Daily Mashriq


سیاستدانوں کچھ تو خوف خدا کرو

سیاستدانوں کچھ تو خوف خدا کرو

کمرشل لبرلز کی تازہ محبوب جمہوریت نون لیگ کے وفاقی وزیر دانیال عزیز اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے جمعہ کو سپریم کورٹ سے حدیبیہ ریفرنس کے حوالے سے نیب کی اپیل اور ایفی ڈرین عباسی کی عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جو زبان استعمال کی اس پر نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے '' دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ ''۔ ستر سال کی تاریخ کے اوراق اُلٹتے چلے جائیں سیاسی بد زبانیوں کی بانی آپ کو مسلم لیگ ہی ملے گی گو دوسروں نے بھی توفیق کے مطابق خوب حصہ ڈالا لیکن جو زبان مقدس مسلم لیگ نے استعمال کی اسے کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں وقت سے کوئی سیکھنے کو تیار نہیں ۔ دانیال عزیز کبھی یہی زبان شریف خاندان کے خلاف استعمال کرتے تھے جب جنرل مشرف کے وزیر ہوا کرتے تھے ۔ اب وہ شریف خاندان کے مخالفوں بارے بد زبانی کو رواج دیتے ہیں ۔ ان کے والد کو مرحوم محمد خان جونیجو نے کرپشن پر وزارت سے برطرف کیا تھا ۔ کچھ اور حوالے لکھے جا سکتے ہیں بالخصوص ان کیننھیالی خاندان بارے مگر یہ ہمارا موضوع نہیں ۔مریم اورنگزیب کو قومی اسمبلی کی مخصوصنشست کے لئے ٹکٹ کیوں ملی اس پر بھی بحث نہیں ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ یہ لوگ نون لیگ اور حکومت کا چہرہ ہیں لیکن یہ کیسا چہرہ ہیں ۔ افسوس ہوتا ہے ۔ ان سطور میں عمران خان کی زبان دانیوں پر گرفت کی تحریک انصاف کے کچھ ذمہ داروں نے ایک عزیر دوست سے کہا شاہ جی ہمارے لئے نرم گوشے کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ بات مجھ تک پہنچی تو عرض کیا ،کیا سو کالڈ لوٹر مڈل کلاس کے زعم تقویٰ اور ہر کس و ناکس کو ذلیل کمینہ حقیر چور کہنے کا حق مان لیا جائے؟۔مکرر عرض ہے سیاست بنیادی طور پر نظریاتی جدوجہد کا نام ہے لیکن جب سے فوجی حکومتوں کی پنیر یوں اور پاشائی گلیوں میں اُگے رہنمائوں نے میدان سیاست میں قدم رکھا ہے سیاست خود منہ چھپاتی پھر رہی ہے ۔ نون لیگ نے 80اور 90ء کی دہائیوں میں جو نفرتیں بوئیں اب اُسے اسی کی فصل کاٹنی پڑ رہی ہے ۔افسوس یہ ہے کہ اس جماعت کے اپنے لوگوں اور ڈیپو ٹیشن پر آئے ہوئوں سے کسی نے سبق سیکھنے کی زحمت نہیں کی۔ جمعرات کو مریم اورنگزیب نے عمران خان کے حوالے سے یہودیوں اور ہندوئوں کا جس نفرت اور حقارت سے ذکر کیا اس پر ایک سادہ ساسوال ہے ۔ کیا کبھی انہوں نے دانیال عزیز کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ کیا ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا کسی ملک کے وزیر اطلاعات کو یہ زبان زیب دیتی ہے ؟ ۔ بہت احترام کے ساتھ یہی عرض کر سکتا ہوں کہ وہ مریم نواز کی سیاسی اتالیق ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں ۔ استاد کا حال یہ ہے تو شاگر د کا کیا ہوگا ۔ عمران خان آسمانی اوتار ہر گز نہیں لیکن پیر کا مل جناب نواز شریف بھی نہیں ہیں۔ دونوں کے بستہ برداروں کو کلام کرنے سے قبل سو بار سوچنا چاہیئے ۔ سیاستدان کہلانے والوں کی زبان دانی کی حالت یہ ہے کہ آدمی شرمندہ ہوتا ہے کہ کیسے لوگوں سے واسطہ پڑگیا ہے۔حنیف عباسی دانیال اور مریم اورنگزیب میں کچھ تو فرق ہونا چاہیئے ۔ عباسی تھڑوں سے اُٹھ کر میڈیکل سٹور کے مالک ہوئے اور پھر ''پرواز'' شروع ہوگئی کیسے یہ ایک لمبی کہانی ہے ۔ ممنوعہ ادویات اور منشیات کی سمگلنگ کرتے کرتے وہ حادثاتی طور پر سیاستدان بنے ۔ اپنی طرف سے وہ شیخ رشید بننے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ لاکھ خرابیوں کے باوجود شیخ ایک پرانے سیاسی ورکر ہیں ۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک خاتون سیاستدان بھی اپنے ساتھی سیاستدانوں کی طرح سطحی جملے اور الزاماتی سیاست کو حق شریفین سمجھتی ہیں تو پھر فاتحہ پڑھ لینی چاہیئے اس سوچ پر ۔ عمران خان پر تنقید کے شوق میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کی توہین صریحاً غلط ہے ۔ وزیراطلاعات کو پاکستان کی ہندو برادری سے معافی مانگنی چاہیئے۔پاکستان کا باوا آدم ہمیشہ ہی نرالا رہا۔ ہمارے تیسرے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کہا کرتے تھے ''سیاست دان دُم ہلانے والے کتے ہیں ہڈی ڈالوں گا تو دوڑ تے آئیں گے ''۔تب مارشل لاء پورے جوبن پر تھا۔ ایک مرد حریت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے جواب دیا ۔ ''جنرل ضیاء نے درباری دیکھے ہیں یا خاندان غلاماں کے لوگ ان کا سیاستدانوں سے واسطہ نہیںپڑا ورنہ انہیں پتہ چل جاتا کہ سیاست کیا ہے اور سیاستدان کیا ہوتے ہیں ''۔ نون لیگ اصل میں مکتب ضیاء الحق کی تربیت یافتہ ہے ۔ اس مکتب سے ایک سے بڑھ کر ایک بد زبان نکلا ۔ لیکن یہ عرض کرنا غلط نہ ہوگا کہ نون لیگ کو اب سوچنا ہوگا اگر اسے واقعتا جمہوری سیاست کرنا ہے تو پھر اپنا چہرہ بنے سیاستدانوں کی تربیت کرے اور اپنے چند وزراء کا تو بطور خاص نفسیاتی علاج کروائے ۔ جناب نواز شریف کی نااہلی کے بعد ان کے خلاف تحریک انصاف کی زبان دانیوں پر ان سطور میں گرفت کی تھی ۔ اب بھی یہی عرض کروں گا کہ نون لیگ اور تحریک انصاف دونوں کو سیاست کرنی ہے تو تحمل شائستگی اور اخلاقی اقدار کر ملحوظ خاطر رکھیں ۔ گندے کپڑے چوک میں دھونے کے نقصان بہت ہیں اور خمیازہ پورے سماج کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ حرف آخر یہ ہے کہ جملے بازی اور سوقیانہ زبان استعمال کرنے سے شخصیت کا حسن نکھرتا نہیں بلکہ منفی اثرات پھیلتے ہیں ۔ مریم اورنگزیب قابل احترام خاتون ہیں انہیں سمجھنا ہوگا کہ شریف خاندان کی وفاداری اپنی جگہ وہ اس ملک کی وزیر اطلاعات بھی ہیں ۔ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ وہ اپنی وزارت پر تین حرف بھیج کر میدان میں اتریں اور جو جی چاہے کہتی پھریں ۔ پھر جواب برداشت بھی کریں ۔ مناسب ترین بات یہ ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں سماجی ضرورتوں کو بہر طور مقدم سمجھیں اور ہرا س شخص کی حوصلہ شکنی کریں جو بد زبانی کوہی زبان بنا کر جو جی میں آئے کہتا پھر ے ۔

متعلقہ خبریں