Daily Mashriq

ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل کا تقاضا

ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل کا تقاضا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان او روفاقی وزیر عمر ایوب خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں خیبرپختونخوا کے دورافتادہ علاقوں میں مختلف ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد کیلئے ٹائم لائن کا تعین کرنا ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل میں کتنا ممدو معاون ثابت ہوتا ہے اس کا تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں اگر بی آر ٹی کی مزید تاخیر کے بغیر تکمیل پر ترجیحی توجہ دی جاتی اور اسے ممکن بنادیا جاتا تو یہ صوبائی دارالحکومت کے شہریوں کیلئے بالخصوص اور صوبہ بھر سے پشاور آنے والوں کیلئے بالعموم باعث اطمینان امر ہوتا۔ یہ ترقیاتی سکیمیں عوام کو قدرتی گیس اور بجلی کی فراہمی ، انفراسٹرکچر کے قیام اور مواصلات پر مشتمل ہیں جو صوبے کے دور افتادہ علاقوں چترال، شانگلہ، بونیر، دیر ، باجوڑ ، ہنگو، خیبر ، وزیرستان ، ڈیرہ اسماعیل خان ، صوابی وغیرہ میں شروع کی جارہی ہیں۔وزیراعلیٰ نے بجا طور پر کہا ہے کہ صوبے کے دورافتادہ علاقوں خصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لوگوں نے بڑی مشکلات اُٹھائی ہیں۔ اب وقت ہے کہ زندگی کی تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا کی جائیں۔ اجلاس میں موجودوفاقی وزراء نے یقین دلایا کہ وہ مذکورہ بالا اضلاع میں سکیموں کے روڈ میپ وضع کرنے، حقیقت پسندانہ ٹائم لائن کے تعین اور سکیموں کی بروقت تکمیل میں وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر حکام کیساتھ بھر پور تعاون یقینی بنائیں گے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایک سنجیدہ قدم اور بہتر حکمت عملی ہوگی کہ سرکاری سکیموں کی تکمیل کی وجوہات کا جائزہ لیکر رکاوٹیں دور کر کے ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے اس ضمن میں مختلف اداروں کے درمیان روابط کو مربوط بنانے اور غیر ضروری تاخیر کا شکار بنانے والے فائل ورک، این اوسی اور متعلقہ محکمے کی جانب سے اپنے حصے کے ضروری کام کی بروقت تکمیل جیسے اقدامات پر توجہ اور جاری طریقہ کار میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ جبکہ محکمہ خزانہ کی جانب سے فنڈز کی بروقت فراہمی اور کام کا ایک مرحلہ مکمل ہوتے ہی ٹھیکیدار کو ادائیگی کا بھی بندوبست ہونا چاہئے اور اس امر کی نگرانی کی بھی ضرورت ہے کہ کوئی بھی منصوبہ فنڈز کی فراہمی کے بعد بلاوجہ تاخیر کا شکار نہ ہو۔

یہ وقت انگشت نمائی کا نہیں

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ یہ وقت اپوزیشن کے احتجاج کیلئے موزوں نہیں ہے بلکہ اس وقت کشمیر کے مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔وزیر اطلاعات نے احتجاج کیلئے موزوں وقت نہ ہونے کا بجا ارشاد کیا ہے لیکن خود حکومت نے کب اور کس وقت کس موقع پر کس کو گرفتار کیا اور کیا یہ وقت اور مصلحت کاتقاضا نہ تھا کہ بعض گرفتاریوں کو تنازعہ کشمیر کے تناظر میں مؤخر کیا جاتا۔حکومت کو اگر سیاست سے بالا تر ہو کر کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی مطلوب تھی تو مریم نوازشریف کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفر آباد ریلی کے انعقاد کا موقع دیتی۔حکومت کو یہ سوچنا چاہئے کہ ان کے اقدامات اور طرز عمل کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ حکومت کو صرف حزب اختلاف ہی سے بھلے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے بلکہ خود حکومت کا سیاسی جماعتوں،میڈیا اور عوام کیساتھ طرز عمل کا بھی از خود محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔حزب اختلاف کے مقابلے میں حکومت کی احتجاجی ریلیاں ہلکی کیوں رہیں جب مقصد ایک تھا تو حکومت اور حزب اختلاف نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد جدا بنانے کی سعی کیوں کی۔اس بارے دورائے نہیں کہ تنازعہ کشمیر کی سنگینی ملک وقوم سے وحدت واتحاد کا متقاضی ہے کیا احتساب کے نام پر ہونے والے اقدامات اور گرفتارشدگان سے برتائو اس قابل ہیں کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کوئی رابطہ ہوسکے۔بہتر ہوگا کہ احتساب کے اس عمل کو بلاوجہ طول دینے کی بجائے اسے حقیقی احتساب کا عمل بنایا جائے اور بلا امتیاز گرفتاریوں سے اس امر کا یقین دلایا جائے کہ احتساب یکطرفہ نہیں بلا امتیاز ہے۔اس وقت جاری احتساب کے عمل سے عوام کا اعتبار اٹھتا جارہا ہے اور وہ ان حکومتی دعوئوں سے مایوس ہونے لگے ہیں جو پورے ہونے کی بجائے گنجلک ہوتے جارہے ہیں ۔کشمیر کا تنازعہ جس اتحاد کا متقاضی ہے اسے سمجھنے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک دوسرے کو الزام دیا جائے۔توقع کی جانی چاہئے کہ ہماری جملہ سیاسی قیادت ہوش کے ناخن لے گی اور اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرے گی۔

متعلقہ خبریں