Daily Mashriq

شاہ ہمدانؒ اور حبہ خاتونؒ کا کشمیر

شاہ ہمدانؒ اور حبہ خاتونؒ کا کشمیر

بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں پچھلے گیارہ بارہ دنوں سے زندگی مفلوج ہے۔ دو تین مقامی اخبارات کے سوا تمام اخبارات وجرائد کی اشاعت معطل ہے‘ کاروبار بند ہیں۔ پہلے سے موجود سات لاکھ فوج کے ہوتے ہوئے بھارت نے 73ہزار تازہ دم فوجی کشمیر میں اُتارے۔ سرینگر میں بھارتی فوج کی ’’ریل پیل‘‘ دیکھ کر عالمی اور بھارتی میڈیا کے وہ نمائندے بھی حیران پریشان ہوئے جن کی رپورٹس شائع کرنے پر بھارت میں داخلی طور پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ بھی ہوا کہ دہلی پریس کلب میں دورہ کشمیر کی روداد سنانے والوں سے کہہ دیا گیا کہ وہ بنائی ہوئی ویڈیوز نہیں دکھائیں گے۔ مقبوضہ کشمیر جنگی کیمپ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ذرائع مواصلات (ٹیلی فون‘ موبائل اور انٹرنیٹ) جام ہیں۔ سرینگر میں موجود بی بی سی اور ایک دو عالمی میڈیا کے نمائندوں کے ذریعے خبریں آرہی ہیں مگر آزادانہ رپورٹنگ کے دروازے بند ہیں۔ گیارہ دنوں سے گھروں‘ دفتروں اور بعض جگہ مارکیٹوں میں محصور شہریوں کی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ خوراک اور ادویات کی کمی کوئی بڑا سانحہ برپا کرسکتی ہے۔ سرینگر سے جو دو تین اخبارات شائع ہو رہے ہیں ان میں شادی بیاہ کی تقریبات کی منسوخی کے اشتہار شائع کروائے جا رہے ہیں۔ کشمیریوں کی تینوں طرح کی قیادت جیل میں ہے۔ گھروں یا طے شدہ مقامات پر نظربند‘ تین طرح کی قیادت‘ مطلب پاکستان کے حامی‘ آزادی پسند اور وہ جو ریاستی اسمبلی کا الیکشن لڑتے اور اقتدار میں آتے رہے۔ جیسے فاروق عبداللہ‘ عمر فاروق‘ محترمہ محبوبہ مفتی وغیرہ۔ 15اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا۔ آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ پاکستان میں پہلی بار بھارت کے یوم آزادی کو سرکاری طور پر بلیک ڈے کے طور پر منایا گیا۔ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی پاکستانی درخواست پر سلامتی کونسل میں ابتدائی صلاح مشورہ آج ہونا ہے جبکہ سلامتی کونسل کا اجلاس سوموار 19اگست کو ہوگا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ چند وضاحتوں کے باوجود امریکہ اور روس کا ریاستی موقف یہی ہے کہ کشمیر بھارت کا داخلی مسئلہ ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے مقدس مقامات کی بدولت انتہائی قابل احترام سعودی عرب نے دو دن قبل بھارت میں 15ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے‘ جناب محمد بن سلمان اس سرمایہ کاری کو 2023ء تک 101ارب ڈالرکی سطح پر لے جانے کیلئے پُرعزم ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے قیام کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک تنازعہ کشمیر کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق طے نہ ہو۔ کشمیری کیا چاہتے ہیں‘ یہ درون سینہ راز نہیں کھلی حقیقت کی طرح عیاں ہے۔ ہم اگر بھارت کی یہ بات مان لیں کہ کچھ لوگوں کے علاوہ مقبوضہ وادی کی بڑی تعداد بھارت کیساتھ رہنے پر خوش ہے تو پھر بھارت دنیا کو گیارہ دن سے جاری کرفیو اور دوسری پابندیوں بارے بھی تو بتائے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ شاہ ہمدانؒ اور حبہ خاتونؒ (شاہ ہمدانؒ بلند مرتبہ صوفی اور حبہ خاتونؒ معروف کشمیری شاعرہ ہیں) کا کشمیر زندگی اور خوشیوں کو ترس رہا ہے۔ بھارت طاقت کے بل بوتے پر پچھلے ستر سالوں سے کشمیر پر قابض ہے۔ کشمیری بھارت کیساتھ رہنے میں خوش ہوتے تو وہ مقبول بٹ کی شہادت سے شروع ہوئی تحریک آزادی میں پچھلے سینتیس اٹھتیس سالوں کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ جانوں کے نذرانے نہ دیتے۔ افسوس یہی ہے جس دنیا کا ضمیر مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے معاملہ پر راتوں رات جاگ جاتا ہے وہ دنیا کشمیریوں کے نوحے سننے سے قاصر ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بات بات پر مسلم امہ‘ اسلامی دنیا کی باتیں کرنے والے منظر سے غائب ہیں۔ 100ارب ڈالر کے لگ بھگ بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والے مسلم ممالک اپنے مفادات کی بدولت چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ترکی‘ ملائشیاء اور ایران کا اس حوالے سے ردعمل قابل ذکر ہے۔ پچھلے گیارہ بارہ دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں موت کا سناٹا ہے۔ جبر وتشدد کا ہر ہتھکنڈہ بھارت آزما رہا ہے۔ ہندوتوا کی جنونی بھارتی قیادت کے چھوٹے بڑے کشمیر کے حوالے سے صبح وشام جو کہہ رہے ہیں اس پر انسانیت اور اخلاقیات ماتم کناں ہیں۔ کشمیری تاریخ کی عظیم شاعرہ حبہ خاتونؒ نے کہا تھا ’’سورج کی کرنیں ہوں کہ چاند کا نور دونوں کسی کو خاطر میں لائے بغیر مرغزاروں کو روشن کرتے ہیں۔ یہی روشنی پھولوں اور انسانوں کی زندگی ہے‘‘۔ چشموں‘ پھولوں‘ مرغزاروں کا دیس لہو لہو ہے۔ مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو کچلتا بھارت عظیم جمہوریہ ہونے کا دعویدار ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ جانوروں کے حقوق کیلئے حساس مغربی دنیا کو ڈیڑھ کروڑ کشمیری اور ان کے مسائل دکھائی نہیں دے رہے۔ کیا کشمیریوں کی قسمت میں بند گلی کی زندگی لکھ دی گئی ہے؟۔ صاف سامنے جو صورتحال بنتی اور دکھائی دے رہی ہے وہ امید افزاء ہرگز نہیں۔ عالم انسانیت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا۔ بہت سارے لوگوں کو سلامتی کونسل کے اجلاس سے اُمیدیں ہیں لیکن ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ امریکی سامراج اور اس کے طفیلی سلامتی کونسل کو حقیقی کردار ادا کرنے دیں گے؟ پچھلی شب باغ آزاد کشمیر سے ایک دوست سید تنویر احمد کا پیغام موصول ہوا۔ سیدی کہتے ہیں ’’ایل او سی کے اس پار خرکار کیمپ سے بھی بدترین صورتحال ہے۔ اہل پاکستان ہمارے بہن بھائیوں کی مدد کیلئے آگے بڑھیں۔ پاکستانی وزیرخارجہ جلسوں اور جلوسوں میں بھٹو بننے کی کوششیں کرنے کی بجائے کم ازکم مسلم دنیا کا ہی ہنگامی دورہ کرلیں‘‘۔ مکرر عرض ہے‘ شاہ ہمدانؒ اور حبہ خاتونؒ کا وطن لہولہان ہے۔ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سفارتی محاذ پر ہمیں ان کیلئے جو کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کر پارہے‘ کیوں؟ اس کا جواب اہل اقتدار کے پاس ہے۔

متعلقہ خبریں