Daily Mashriq

مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بھارت کا بے نقاب ہوتا چہرہ

مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بھارت کا بے نقاب ہوتا چہرہ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی اخبارات وجرائد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم پر جس طور تشویش اور سخت ردعمل سامنے آیا ہے اگر عالمی برادری اس سے اثر لے، اقوام متحدہ اور بڑی عالمی طاقتوں کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہو تو بھارت کو ان مظالم سے باز رکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت سفارتی کوششوں اور عالمی برادری کی وساطت سے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کی جو احتیاط کیساتھ کوشش کر رہا ہے اس کا نتیجہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے اجلاس کے بعد واضح ہوگا لیکن معروضی حالات میں ان سے کوئی بڑی امید وابستہ کرنا حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ہوتا اور اس ضمن میں رکن ممالک سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھاتے تو نوبت یہ نہ آتی کہ بھارت ان قراردادوں کو روندتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں اپنا تسلط مضبوط بنانے کیلئے آگے بڑھتا، بہرحال اس سراسر شر کی کوکھ سے خیر کا پہلو یہ نکلا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور بھارتی ظلم واستبداد ایک مرتبہ پھر عالمی ادارے اور عالمی برادری کے سامنے آگیا ہے۔ اس وقت اگر عالمی برادری اس مسئلے کی سنگینی اور شدت کو محسوس کرے تو بعید نہیں کہ اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے اور جنوبی ایشیاء میں امن واستحکام کی ابتدا ہو۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل ہی اس ظالمانہ اقدام کیخلاف سخت ترین ردعمل کا بخوبی احساس تھا یہی وجہ ہے کہ بھارت نے کلسٹر بم برسا کر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد مزید بڑھا کر اور ہر گلی محلہ، چوک، مارکیٹ، منڈی اور اہم علاقوں میں فوج کھڑی کر کے جس طرح صورتحال کو کنٹرول کرنے کی سعی کی ہے اس کا تقریباً نصف ماہ گزرنے کے باوجود مذاحمت اور کشمیریوں کے سخت ترین ردعمل میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بھارت کے اس اقدام کے بعد ایک اور بڑی تبدیلی ریاست ناگالینڈ کی طرف سے آزادی وخودمختاری کا اعلان اور چودہ اگست کو اپنی یوم آزادی کی تقریب منعقد کرنا سکھوں کی جانب سے خالصتان تحریک کو دوبارہ متحرک کرنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ بھارت کے اس اقدام سے بھارت کی تمام غیرہندو برادری خصوصاً مسلمانوں کا بھارت میں اپنے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہونا فطری امر ہے جس کے مظاہر رفتہ رفتہ سامنے آئیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر واستبداد کو عالمی میڈیا کس طرح سے دیکھ رہا ہے اور خود بھارت سے تعلق رکھنے والی ممتاز خاتون صحافی کی اس حوالے سے کیا رائے ہے ان سب کے جائزے کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت کے یہ اقدامات جب دنیا پر پوری طرح واضح ہو جائیں تو باضمیر لوگ ضرور اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی حکومتوں کو اس امر پر مجبور کریں گے کہ وہ اس ظلم وتعدی کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے حالات کو عالمی میڈیا کن نظروں سے دیکھ رہا ہے اس کی چند جھلکیوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارتی اقدام اور مظالم زیادہ دیر تک بلیک آؤٹ کرکے دبائے نہیں جا سکتے۔ یہ بات طے ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو ہندو نیشنلسٹوں میں چاہے کتنی ہی پذیرائی ملی ہو لیکن عالمی میڈیا اسے قبول کرنے کو قطعاً تیار نہیں۔ دنیا کے تمام بڑے اخبارات اور چینلز نے اس کی مذمت کی ہے لیکن میڈیا کی اس چیخ وپکار کے باوجود عالمی لیڈر اس پر خاموش ہیں کیونکہ انہیں انسانی حقوق، جمہوریت اور دوسری فضولیات سے زیادہ بھارت کی بڑی مارکیٹ کی فکر ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر واشنگٹن پوسٹ کی ایڈیٹر ملی مترا نے اپنے ایک مضمون میں مودی کے حالیہ اقدامات کو جابرانہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مودی بھارت کو غیرجمہوری ملک بنا رہے ہیں۔ اخبارگارڈین کے مطابق کشمیری مسلمانوں کو ریاستی ہندوتوا کا سامنا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں بھارت کی ایوارڈ یافتہ مصنفہ ارون دھتی رائے نے لکھا ہے کہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن سے لگتا ہے کہ بھارتی حکومت بدمعاش بن چکی ہے جس نے کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ اخبار ٹورنٹو سٹار نے اپنے ادارئیے میں لکھا ہے کہ بھارت جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے کشمیر پر براہ راست تسط جما کر خطرناک اور فیصلہ کن غیرجمہوری راستے پر گامزن ہو چکا ہے۔ اخبار نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی آئین کے آرٹیکل370 کی منسوخی سے متعلق سوال اُٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ مودی سرکار بھارت کو متنوع اور سیکولر اقدار کے حامل ملک کے درجہ سے دور لیجا کر ہندوتوا نظریات کے قریب لے جا رہے ہیں۔ برطانوی اخبار آبزرور نے لکھا ہے کہ مودی حکومت نے ہر چیز اُلٹ کر رکھ دی ہے۔ اخبارکے مطابق آئین میں تحریف کرتے وقت نہ تو شملہ معاہدے کی پروا کی گئی نہ ہی اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی قراردادوں کو دیکھا گیا۔ کشمیریوں سے ان کا حق خوداختیاری چھین لیا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی غلط حرکات سے پوری طرح آگاہ ہے لیکن عالمی لیڈروں کو وہاں کے انسانی حقوق، جمہوریت اور دوسری فضولیات سے زیادہ بھارت کی بڑی مارکیٹ کی فکر ہے اور خدشہ ہے کہ معاشی مفادات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، بھارتی مظالم اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر غالب آئے گی۔ اس ساری صورتحال سے واضح ہے کہ پاکستان کے موقف اور خاص طور پر کشمیری عوام پر ظلم وتعدی سے پوری دنیا واقف بھی ہے اور اسے تسلم بھی کرتی ہے اور یہی اُمید کا وہ چراغ ہے جس کے جلنے سے روشنی کی اُمید بھی ہے۔

متعلقہ خبریں