Daily Mashriq

جنوبی ایشیا کا امن خواب وسراب؟

جنوبی ایشیا کا امن خواب وسراب؟

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی سے تاریخی اہمیت کا حامل خطاب کیا۔ انہوں نے بھارت میں ایک نئے ہٹلر اور نازی ازم کے ظہور اور نتائج پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کشمیریوں کو دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان ہر فورم پر ان کا مقدمہ لڑے گا بلکہ وہ خود کشمیر کے سفیر کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو بتائیں گے کہ بھارت کشمیریوں کیساتھ کیا کر رہا ہے۔ عمران خان نے نریندر مودی کو بھی پیغام دیا کہ اگر وہ آزاد کشمیر پر جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے تو پاکستان اینٹ کا جواب پتھر سے دیگا اور خطے میں جنگ کی ذمہ داری عالمی برادری پر ہوگی۔ جس روز عمران خان نے بھارت اور کشمیریوں کو واضح پیغام دیا عین اسی روز پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی یہ بات واضح کی کہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ خطہ اس وقت ایک تاریخی موڑ مڑ رہا ہے۔ گزشتہ بہتر سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو اہم ملکوں پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑی اور اہم ترین وجہ نزع کشمیر ہے۔ یہ بہتر سال اس مسئلے کے حل کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان کئی کھلی جنگوں، لاتعداد پراکسی جنگوں، سفارتی رزم آرائیوں، مذاکرات کی بزم آرائیوں، ٹوٹتے بنتے معاہدات عہد ناموں سے عبارت رہے۔ اختلاف کا پرنالہ جہاں روزاول کو تھا آج بہتر سال بعد بھی وہیں ہے۔ یہ بہتر سال دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کی اُمید پر اعتماد سازی کے اقدامات، ثقافتی میلے ٹھیلوں اور عوامی رابطوں میں گزر گئے مگر پورے سفر کا نتیجہ صفر ہی رہا۔ یہاں تک کہ نریندر مودی نے کشمیر کی الگ شناخت پر آخری وار کر کے تنازعے کی موہوم اُمید بھی ختم کردی۔ تنازعہ صرف دو صورتوں میں ختم ہو سکتا تھا، اول یہ کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام کو خاموشی اور رسمی احتجاج تک محدود رہتے ہوئے قبول کر لیتا۔ دوئم یہ کہ کشمیری عوام اس فیصلے کو مقدر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے۔ کشمیریوں کی طرف سے اس فیصلے کو قبول کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ انہیں حالات وواقعات اور اپنی جواں سال نسلوں نے سرکٹوا کر اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کی کوئی راہ نہیں۔ خود پاکستان نے بطور ریاست بھارت کی اس یکطرفہ کارروائی کی مذمت ہی نہیں مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیا۔ پاکستان نے کشمیریوں کی وکالت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت ہر فورم سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔ اسی کی دہائی میں یہ سہولت فلسطینیوں سے بہت مہارت اور مکاری سے چھین لی گئی تھی۔ اس وقت تک اردن، مصر اور شام ان کی بین الاقوامی سطح پر وکالت کررہے تھے مگر بہت مہارت سے فلسطینی عوام کو اپنا مقدمہ خود لڑنے کا جھانسہ دیا گیا۔ یاسرعرفات اور پی ایل او نے سمجھا کہ اس اجازت کے ذریعے ان کا بین الاقوامی سٹیٹس تسلیم کیا جا رہا ہے مگر حقیقت میں یہ فلسطینی عوام کو تین مضبوط ملکوں کی وکالت سے محروم کرتے ہوئے تنہا کرنے کی چال تھی۔ مصر کیمپ ڈیوڈ کے ذریعے الگ ہوگیا، باقی ملک بھی رفتہ رفتہ پی ایل او اور یاسرعرفات کی صلاحیتوں کا نظارہ دیکھنے کیلئے معاملے سے الگ ہوئے اور یوں یاسرعرفات اسرائیل جیسی منظم اور خوں خوار اور باوسیلہ طاقت کا تنہا مقابلہ نہ کر سکے۔ ان کی مزاحمت اور سرزمین کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں کاٹ کر ہضم کر لیا گیا۔ اب فلسطینیوں کے ہاتھ میں صرف اپنا وکالت نامہ ہے، سر پر اسرائیل کے جبر کا کوڑا ہے اور دنیا کی بے حسی اور بے بسی ہے۔ دوریاستوں کی بات قصۂ پارینہ بن گئی حد تو یہ کہ اپنے آبا کی سرزمین پر بھی فلسطینی تیسرے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں۔ آج کشمیریوں کو جو فریب دیا جارہا ہے وہ یہی ہے کہ پاکستان اس معاملے سے الگ ہو کر کشمیریوں کو خود سفارتی محاذ پر اپنا مقدمہ لڑنے کا موقع ملے۔ کہنے کو تو یہ ایک خوشنما تصور ہے مگر اس کے پیچھے تجربے اور تاریخ کے کئی سبق ہیں جن میں فلسطین کا مسئلہ اہم ہے۔ فلسطین کا مسئلہ اسلئے بھی کشمیر کے تناظر میں سیکھنے اور سمجھنے کی ایک بنیاد ہے کیونکہ بھارت کشمیر میں فلسطین ماڈل کو ہی اپنائے ہوئے ہے۔ اسلئے جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ آزادکشمیر حکومت کو تسلیم کرکے اپنا مقدمہ لڑنے کیلئے تنہا چھوڑ دینا چاہئے وہ ایک غلطی کر رہے ہیں۔ اس دور کی پی ایل او بھی ایک جلاوطن حکومت سے کم نہیں تھی بلکہ آزادکشمیر حکومت سے اس کی اتھارٹی، تعارف اور اثر ورسوخ ہزار گنا زیادہ تھا۔ کشمیریوں کو ساتھ لیکر پالیسی سازی میں شریک کرکے اس مقدمے کو لڑا تو جا سکتا ہے مگر کشمیریوںکو بھارت جیسے باوسیلہ اور مکار ملک کے مقابلے میں تنہا آگے کرنا کامیاب حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔ اس سے اندازہ ہو رہا

ہے کہ پاکستان اور بھارت کی لڑائی ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ کشمیر بدستور آنے والے زمانوں میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان وجہ نزع بنا رہے گا۔ اس طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کی بات محض ایک خواب وخیال ہوکر رہ گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا تصور بھی ہولناک ہے۔ بہتر سال کی کشمکش کسی منطقی اور خوشگوار انجام پر منتج ہونے کی بجائے اس سے کہیں زیادہ خوفناک دور میں داخل ہو رہی ہے۔ جوں جوں بھارت کشمیر میں اپنا ایجنڈا نافذ کرے گا اسی رفتار سے پاکستان پر عملی اقدام کرنے کا دباؤ اپنی رائے عامہ کی طرف سے بڑھے گا۔ جنگ کی باتیں بہادری اور امن اور سیاسی اور سفارتی جدوجہد کی بات کمزوری بلکہ اس سے بڑھ کر غداری قرار پائے گی۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں