Daily Mashriq


واسکٹ اور شیروانیاں

واسکٹ اور شیروانیاں

قانون ساز اسمبلیوں تک پہنچنے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ تجوریوں اور بوریوں کے منہ کھول کر الیکشن لڑنے کے تمام تر تقاضے پورے کئے جاتے ہیں، پارٹی کا ٹکٹ مل جائے تو پارٹی کا امیدوار گردانے جاتے ہیں لوگ۔ سیاسی پارٹی نیک نام یا قبول عام کی سند یافتہ ہو تو ٹکٹ حاصل کرنے والے امیدوار کے جیتنے کے امکانات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے اور اگر من پسند پارٹی کا ٹکٹ نہ ملے تو الیکشن لڑنے کا دم مارنے والا امیدوار الیکشن کمیشن کے لگے بندھے ضابطوں کی کارروائیاں پوری کرنے کے بعد تن تنہا الیکشن لڑنے کیلئے اکھاڑے میں کود جاتا ہے اور ایڑی چوٹی کا زور لگا کر متعلقہ حلقہ سے منتخب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم نے الیکشن2018ء کے دوران کسی سیاسی پارٹی سے ٹکٹ حاصل کئے بنا بہت سے امیدواروں کو الیکشن لڑتے دیکھا اور بہتوں کو آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن جیت کر اصل زر بمعہ منافع کماتے یا بکتے بکاتے بھی دیکھا۔ کہنے والے تو اسے جمہوری عمل کا حصہ کہتے ہیں۔ ہم نے اپنے زمانہ طالب علمی میں اس بات کو آنکھیں موند کر تسلیم کر لیا تھا لیکن جب بینظیر بھٹو کی شہادت کے فوراً بعد ان کے لاڈوں پالے بلاول زرداری بھٹو کی زبانی یہ بات سننے کو ملی کہ جمہوری عمل یا جمہوریت سے بڑھ کر بی بی کی شہادت کا بدلہ لینے کا کوئی اور ذریعہ بہتر نہیں تو ہم سوچنے لگے کہ انتقام لینے کیلئے توپ وتفنگ چھری چاقو کا استعمال کرنا غلط ہے سو بدلہ لینے کیلئے کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہوکر یا اس کا سربراہ بن کر دشمن کیخلاف ڈٹ جانا چاہئے اور جمہوری تقاضے پورے کرتے ہوئے دشمن کو چاروں شانے چت کرکے اس کو شکست فاش سے دوچار کرا دینا چاہئے اور دنیا والوں کو بتا دینا چاہئے کہ لیجئے صاحب ہم نے لے لیا بدلہ، ہم نے پچھاڑ دیا اپنے دشمن کو، میدان سیاست کے تازہ دم شہسوار بلاول بھٹو کی جمہوریت اور جمہوری اقدار کے متعلق کہی ہوئی یہ بات کتنی وزن دار تھی اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب الیکشن2018 کے پرامن اور کامیاب انعقاد کے فوراً بعد اہل دانش کو یہ کہتے سنا کہ الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے دعوے دار دہشتگرد ہار گئے جبکہ پاکستان کے پرامن اور محب وطن عوام جیت گئے۔ گویا انتقام لے لیا انہوں نے اپنے امن وسکون اور جان کے دشمنوں سے۔ آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں برپا ہونے والے الیکشن کو ملک کے نظام کو جمہوری خطوط پر استوار رکھنے کی ضرورت کہہ لیں۔ اسے عوام کے ذریعہ عوام کیلئے عوام کی حکومت کہہ کر پکاریں یا اسے انتقام لینے کا جمہوری طریقہ کہہ لیں۔

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

کے مصداق سچ اور سچ کے سوا کچھ نہ کہنے کا حق ادا کرتے ہوئے نہایت مؤدبانہ لہجے میں عرض کئے دیتا ہوں کہ مجھے اور مجھ جیسے بہت سے سرپھروں کو الیکشن الیکشن کھیلنا ہاتھیوں کی لڑائی نظر آتی ہے جس میں کچلے جاتے ہیں گھانس پھونس کے بوٹے پودے۔ اگر آپ میری اس بات سے اتفاق نہیں کرتے تو کم ازکم یہ بات مان لیجئے کہ الیکشن نام ہے۔ شطرنج کی بساط کا جس میں پارٹی ورکر سپورٹر اور ووٹر کردار ادا کرتے ہیں اس بساط کے مہروں کا اور جیت اسی کی ہوتی ہے جو بہت بڑا شاطر ہو۔ بوریوں تجوریوں اورخزانوں کے منہ کھول دئیے جاتے ہیں بازی کو جیتنے اور جیت کر اپنے نام کرنے کیلئے۔

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

اچھے بھلے نام ونمود والے اوندھے منہ گر جاتے ہیں اس میدان کارزار میں اور بہت سارے مقدر کے سکندر کامرانی اور کامگاری کے پھریرے لئے یہ جا وہ جا کہاں سے کہاں جا پہنچتے ہیں۔ یہ کھیل ہے سارا مائے کا۔ مائے کا سرمائے کا۔

مایا کو مایا ملے کر کر لمبے ہاتھ

تلسی داس غریب کی کوئی نہ پوچھے بات

کسی کی بات کہ جس پلے نہ ہو دھیلا وہ کرے نہ کبھی میلہ میلہ۔ یہ یا اس سے ملتا جلتا جملہ یا بڑا بول ہمارے سابق دھن مان وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ڈاکٹر طاہر القادری کے متعلق بڑے طنز آمیز لہجے میں ادا کیا تھا۔ اس بے چارے کو کیا خبر تھی کہ میلہ میلہ کرنے کیلئے دھن دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرہ خون نہ نکلا

یہ شعر ہمیں تب یاد آیا جب مملکت خداداد کے ممکنہ وزیراعظم کے پاس فوٹو کھنچوانے کیلئے اپنے پلے سے خریدکر پہننے کیلئے ایک واسکٹ بھی میسر نہ ہوئی، ایک بار نہیں تین بار دلہا بننے والے نوشہ عمران پیا کی اس ادائے دلبرانہ پر عش عش کر اٹھی ساری دنیا اور رشک کرنے لگیں اس واسکٹ کے مقدر پر وہ ساری واسکٹیں اور شیروانیاں جو بڑی چاہ سے سلوا کر پہنی تھیں پاکستان کی سیاسی تاریخ کی پندرہویں قومی اسمبلی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے والے قومی اسمبلی کے نو منتخب اراکین باتمکین نے، ادھر ساری واسکٹیں اور شیروانیاں رشک کر رہی ہیں اس واسکٹ پر جو ہمارے ممکنہ وزیراعظم نے محض فوٹو کھنچوانے کیلئے مستعار لیکر پہنی تھی اور ادھر وہ واسکٹ ساری کی ساری واسکٹوں اور شیروانیوں کو زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی تھی

ہماری سادہ مزاجی پہ رشک کرتے ہیں

وہ سادہ پوش جو بے انتہا رنگیلے ہیں

متعلقہ خبریں