Daily Mashriq

آئیں زندگی کی حقیقت کو سمجھیں

آئیں زندگی کی حقیقت کو سمجھیں

افسوس بہت دیر ہوگئی یہ سمجھنے میں کہ زندگی میں نام نہاد کامیابی کیلئے اتنی محنت کی تو ضرورت ہی نہیں تھی، خواہ مخواہ پوری زندگی دوڑتے ہی رہے۔ ہر قدم پر اپنے آپ کو ہلکان کیا، درمیان میں کبھی سانس لینے کیلئے نہیں رکے۔ پہلے یونیورسٹیوں میں ٹاپ پر آنے اور نئی نئی ڈگریاں لینے کا جنون، پھر نوکری ایمانداری سے کرنے کا جنون، اوپر والوں سے بھی لڑائیاں، نیچھے والوں سے بھی لڑائیاں۔35سال سرکاری نوکری کرنے کے بعد ریٹائر ہوکر اب اس خوبصورت دریا کے کنارے بیٹھ کر سوچ رہا ہوں کہ میرے رب نے اتنی خوبصورت دنیا بنائی تھی لیکن ہم اس کو صحیح طور سے انجوائے کرنے سے محروم رہے یہ خوبصورت سرسبز پہاڑ، ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اور رنگ برنگے پھول، دریا کا نیلگوں پانی، ساری جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج تو یہاں ہے، پھر انسان تھوڑا سا وقت نکال کر یہاں آکے بیٹھتا کیوں نہیں تاکہ اس کی زبان تو کیا دل بھی اللہ کی تسبیح کرنے لگے اور دل ودماغ دونوں قرآن کی اس آیت کی گواہی دینے لگیں کہ ترجمہ: پس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔

افسوس ہر انسان کی زبان پر بس یہی ہے کہ ٹائم نہیں ملا، خیال نہیں آیا، یہ دولت، یہ بینک بیلنس یہ جائیداد جس کیلئے تم نے اپنوں‘ بیگانوں سب کیساتھ ظلم کیا حتیٰ کہ اپنی سگی بہنوں کو بھی ماں باپ کی وراثت سے محروم کرکے ان کی پوری عمر کی بددعائیں مول لے لیں اور قبر وآخرت کا عذاب بھی اپنے اوپر لازم کیا کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی کھلی نافرمانی اور قرآن وشریعت سے کھلی بغاوت ہے۔ تمہیں شیطان نے بہکایا تھا اور لالچ نے اندھا کیا تھا، اسی لئے تم نے اپنی اس سگی بہن کو دھکا دیکر والد کی وراثت سے محروم کیا،وہی بہن جو ہمیشہ تمہاری خیرخیریت کی دعائیں مانگتی رہیں لیکن اس بہن پر ظلم کرکے یہ زمین تمہارے کس کام کی؟ یہ زمین تو تمہاری ہے ہی نہیں، یہ تو اربوں سال سے میرے رب کی ہے اور اس زمین کے کروڑوں دعویداروں کی تو ہڈیاں بھی اب باقی نہیں رہیں۔ تم تو خواہ مخواہ جائیداد کے کاغذات سنبھالے ہوئے ہو۔ تمہارے حصے میں تو شاید قبر کی چھ ضرب تین فٹ کی زمین بھی نہ آئے۔ بینک میں رکھی گئی دولت بھی آپ کے کام کی نہیں، تم تو خواہ مخواہ چیک بک کے چوکیدار بنے ہوئے ہو۔ یہ دولت تو بہت جلد کسی اور کے قبضے میں جانے والی ہے۔ تمہیں ایک دن بھی خیال نہیں آیا کہ آخر تمہاری ضرورت ہی کتنی تھی جس کیلئے تم نے سگی بہن کو بھی رُلا دیا اور مسئلہ صرف ایک بہن کا نہیں ہے۔ میرے گاؤں کی تقریباً دس ہزار بہنیں چپکے چپکے یہی آنسو بہا رہی ہیں۔ سب کا حق مارا گیا ہے اور ان کے بھائی پوری بے شرمی کیساتھ ان کے حق پر ڈاکہ ڈال کر پنج وقتہ نمازوں کیلئے مسجدوں کا رُخ کرتے ہیں یا پھر حج اور عمرہ کیلئے مکہ جاتے رہتے ہیں۔

کئی سال پہلے قاہرہ میں بین الاقوامی کانفرنس سے فراغت کے بعد ایک سعودی اور ایک یمنی ڈاکٹر کے ہمراہ جامعہ الازہر کے علماء سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ وہ یہ سب سن کر حیران رہ گئے کہ بھائی والدین کی وراثت میں سے بہن کو کیسے محروم کر دیتے ہیں۔ پوچھا کہ کیا یہ بھائیوں کی سگی بہنیں ہوتی ہیں؟ میں نے جواب دیا ہاں! بالکل سگی ہوتی ہیں۔ ان کا فتوی تھا کہ یہ تو صریحاً قرآنی احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث کی خلاف ورزی ہے۔ ان حرام کھانے والے بھائیوں کی کوئی بھی عبادت قبول نہیں ہوتی اور یہ دوزخ کی آگ کے مستحق ہیں۔ مزید فرمایا کہ اسلامی دنیا میں یہ قتل وغارت دراصل اللہ تعالیٰ کے عذاب ہی کی ایک شکل ہے کیونکہ احادیث میں ہے کہ جو قوم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پس پشت ڈال کر گمراہ ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس قوم پر تین طرح کے عذاب نازل کر دیتا ہے۔ پہلا یہ کہ اس قوم کو آپس میں لڑا لیتا ہے۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹنے لگتا ہے۔ اسلامی دنیا پر نظر ڈالیں تو بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔ عذاب کی دوسری صورت یہ کہ زمین پھٹنے لگتی ہے اور شدید زلزلے آنے لگتے ہیں اور اللہ کے عذاب کی تیسری شکل یہ ہے کہ آسمان سے پتھر برسنے لگتے ہیں۔ جامعہ الازہر کے ایک بہت ضعیف اور سینئر عالم دین نے فرمایا کہ اللہ کے عذاب کی پہلی شکل نازل ہو چکی ہے، اب زمین کے پھٹنے اور آسمانوں سے پتھر برسنے کا انتظار کرو۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے بہت سارے ممالک کے دوروں کے دوران وہاں کے لوگوں کی طرززندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کریم رب نے تو انسان کی ضرورتیں بہت محدود رکھی ہیں۔ صبح وشام دو چپاتیاں اور چند چمچے سالن۔ اس سے زیادہ خوراک تو بیماریاں لاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ساڑھے چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا کہ ابن آدم کو تو اپنی کمر سیدھی رکھنے کیلئے محض چند نوالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا کے دو ارب سے زیادہ انسان یعنی تقریباً ایک تہائی انسان زیادہ کھانے کی وجہ سے بیمار ہوتے ہیں۔ زیادہ دولت سے نہ تو انسان اپنی عمر میں اضافہ کرسکتا ہے نہ اپنے بدن کی طاقت میں اضافہ کرسکتا ہے اور نہ ایک عام پرندے کی طرح ہوا میں اُڑ سکتا ہے تو پھر لعنت ہو حرام کی دولت پر، جو لوگ اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں وہ اپنی زندگی ہی میں اپنی کمائی ہوئی دولت کا ایک بڑا حصہ غریبوں میں بانٹ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ موت سے پہلے ہماری آنکھیں کھول دے۔ ہمیں ظالم ہونے اور حرام کی کمائی سے بچائے اور موجودہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں