Daily Mashriq

چیلنج اور توقعات

چیلنج اور توقعات

22سال کی جدوجہد کے بعد عمران خان اپنا مقصد زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ 2018ء کے انتخابات میں ان کی جماعت کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ (حیران کن بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے لئے ڈالے گئے ووٹوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لئے ڈالے گئے ووٹوں کے تناسب میں فرق ہے) ان کی جماعت اپنے اتحادیوں کے تعاون سے حکومت سازی کا حق رکھتی ہے۔ 22 برس تک انہوں نے کرپشن فری پاکستان کا نعرہ لگایا۔ 5سال ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں بر سر اقتدار رہی۔ کہنے والے کہتے ہیں اس دوران پروپیگنڈہ زیادہ اور کام کم ہوا۔ چند ساتھیوں کے دامن پر کچھ ہلکے پھلکے نیلے پیلے داغ بھی ہیں۔ اصل قصہ یہ ہے کہ وہ اب سیاسی زندگی کے امتحانی پرچے کے رو بر ہوئے ہیں۔ ہر قدم پر ایک سوال ان کے سامنے ہوگا۔ اب وہ اقتدار میں ہیں‘ زبان پر قابو رکھنا ہوگا۔ مخالفین کے لئے سخت الفاظ کے چنائو سے اجتناب واجب ہے۔ ان کی بشری کمزوریوں اور دیگر معاملات پر بھد اڑانے والے موقع کی تلاش میں ہوں گے۔ ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھاتے انہیں آگے بڑھنا ہے۔ اولین طور پر دو کام کرنا ہوں گے۔ اولاً یہ کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے چائلڈ بے بی نہیں ایک سیاسی رہنما ہیں ثانیاً یہ کہ وہ تحریک انصاف کے نہیں پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔

اپنے زمانہ اپوزیشن میں انہوں نے بلند و بانگ دعوے اور انتخابی عمل کے دوران بڑے بڑے وعدے کئے۔ دعوئوں اور وعدوں کے ایفا کا موسم آن پہنچا ہے۔ درشنی و فیشنی خطرات اور مسائل نہیں۔ سچ یہ ہے کہ گمبھیر ترین مسائل ہیں‘ بلوچستان کی صورتحال ویسی نہیں جیسی میڈیا دکھا رہا ہے‘ ناراض بلوچوں سے بات کرنا ہوگی۔ بلوچستان جیسی ناراضگی سندھ اور خیبر پختونخوا کے کچھ حلقوں میں بھی ہے۔ ترقی پسند قوم پرستوں کی گمشدگی اور پھر پر اسرار انداز میں مسخ شدہ نعشیں ملنے سے پیدا ہوئے مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ پنجاب میں سرائیکی بولنے والے اضلاع ہوں یا خیبر پختونخوا کے سرائیکی بولنے والے اضلاع دونوں جگہ احساس محرومی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں نسلی شناخت پر سرائیکی بولنے والوں کی ٹارگٹ کلنگ اور سینکڑوں خاندانوں کی نقل مکانی کاالمیہ سب کے سامنے ہے۔ افسوس کہ پختونخوا میں پچھلے پانچ سال میں برسر اقتدار رہنے والی تحریک انصاف نے اصلاح احوال کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ملک میں دہشت گردی ایک مسئلہ ہے اور کرپشن دوسرا۔ یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ کرپٹ صرف سیاستدان نہیں دیگر شعبوں میں بھی بڑے بڑے کرپٹ موجود ہیں لیکن محض سیاستدانوں کی کرپشن کے شور سے کچھ حلقے ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں اور اس امر کے بھی خواہش مند ہیں کہ جمہوریت گالی بن جائے تاکہ لوگ دیگر شعبوں میں احتساب کی بات کرنے کی بجائے ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے رہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت پر سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بلا امتیاز احتساب کے لئے قانون سازی کروائے۔ عدلیہ میں مخصوص چیمبر ز کی بالادستی کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی ضرورت ہے جو اس امر کا جائزہ لے کہ پچھلے 46برسوں کے دوران چاروں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں جج بننے والوں کا تعلق وکلا سیاست کے کن خاص چیمبرز سے رہا اور ہے۔ اس طرح آرمی چیف کی تعیناتی کے صوابدیدی اختیار کو ختم کرکے قانون بنانا ہوگا کہ سبکدوش ہونے والے کی جگہ سینئر ترین جنرل خود بخود آرمی چیف بن جائے۔ پی آئی اے‘ ایف بی آر‘ کے پی ٹی‘ پیمرا‘ ریڈیو اور ٹی وی سمیت دیگر وفاقی اداروں میں سربراہان کی تقرری کو پارلیمان کی منظوری سے مشروط کیا جائے اور تقرری کی میعاد کم از کم تین سال ہو۔

معروضی حالات اور مسائل ہر دو اس امر کے متقاضی ہیں کہ نئی حکومت صاف ستھرے انداز میں معاملات کو چلائے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان 18ویں ترمیم میں طے شدہ امور سے چھیڑ چھاڑ سے گریز کیا جائے۔ گوادر پورٹ میں مقامی افراد کو 60فیصد نمائندگی دی جائے۔ بلوچستان کے وسائل سرداروں کی ناز برداری پر اڑانے کی بجائے براہ راست عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے پر صرف ہوں۔ ریاست اور شہریوں میں موجود بد اعتمادی کے خاتمے کے لئے اقدامات بھی ضروری ہیں۔ چاروں پڑوسی ممالک بھارت‘ افغانستان‘ ایران اور چین سے مساوی و منصفانہ اور بہتر تعلقات کار کے لئے ٹھوس پالیسی وضع کی جائے اور خارجہ امور میں پارلیمان کو بالا دستی حاصل ہو۔ یہ تاثر بھی ختم کرنا ہوگا کہ کوئی قوت ہے جو عوام کے فیصلوں پر اپنے فیصلے یا پسند و نا پسند مسلط کرتی ہے۔ 22سال کی عملی جدوجہد کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنے عمل اور پالیسیوں سے ثابت کریں کہ وہ اداروں کے مفادات کے نہیں پاکستان اور اس کے شہریوں کے مفادات کے محافظ ہیں۔ جمہوریت پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ سارے کام اس صورت میں ممکن ہیں جب سیاسی و انتخابی مہم کی تلخیوں کا سایہ بھی نظام پر نہ پڑنے پائے۔ عمران خان کو یاد ہوگا کہ وہ یکساں تعلیمی نصاب طبی سہولتوں و انصاف کی بلا امتیاز فراہمی کی جدوجہد کو مقصد زندگی قرار دیتے تھے۔ انہیں موقع ملا ہے وہ ان تین شعبوں میں 100فیصد نہ سہی 50 فیصد اصلاحات بھی کرلیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

متعلقہ خبریں