Daily Mashriq

سبزہ وگل کی جگہ ہے درو دیوار پہ خاک

سبزہ وگل کی جگہ ہے درو دیوار پہ خاک

بھادوں کی ابتدائی ساعتوں نے گزشتہ تین چار روز کی تپش سے اس وقت نجات دلا دی جب صبح صبح ہی بارش نے پشاور کے شہریوں کے دل ’’ٹھنڈا ٹھار‘‘ کر لئے، یکم بھادوں کو جل تھل نے موسم کو بہت حد تک خوشگوار کردیا ہے اور31ساون کی آخری ساعتوں تک حبس، پسینے اور گرمی کی شدت سے اکتائے ہوئے لوگو ں کے چہرے کھل اُٹھے۔ موسمیات والوں نے بھی پیشگوئی کر رکھی تھی کہ جمعرات (31ساون) سے لیکر ہفتے کے روز تک بارشوں کا سلسلہ رہے گا، اگرچہ جمعرات کو حسب روایت موسم نے پشاور میں پشکال والی صورتحال برقرار رکھی اور لوگ پسینے سے شرابور ہو رہے تھے مگر جمعہ یکم بھادوں کی صبح ہی صبح بارش کی رم جھم سے صورتحال میں کافی بدلاؤ آگیا اور اس وقت جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں پشاور میں موسم نے اپنی مہربانیاں بانٹنی شروع کر رکھی ہیں اور ناہید نیازی اور نجمہ نیازی کا وہ خوبصورت گیت ذہن ودل کی دنیا میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے

رم جھم رم جھم پڑے پھوار

تیرا میرا نت کا پیار

گزشتہ روز ہمدم دیرینہ خالد خواجہ نے اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد کی ایک پرانی پوسٹ فیس بک پر اپ لوڈ کردی تھی جس میں شہر کے ایک خوبصورت سرسبز علاقے میں ہرے بھرے درختوں کی جھنڈ میں پیدل چلنے والوں کیلئے بنے راستے پر بارش کے دنوں کی یاد تازہ کرتی ہوئی ویڈیو میں آسمان سے برستا پانی ایبٹ آباد کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ساتھ ہی جو تبصرہ انہوں نے کیا اس سے ہمارے بالائی علاقوں پر پڑنے والی اس افتاد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو افغان جنگ کے نتیجے میں وہاں کے جنگلات کی تباہی کا نوحہ بن کر دلوں میں کھب جاتا ہے۔ خالد نے پہاڑی علاقوں کے قدرتی حسن کی تباہی کو جنگلات کی بے پناہ کٹائی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری ’’مہمان‘‘ بن کر آنے والے ’’ہمسایوں‘‘ اور ان کو بلوانے کی ذمہ داری سابق آمر جنرل ضیاء الحق پر ڈالی ہے جس نے امریکہ، روس جنگ میں کود کر اس خطے کو مشکلات سے دوچار کیا، گویا صورتحال احمد فراز کے اس شعر کی مانند ہے کہ

آکے دیکھو تو سہی شہر مرا کیسا ہے

سبزہ وگل کی جگہ ہے درویوار پہ خاک

خالد خواجہ کی بات کسی حد تک تو درست ضرور ہے مگر بقول جسٹس کیانی ناٹ دی ہول ٹروتھ یعنی یہ مکمل سچ نہیں ہے، جن مہمانوں کی جانب اشارہ کر کے خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں کے جنگلات کی بربادی کی ذمہ داری کلی طور پر ان کے سر ڈالی گئی ہے یہ مکمل سچ نہیں بلکہ جزوی طور پر درست الزام ہے، کیونکہ ان لوگوں نے خصوصاً سردیوں کے دنوں میں جنگلات سے لکڑیاں کاٹ کاٹ کر بطور ایندھن استعمال ضرور کی ہیں جبکہ جنگلات کی بے پناہ کٹائی خود انہی علاقوں کے ان بااثر افراد کی مرہون منت ہے جو سرکاری عمال سے ملکر کٹائی کے ٹھیکے لیتے رہے اور ایک کی جگہ بیسیوں درخت کاٹ کر چوری کرتے اور اپنی تجوریاں بھرتے رہے، مجھے یاد ہے کہ جب سقوط ڈھاکہ کے بعد باقی کے پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی اور صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) اور بلوچستان میں نیپ جوئی کی حکومتیں تھیں تو ایک بار صدر ذوالفقار علی بھٹو (تب نہ آئین بنا تھا نہ بھٹو وزیراعظم بنے تھے) نے صوبہ سرحد کے دورے کے موقع پر اس وقت نیپ کے گورنر ارباب سکندر خان خلیل سے گورنر ہاؤس کی عمارت کی سیڑھیوں پر کھڑے کھڑے ایک ایم پی اے (جن کا تعلق مانسہرہ سے تھا) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ارباب صاحب اس جنگل چور کو آپ نے ابھی تک گرفتار نہیں کروایا، یہ تو جنگلات کی چوری میں ملوث ہے اور میں آپ کو تحریری طور پر اس کی گرفتاری کا کہہ چکا ہوں‘‘ ارباب سکندر خان مسکرائے اور جواب دیا اس پر بات کرلیں گے، بات تو خیر کیا کرنی تھی کیونکہ جب چند ہفتے بعد ہی بھٹو نے بلوچستان کی منتخب حکومت کو غیرآئینی طور پر برطرف کیا تو صوبہ سرحد میں بھی نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مشترکہ حکومت نے حکومت سے علیحد گی کا اعلان کیا اور ارباب سکند خان خلیل بھی گورنری کو لات مار کر علیحدہ ہوگئے، اس کے بعد پیپلز پارٹی نے قیوم لیگ کیساتھ ملکر یہاں بھی حکومت قائم کی تو اسی ’’جنگل چور‘‘ کو وزیراطلاعات بنایا گیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری سیاست کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں اور مفادات کے تابع ہوتے ہوئے ہم کتنے سمجھوتے کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ صدر بھٹو اور گورنر ارباب سکندر کے مابین اس بات چیت کا میں ذاتی طور پر گواہ ہوں کہ بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان بھٹو کا مذکورہ دورہ میں نے ہی کور کیا تھا اسلئے جب بعد میں صدر بھٹو کو سیاسی سمجھوتہ کرتے دیکھا تو مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ یعنی بقول شاعر

شام تک صبح کی نظروں سے اُتر جاتے ہیں

اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے حقائق سے پردہ ہٹانا اس لئے ضروری ہے کہ جو بربادی ہمارے جنگلات کا مقدر بنا دی گئی ہے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں