Daily Mashriq

امن کی خواہش!

امن کی خواہش!

جب دو ممالک کے درمیان تعلقات کشیدگی اختیار کر جائیں تو مذاکرات اور بہترین سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس سلسلے میں دونوں طرف سے لچک کا مظاہرہ کیا جانا، امن کی خواہش اور امن کیلئے ضروری اقدامات سے ہی مذاکرات پایۂ تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں، فریقین میں سے اگر کوئی ایک بھی لچک کا مظاہرہ نہ کرے اور اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم رہے تو مذاکرات کی بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھ سکتی اور فریقین میں سے جو ایک لچک کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے دھیرے دھیرے وہ بھی مذاکرات کے علاوہ دیگر آپشنز پر غور شروع کر دیتا ہے، جس کا نتیجہ ایک خونریز جنگ کی صورت سامنے آتا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے ضمن میں بھی یہی ہونے جا رہا ہے کیونکہ جب ایک فریق مذاکرات پر آمادہ ہی نہ ہو تو کیا یکطرفہ مذاکرات ممکن ہیں؟ ’’امن‘‘ بھی بہت اچھی چیز اور مطلوب ومقصود ہے، مگر ہر قیمت پر نہیں۔ جب آپ کے بچوں وبزرگوں کے جان ومال کے تحفظ، خواتین کی عزت وآبرو کی حفاظت اور ’’امن کی فاختہ‘‘ کی بقا وسلامتی کیلئے جنگ ناگزیر ہو تو کیا آپ پھر بھی اس سے گریز کا پرچم ہی اُٹھائے رکھیں گے؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور جب یہ حد عبور کرلی جائے تو پھر کوئی اقدام لازم ہو جاتا ہے۔جنگ اگر کسی مسئلے کا حل نہیں تو ٹینک، توپ، جنگی جہاز، گولہ بارود، ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم وغیرہ کیوں ایجاد کئے گئے؟ امریکہ ویورپ میں بڑی بڑی فیکٹریاں اس اسلحہ کی تیاری میں رات دن کیوں مصروف ہیں؟ ان ممالک نے اپنے یہاں اس اسلحہ کے ڈھیر کیوں لگا رکھے ہیں؟ اسلحہ اور گولہ بارود کی فروخت اہلِ مغرب کا سب سے بڑا کاروبار کیوں ہے؟ جنگ اگر اتنی بری چیز ہے تو آپ آنِ واحد میں پوری دنیا کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دینے کی صلاحیت رکھنے والا اپنا خطرناک اسلحہ ضائع کیوں نہیں کر دیتے؟ یہ اسلحہ تیار کرنے والی فیکٹریاں بند کیوں نہیں کردیتے؟ امن آپ کو اگر بہت عزیز ہے تو اسے تباہ کرنے والے اسلحہ کی فروخت بند کیوں نہیں کر دیتے؟ پوری دنیا جنگ کے خطرے سے بے نیاز ہو کر چین کی نیند سوسکے گی۔ مگر ایسا انسانی تاریخ میں کبھی ہوا ہے نہ اب ہوگا۔ امن سے محبت اور جنگ سے نفرت کے نعرے محض دوسروں کو سنانے کی لوریاں ہیں، اپنے لئے ’’جنگ سے بچاؤ کا بہترین راستہ جنگ کیلئے تیار رہنا ہے‘‘ کا اصول وضع کر لیا جاتا ہے۔جنگ اگر کسی مسئلے کا حل نہیں تو اسرائیل نے گزشتہ نصف صدی میں مشرق وسطیٰ میں بار بار جنگ کیوں مسلط کی؟ فلسطین، اردن، شام اور مصر وغیرہ کے جن علاقوں پر اسرائیل نے اسلحہ کے زور پر قبضہ کیا، کسی نے اس کا کیا بگاڑ لیا؟ کسی اقوام متحدہ، کیا سلامتی کونسل یا امن کی پرچارک کسی بڑی طاقت نے اسے جنگ کرنے سے روکا؟ اسرائیل نے اگر مشرق وسطیٰ میں بار بار امن تہ وبالا کرکے کوئی برا عمل کیا تو امریکہ ویورپ سمیت تمام مہذب دنیا آج بھی اسرائیل کی سرپرستی اور پشت پناہی کیوں کر رہی ہے؟ ان سب کو ’’امن‘‘ آخر کیوں عزیز نہیں ہے؟ یہ ’’جنگ‘‘ کی آگ کو ہوا دینے کیلئے اسرائیل کو دھڑا دھڑ اسلحہ کیوں فراہم کر رہے ہیں؟ ایران کے ایٹم بم بنانے سے انکار کے باوجود محض شک کی بنا پر اگر اس پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں تو یہی پابندیاں ایٹم بم تیار کر چکنے اور بے بس فلسطینیوں پر مظالم کی انتہا اور ان کی زندگی اجیرن کر دینے والے اسرائیل پر کیوں عائد نہیں کی جاتیں؟ ’’امن‘‘ پسندوں نے آج تک جنگ پسند اسرائیل کا ناطقہ کیوں بند نہیں کیا؟جنگ اگر مسائل کا حل نہیں تو سوال یہ بھی ہے کہ نائن الیون کے واقعے کے بعد آخر امریکہ نے محض شک کی بنا پر جنم دئیے گئے تنازعہ افغانستان کو طالبان حکومت سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح کیوں نہیں دی؟ کیوں ان پر جبراً جنگ مسلط کر دی گئی؟ اور اس جنگ میں ساتھ نہ دینے کے خدشے پر پاکستان جیسے ’’پرانے دوست ملک‘‘ کو بھی دشمن تصور کرنے کی کھلی دھمکی دینا کیوں ضروری سمجھا گیا؟ جنگ اگر مسائل کا حل نہیں تو کیمیائی گیس کے استعمال کا جھوٹا اور من گھڑت الزام عائد کرکے عراق پر امریکہ نے حملہ کیوں کیا؟ صدام حسین کیساتھ مذاکرات کا راستہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ لاکھوں انسانوں کو تہِ خاک کیوں سلا دیا گیا؟ پورے عراق کو کھنڈرات میں کیوں بدل دیا گیا؟پاکستان اور بھارت کے بارے کہا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین چار جنگوں کے باوجود اب تک مسائل حل نہیں ہوئے، اس لئے ’’جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں‘‘۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوری بعد بھارت نے کشمیر میں فوجیں داخل کرکے اس پر جبراً قبضہ کرلیا تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایت پر ہم نے بھی ’’کشمیر بزور شمشیر‘‘ کی پالیسی اختیار کی اور کشمیر کے ایک بڑے حصے کو آزاد کرا لیا۔ بھارت نے جب سارا کشمیر ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس کیا تو فوراً اقوام متحدہ میں جاکر درخواست دائر کی اور کشمیر میں حقِ خود ارادیت اور رائے شماری کے وعدوں کا ’’لالی پاپ‘‘ دیکر جنگ بندی کروا لی۔ تب سے اب تک کشمیریوں کو حقِ خودارادیت ملا اور نہ رائے شماری کی نوبت آئی۔ بھارت حیلوں بہانوں سے اپنے اس وعدے ہی سے مکر گیا۔ پھر ’’معاہدہ شملہ‘‘ میں جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن میں تبدیل کر دیا گیا اور مسئلہ کشمیر کو ’’دوطرفہ مذاکرات‘‘ کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق ہوا، مگر نصف صدی اس شملہ معاہدے کو بھی گزر رہی ہے،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں