Daily Mashriq

جج نہیں بولے، انصاف ہوا ہے

جج نہیں بولے، انصاف ہوا ہے


سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف مسلم لیگی رہنما کی دائر کردہ آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو بری اور جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دے دیا جبکہ حدیبیہ پیپر کیس کھولنے کے لئے نیب کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیب عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ملکی تاریخ کے ان دو اہم مقدمات کے فیصلے سے ایک بار پھر ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے اسباب بن گئے ہیں جو پانامہ کیس کے فیصلہ کے بعد سے یہ کہہ رہے تھے کہ '' میں فیصلہ ہوں کسی اور کا مجھے سنایا کسی اور نے'' بلا شبہ قانونی موشگافیوں اور رموز خسروانہ سے آشنا ماہرین عدالتوں کے فیصلوں پر آراء دیتے ہوئے تجزیہ کرتے ہیں مگر ہمارے یہاں کا چلن یہ ہے کہ اگر فیصلہ حق میں آئے تو انصاف کا بول بالا اورا گر خلاف ہو تو انصاف سے کھلواڑ۔ اب حدیبیہ کیس میں نیب کی اپیل پر انصاف کی فتح کے ترانے بجانے والوں کو ٹھنڈے دل سے یہ سوچنا چاہئے کہ اگر کوئی قوت سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان پر اثر انداز ہوئی تھی تو اس قوت نے تین ججوں کو اپنا ''جلوہ'' کیوں نہ دکھایا؟ بہر طور یہ بحث الگ ہے کہ حدیبیہ کیس ہے کیا اور اس میں نیب کا کردار کیا رہا۔ انصاف سامنے رکھی دستاویزات اور شہادتوں پر ہوتا ہے خلائی باتوں پر نہیں۔ عدالت کے سامنے جو دستاویزات تھیں اور نیب کے دلائل دونوں اس قدر بھونڈے تھے کہ اگر دسویں جماعت کے بچے کو بھی اس پر فیصلہ کرنے کو کہا جاتا تو یہی فیصلہ ہوتا۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ سے آنے والے دونوں فیصلوں میں سازشوں کی کہانیاں فروخت کرنے والوں کے لئے اسباق موجود ہیں اگر وہ پڑھنا چاہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جن وجوہات پر میاں نواز شریف نا اہل ہوئے انہیں عمران خان کے معاملے میں مد نظر نہیں رکھا گیا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے۔ عدالتوں کے باہر ماحول کو پراگندہ کرنے کی بجائے اپیل میں اپنے نکات اٹھائیے عدالت کو اطمینان دلوائیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ عمران خان والے معاملے میں تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے نکتے پر عدالت نے کوئی فیصلہ دینے کی بجائے اس مسئلہ کے لئے الیکشن کمیشن کو مناسب فورم قرار دیا ہے۔ عرض یہ کرنا مقصود ہے کہ عدالتی فیصلوں پر پسند و نا پسند کے اظہار اور سوقیانہ تبصروں کا سلسلہ اب ختم ہوجانا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ اب خود سیاستدانوں کو بھی بعض امور پر غور کرنے کی ضرورت ہے اولاً یہ ہے کہ آخر وہ قوانین کے ذریعے ایک ایسا ادارہ تشکیل کیوں نہیں دیتے جو بلا امتیاز احتساب کو یقینی بنائے۔ ثانیاً یہ کہ جو معاملات پارلیمان اور الیکشن کمیشن میں طے ہونے والے ہوتے ہیں انہیں لے کر سپریم کورٹ کیوں پہنچ جاتے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ملک میں موجود الیکٹرانک میڈیا کے تجزیہ کاروں کو بھی سیاست' قانون' صحافت اور عوام پر رحم کھانا چاہئے۔ کسی بھی معاملے کے عدالتی فیصلے سے قبل وہ اپنی پسند و نا پسند کو لے کر ایسا ماحول بنا دیتے ہیں کہ مثالی سیاسی شعور سے محروم سماج میں انتشار مزید بڑھ جاتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ نظام انصاف پر پھبتیاں کسنے کی بجائے ہر شخص اور ادارے کو اپنا کام کرنا چاہئے۔ حدیبیہ کیس میں نا اہلی اور غفلت اگر ہوئی ہے تو دونوں کی ذمہ داری نیب پر ہے۔ نیب کے کج عدالتی فیصلے کے گلے کا ڈھول بنانے سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ معاشی بحرانوں اور سیاسی عدم استحکام کے ساتھ چند دیگرسنگین مسائل بھی ہیں کیا کوئی سماج کے اجتماعی ضمیر کی آواز سننے پر آمادہ ہے کہ گمبھیر ہوتے ہوئے یہ مسائل توجہ طلب بھی ہیں اور حل طلب بھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر مختلف اداروں نے اپنی ذمہ داریاں قانون و آئین کے مطابق ادا کی ہوتیں تو جو منتشر الخیالی آج دیکھنے میں آرہی ہے وہ نہ ہوتی۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ سیاست میں اب نظریات کا عمل دخل نہیں رہا۔ اس کی جگہ جس زبان و بیان نے لے لی ہے وہ افسوسناک ہے۔ مثلاً جمعہ کو ہونے والے دونوں فیصلوں کو لے کر نون لیگی رہنما اور وزراء اور دوسری طرف تحریک انصاف کے کچھ ذمہ داران جن خیالات کااظہار کر رہے ہیں ان پر افسوس ہی کیا جاسکتاہے۔ کیا یہ خواتین و حضرات یہ چاہتے ہیں کہ جج صاحبان ان مقدمات کا فیصلہ کرنے کی بجائے ان سے درخواست کرتے کہ آئیے فیصلہ لکھ دیجئے ہم سنا دیتے ہیں؟ بہت معذرت کے ساتھ یہ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ سیاسی بلوغت کو بھاڑ میں جھونک کر اظہار کی جگالی فرمانے والے مایوسیاں پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔ عدالتوں نے فیصلے سنا دئیے۔ جس فیصلے میں اپیل کا آپشن موجود ہے اس میں اپیل کیجئے اور جس فیصلے نے نیب قوانین کے سقم کی نشاندہی کی ہے ان سقموں کو دور کرنے کے ساتھ پارلیمان میں بیٹھ کر اس پر غور کیجئے کہ غلطی کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ ان معروضات کا مقصد یہی ہے کہ خدا کے لئے پرا گندگی پھیلانے والی کوششوں اور گفتگوئوں سے اب اجتناب کیجئے احساس ذمہ داری کو مقصد حیات قرار دیتے ہوئے اصلاح احوال پر توجہ دیجئے۔ ہماری دانست میں ہر دو فیصلے دستیاب شہادتوں اور پیش کردہ دلائل سے بُنے ہوئے ہیں ان سے زیادہ کچھ نہیں۔ امید واثق ہے کہ سیاستدان بھی اب سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کریں گے تاکہ نظام چلتا رہے اور وقت کی ضرورتوں کے مطابق اس میں اصلاحات ہوتی رہیں۔

اداریہ