتا مگر صدر ممنون حسین کی تقریر کا گراف بھی اونچا رہا اور گہرائی وگھیرائی بھی خوب رہی ہے۔ یہ تقریر ان عنا صر کے لیے پیغام ہے جو پا کستان میں غیر جمہوری کھیل کھیلا کر تے ہیں اس کے ساتھ ہی انہو ں نے الیکشن کمیشن کی کا رکردگی پر بڑی خوبصورتی سے عدم اعتما د کا بھی اظہا ر کر دیا ، بات تو درست تھی کہ جب پارلیمنٹ نے اصلا حات کے ذریعے کمیشن کو بہت ہی بااختیار بنا دیا ہے کہ آئندہ یہ رونا ہی نہ رہے کہ بے بسی ملک میں شفاف انتخابات کرانے میں ناکا م رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طر ح الیکشن کمیشن کی دستا ویزات کچرے یا تندور وں پر پڑی مل رہی ہیں ، تو انتخابات کی شفافیت پر پھر سوال تو اٹھیں گے اور دھا ندلی کے الزام کو تقویت ملے گی صدر مملکت کا یہ کہنا درست ہے کہ شکا یت کنندہ گا ن کو مطمئن کیا جا ئے ۔ الیکشن میں دھاندلی کا رونا پیٹنا کوئی انہونی نہیں ہے ، پہلے بھی ایسے الزامات زیا دہ تر امید وار پر لگا یا کر تے تھے ، پہلی مرتبہ حکومت پر الزام کھل کر بھٹو مر حوم کی حکومت پر عائد ہو ا کہ براہ راست حکومت ملوث ہے اور اس مبینہ دھا ندلی کے خلا ف پاکستان قومی اتحاد نے زبردست تحریک چلا ئی جو جنرل ضیا ء الحق اچک لے گئے اور گیا رہ سال تک اپنی مطلق العنا ن حکومت قائم رکھی یا تا دم مرگ حکمر ان بنے رہے ، انہی دنو ں بھارت میں بھی انتخابات ہوئے تھے ، جس میں بھارتی جنتا پارٹی جو سیاسی جما عتو ںکی ملغوبہ تھی اس نے انتخابات میں کانگریس کی کرسی اقتدار کو الٹ دیا ، کانگریس نے آزادی ہند میں اہم کر دار ادا کیا تھا عوام نے بھی پنتیس چالیس سال تک کانگر یس کو حکمر انی کا حق دئیے رکھا ، جب تک پنڈت نہر و زندہ رہے کانگر یسی حکومت بھی مستحکم رہی مگر مسز اندراگاندھی کی دور میں کانگریس کی کشتی ایسی ڈگمگائی کہ اب تک اس کا سر نہیں بیٹھ پا رہا ہے حالانکہ اندرا گاندھی نے بھارت کے لیے کئی کا رنامے انجا م دیئے اس کے باوجو دعوام نے ووٹ کی پرچی سے اس کو ٹھوکر ما ردی کیوں کہ مسز اندراگاندھی کا واحد قصور یہ تھا کہ اس نے بھارت میں ایمر جنسی نا فذکر کے اپنی آمریت قائم کی تھی ۔ اس نئے پاکستان میں باعث حیر ت بات یہ ہے کہ سیاست میں کوئی نیا پن دیکھنے میں نہیں آیا ، تحریک انصاف جس کی کا میابی کی شہنائیا ں اس سر میں بج رہی ہیںکہ اس نے کا میابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں کہ ایک انقلا ب برپا ہو گیا ہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا وہی جو ڑ تو ڑ لینے دینے کی سیا ست ہو رہی ہے وہی پرانے سیا سی رشتو ں کا بازار گرم ہے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے مو قع پر مسلم لیگ نے ایک تگڑا سا احتجا ج کیا تو اس مو قع پر پی پی ہونٹ پر انگلی رکھ بیٹھ گئی اور خود کو الگ تھلگ رکھا ، گمان یہ تھا کہ پی پی اور دیگر سیا سی جما عتیں اس معاملے میں ایک دوسرے کی ساتھی رہیں گی مگر ایسا نہیں ہو ا جہا ں تک پی پی کا تعلق ہے تو اسکی بے رخی سمجھ میں آنے والی ہے کیو ں کہ ان کے قائد اور ہمشیر ہ قائد اس وقت نیب کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔ ان پر منی لا نڈر ی کا سنگین ترین الزام لگا ہے جس کی تفتیش ہورہی ہے ایسے موقع پر پی پی کی سیا ست کی ترجیح اپو زیشن نہیںہو سکتی، مفاہمت ہی ہو سکتی ہے جس کا منظر اسپیکر کے انتخاب کے موقع پر عمر ان خان کا خود قریب جا کر بلاو ل بھٹو اور آصف زرداری سے مصافحہ کر تے ہوئے مسکراہٹوںکا تبادلہ تھا ۔ عمر ان خان نے ویسے تو شہبا ز شریف سے بھی ہا تھ ملا یا مگر دیکھنے والو ں کا کہنا ہے کہ عمر ان خان نے آنکھیں دوچار نہیںکیں نگاہیں نیچی کیں ، اس موقع پر کئی افراد نے پر احمد فراز کو اس کے اس شعر کے ساتھ یا د کیا کہ 

’’تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز ‘‘

’’ دوست ہو تا نہیں ہر ہا تھ ملا نے والا ‘‘

متعلقہ خبریں