پاک سعودی تعلقات اور نئی حکومت

17 اگست 2018

میرے خیال میں پاکستان میں پہلی بار نئے وزیراعظم کے حلف لینے سے بھی پہلے امریکہ سمیت اسلام آباد میں مقیم سارے اہم ملکوں کے سفراء نے عمران خان سے ملاقات کرکے اپنی حکومتوں کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا ۔ ان ملکوں میں چین ، سعودی عرب ،ایران اور ترکی تو دوست ممالک کی حیثیت سے جانے پہچانے ہیں ۔ لہٰذا ان کے ساتھ ملاقات تو معمول پر محمول کیا جا سکتا ہے لیکن امریکہ کے نائب سفیراور بھارتی سفیر کی عمران خان سے ملاقات اور دونوں سفراء کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی اُمید بہت خوشگوار خبر کے طورپر سنی گئی ۔ اللہ کرے کہ ان دواہم ملکوں کے پاکستان کے ساتھ تعلقات دوستانہ نہ سہی اتنے ہو جائیں کہ ایک دوسرے کے مفادات کا پڑوسی کی حیثیت سے اپنے عوام کی خاطر نقصان پہنچانے سے گریز کریں گے تو بسا غنیمت شمار ہوگی ۔ بھارت تو ہمارا ازل کا پڑوسی ہے اور کبھی تبدیل نہیں کیا جا سکے گا اور امریکہ بھی چارلس ڈیگال کے ’’بقول دنیا کے ہر ملک کا پڑوسی ہے ‘‘۔ لیکن پاکستان کے لئے اس وقت دوستی اور محبت کے اظہاراور ’’دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے ‘‘سب سے زیادہ توقعات سعودی عرب سے ہیں ، سعودی سفیر نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر سینئررہنمائوں سے ملاقاتیں کیں اور عمران خان کو ایک دو دن قبل شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی کرائون پرنس محمد بن سلمان نے ٹیلیفون کرکے بات بھی کی ۔ عمران خان نے شاہ سلمان کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی اور دوسری طرف سے بھی ایسی ہی محبت کا اظہار ہوا۔ دعوت دونوں طرف سے قبول کی گئی ۔ پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے اکثر ایک بات کہی جاتی ہے کہ’’سعودی عرب نے ہمیشہ سخت حالات میں پاکستان کا ساتھ دیا‘‘۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر اس سے تھوڑا سا اختلاف ہے۔ ایک آدھ دفعہ ضرور سعودی عرب نے شاید شدید ضرورت کے وقت کچھ پٹرول قرض کی مہلت پر فراہم کیا تھا ۔ لیکن سعودی عرب نے صحیح معنوں میں کبھی بھی پاکستان کی ایسی کوئی ٹھوس مدد نہیں کی جو تاریخ میں امر ہوتا ۔ مادی امداد اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین کے نیچے بیش بہا انداز ومقدار میں دیئے گئے سیال سونے کی دولت سے مدد تو ایک طرف رہی ، کبھی بین الاقوامی فورم پر دو ٹوک انداز میں دوست کی طرف داری نہیں کی امریکہ جو سعودی عرب کا زمانوں سے دوست ہے اور ہمیشہ نازک حالات میں پاکستان کا ہاتھ بُری طرح مروڑتا رہا ہے لیکن مجال ہے کہ کبھی اس کے مزاج نازک پر کوئی بال آیا ہو ۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان کے مالی ومعاشی مشکلات کا بڑاسبب کرپشن ہے جس میں ہم سب چھوٹے سے بڑے تک اور سویلین سے لیکر فوجی تک سب شامل ہیں ۔ لیکن سعودی عرب یا پٹرول والے عرب ممالک نے کبھی بھی اس ملک میں ٹیکسٹائل ، کھیلوں کے سامان ، آلات جراحی ، چمڑے کی صنعتیں اور دیگر بہت سارے شعبوں میں سرمایہ کاری نہیں کی ۔ اگر ایسا ہوتا تو فریقین آج کتنے مستحکم معاشی پوزیشن میں ہوتے ۔ امریکہ اور یورپ کے بنک عرب شیوخ کے اربوں ڈالرز پر کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اگر تھوڑی بہت رقم پاکستانی بنکوں کو بھی دیتے تو یہاں بھی معاشیات پر اس کے بڑے خوشگوار اثرات ہوتے ۔ لیکن پاکستان نے اس سب کچھ کے باوجود ہمیشہ جب بھی سعودی عرب نے پکارا ہے ، لبیک کہا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ حرمین الشرفین کی حفاظت کے لئے اپنا تن من وھن قربان کرنے کی پیش کش کی ہے ۔ اور آج بھی خدانہ کردیااگر سعودی عرب کی سلامتی کوکہیں سے بھی کوئی خطرہ درپیش ہوا تو ہر پاکستانی جان ہتھیلی پر رکھ کرحاضر ہے ۔ سعودی عرب نے کبھی بھی ایسی کوئی بات نہیں کی ۔ دہشت گردی کے خلاف خطرناک جنگ میں بھی پاک افواج کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کوئی فوجی دستہ بھیجنا تو بہت مشکل کام تھا ، کبھی معاشی مدد کی پیش کش تک نہیں کی۔ اب اس وقت جب پاکستان میں عمران خان کی نئی حکومت قائم ہونے جارہی ہے اور کرپشن کے خلاف جہاد اس کا بنیادی موٹوہے او رسعودی عرب کی طرف سے عمران خان کو تعاون کی بیش کش ہوئی ہے۔اس کا نتیجہ اس صورت میں آنا چاہیئے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے بے نیاز کر کے اسلامی ڈویلپمنٹ بنک سے چار پانچ ارب ڈالر دلوانے کے علاوہ اپنے خزانہ خطیر سے سات آٹھ ارب ڈالر دلا کر اسلامی اُخوت کی مثال قائم کرے ۔ سعودی عرب کو معلوم ہوگا ، اور ہونا چاہیئے کہ پاکستان واقعی کوئی عام ملک نہیں ہے بلکہ سات لاکھ بہترین افواج ، ایٹمی طاقت اور بائیس کروڑ نفوس جن کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے عالم اسلام کا خاص ملک ہے ۔ لہٰذا سعودی عرب امریکہ اسرائیل اور بھارت کے مذموم عزائم سے اس کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرے ۔ اور یہ کردار اس وقت معاشی مدد کی صورت میں ہونا چاہیئے ۔ مشرقی وسطیٰ کو عین ، شام کی خانہ جنگیوں اور ایران و سعودی عرب کے درمیان کشیدہ حالات اور اب کینیڈا و سعودی عرب کے درمیان تنائو میں سعودی عرب کو پاکستان کی بڑی ضرورت پڑسکتی ہے ۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے پاکستانی لیبر اور محنت کشوں کی قدر کرے اور سعودی عرب میں ان کو مزید مواقع دیں اور پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مضبوط برادرانہ تعلقات کی تجدید کرے ۔

مزیدخبریں