Daily Mashriq

مہنگائی کا معاملہ وزیر اعظم کے دعویٰ کے برعکس ہے

مہنگائی کا معاملہ وزیر اعظم کے دعویٰ کے برعکس ہے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ سیاسی یتیم نہیں نہ کسی سازش سے خوفزدہ ہیں اسمبلیاں اور حکومت مدت پوری کریں گے۔ کھوکھلے نعرے نہیں لگائے بلکہ عوام کی خدمت کی ہے ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی اعشاریہ 5فیصد بڑھے گی۔ عذر طلب بات یہ ہے کہ سازشوں کی کہانیاں پچھلے چند ماہ سے سیاسی بازار میں سب سے زیادہ فروخت کس نے کیں اور کون لوگ تھے جو یہ تاثر دیتے رہے کہ کوئی قوت ایسی ہے جو پارلیمان سمیت کسی ادارے کو قانون کے مطابق کام نہیں کرنے دیتی بلکہ اپنی مرضی چلاتی ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ا س کی ذمہ دار خود مسلم لیگ ن ہے جس نے پانامہ سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد اٹھتے بیٹھتے سازشوں کا واویلا کیا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ تیسری بار مرکز اور پانچویں بار پنجاب میں اقتدار سنبھالنے والی مسلم لیگ کے بڑے قائدین کی اکثریت سیاسی تدبر، معاملہ فہمی اور اظہار کی ندرت سے محروم ہے۔ یہ کسی بھی عام مسئلہ پر ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے طوفان نوح برپا ہونے کا خطرہ سر پر آن پہنچا ہو۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ اپنی جماعت کے رہنمائوں اور بالخصوص وفاقی وزراء کی سیاسی تربیت کا اہتمام کریں تاکہ خود انہیں بھی معلوم ہو کہ کس وقت کیا بات کرنی ہے اور کس بات سے بے یقینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پچھلے چند ماہ کے دوران اگر وفاقی حکومت کے ذمہ داران نے کہانیاں فروخت کرنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دی ہوتی تو یہ مسائل سر نہ اٹھا پاتے جن میں ایک معاشی عدم استحکام ہے۔ حکومت کیسے انکار کرکتی ہے کہ اس کے پاس تین ماہ بعد قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لئے (1)ارب ڈالر کی رقم نہیں ہے اور کیا اگر قرضوں اور سود کی اقساط بروقت ادا نہ ہوئیں تو نیا بحران دستک نہیں دے گا؟ بلا شبہ ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طور پر اس پیچیدہ صورتحال کا حل تلاش کیا جائے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے اعشاریہ 5فیصد مہنگائی بڑھے گی تو ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اڑھائی فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ شرح چار فیصد تک جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم خود ایک بزنس مین ہیں انہوں نے کیسے وہ بات کہہ دی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں؟ ان کی توجہ اس امر کی طرف دلانا ضروری ہے کہ سیاسی تقاریر اور دعوے اپنی جگہ لیکن عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

اداریہ