Daily Mashriq


اسلامی فوجی اتحاد' ارکان سینٹ کا صائب مطالبہ

اسلامی فوجی اتحاد' ارکان سینٹ کا صائب مطالبہ

جمعہ کے روز سینٹ آف پاکستان میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب اسلامی فوجی اتحاد پر ایوان میں جاری بحث کے دوران چیئر مین سینٹ نے یہ کہا کہ '' اسلامی فوجی اتحاد پر رولنگ دی تو لا پتہ ہو جائوں گا'' قبل ازیں سینٹ کے ارکان نے ایوان میں مطالبہ کیا کہ حکومت اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے پارلیمان کو اعتماد میں لے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ کس نے کیا کس سطح پر ہوا اس کا پس منظر کیا ہے اور ضرورت کیا' اس حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب کوئی حکومتی شخصیت دینے کو تیار نہیں۔ اٹھتے بیٹھتے جمہوریت کاد رس دینے والے اس معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے سے گریزاں ہیں۔ ایک منتخب حکومت کا حساس مسئلہ پر اداروں کو اعتماد میں نہ لینا ابہام و اشکالات پیدا کر رہا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ وزیر اعظم' وزیر خارجہ اور آرمی چیف اس اتحاد کے ایک حالیہ اجلاس میں شرکت بھی کر آئے پھر بھی کوئی یہ نہیں بتا رہا ہے کہ امریکہ عرب مسلم اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی وجہ اور ضرورت کیا ہے۔ ہماری دانست میں سینٹ کے معزز ارکان کا یہ مطالبہ صائب ہے کہ حکومت زبانی جمع خرچ کی بجائے پارلیمان کو اعتماد میں لے یہاں ہم رائے عامہ کے اس مطالبہ کو بھی درست سمجھتے ہیں کہ اس معاملہ پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے کسی خاندان کی بادشاہت کی چھتری کے نیچے سانس لیتی ریاست نہیں کہ بادشاہ کا فیصلہ اللہ کے فیصلے کا درجہ پالے اور 22کروڑ عوام سر جھکا کر اسے قبول کرلیں۔ عرب سیاست کے تنازعات اور خود بعض مسلم ممالک کے شدید اختلافات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان کو ایسے کسی بھی فوجی و سیاسی اتحاد سے فاصلے پر رہنا چاہئے جس کے قیام نے یہ تاثر باندھ دیا ہو کہ یہ فلاں ایک یا چار مسلم ممالک کے خلاف ہے۔ پاکستان کا دستور اقوام کی برادری کے تمام ممالک بشمول مسلم ممالک کے مساویانہ تعلقات کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جمہوری حکومت کو شخصی فیصلوں پر صاد کرنے کی بجائے جمہوری رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ ہمارا اپنا سماج ،نظام اور حکومت اس سے متاثر نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں