Daily Mashriq


ادھر آ ستمگر ہنر آزمائیں

ادھر آ ستمگر ہنر آزمائیں

جب سے ہوش سنبھالا دھیرے دھیرے شعور کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے یہ سیکھا کہ انسان مختلف مسائل سے آشنائی حاصل کرتا ہے۔ کچھ مسائل کوسمجھ جاتا ہے کچھ کو بھول جاتا ہے اور بعض مسائل کو سمجھ کر ان پر چشم پوشی اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح زندگی اور شعور کی سیڑھیاں چڑھتے ہم نے بھی یہ دیکھا کہ اس دنیا میں 3ہنرمند اپنے ہنر کا استعمال خلوص نیت سے کر رہے ہیں ۔ جہاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ہنر میں نکھار آرہا ہے وہیں ان کی حکمت عملی میں بھی روز بہ روز جدت آتی جارہی ہے ۔ ان ہنر مندوں میں ایک ظالم ہے اور دوسرا مظلوم جبکہ تیسرا نہ ظالم ہے اور نہ مظلوم وہ صرف تماشہ دیکھنے والا ہے اور اس تماشے کے جاری رہنے کا خواہشمند بھی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ظالم اور مظلوم کے چکر میں کہیں بھی خلل آیا تو نقصانات کی دھار اس پر چل سکتی ہے،اس لئے وہ بھی اس کشمکش کے جاری رہنے میں اپنا کردار پوری خوش اسلوبی سے ادا کر رہا ہے۔ان تینوں ہنر مندوں میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے ظلم ۔ایک طبقہ ظلم کرتا ہے دوسرا سہتا ہے اور تیسرا تماشہ دیکھتا ہے۔ ہمیں بھی ظلم کے اس کھیل میں افسوس تو ہوتا ہے لیکن زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم انسان ہیں اور فطرت انسانی کے تحت اس بات پر زیادہ افسوس کرتے ہیں جس کا نقصان اسے خود ہوتا ہے ۔اگر یہی نقصان دوسرے کا ہو رہا ہوتا ہے تو افسوس تو ہوتا ہے لیکن اس کی تکلیف نہ ہونے کے باعث افسوس کا تناسب کم ہو جاتا ہے۔ ہمارا واسطہ دنیا کے مظلوم طبقے سے ہے اور ہم اپنے اس ہنر میں اتنا کمال حاصل کر چکے ہیں اگر ظلم کے تسلسل میں تھوڑی سی بھی کمی واقع ہو تو ہم اس کو بحال کرنے کی جدوجہد بھی پورے خلوص سے ہی کرتے ہیں اور اس تسلسل کو بحال کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ اللہ معافی دے اب تو ہم ظلم برداشت کرنے کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اب ہم اس میں لذت تلاش کرتے ہیں، یعنی اگر کوئی ایک ہی قسم کی کارروائی بار بار ہونے لگے تو اس پر اعتراض نہیں کرتے بلکہ ایسے مواقع پیدا کرتے ہیں کہ اس میں جدت آجائے۔ جی ہاں ایک وقت تھا جب ہم جسمانی طور پر ظلم برداشت کرتے تھے ظالم جسمانی تشدد کے نت نئے طریقے ایجاد کرتااور ان کو ہم پر آزماتا کہ ہماری برداشت کتنی ہے اور جب ہم کسی جسمانی تشدد کے عادی ہوجاتے تو وہ جسمانی تشدد کی نئی قسم متعارف کرا کر ہمارے جسموں پر اس کی آزمائش کرتا ، دھیرے دھیرے جسمانی تشدد برداشت کرنے میں ہم اتنا تجربہ حاصل کر گئے کہ ظالم نے جسمانی تشدد کو چھوڑ کر ذہنی تشدد کا راستہ اختیار کیا لیکن ہم میں بھی بلا کی ہٹ دھرمی بھری تھی ہم اس کی برداشت میں بھی کمال حاصل کر گئے، اس وقت ظالم نے یہ سوچا کہ مظلوم کو اگر جسمانی اورذہنی تشدد کی مکس ڈوز دی جائے تو یہ اس کے لئے نئی اذیت ہوگی اور ایسا ہی ہوا، لیکن جہاں ظالم نے اپنے تجربے کا استعمال کیا وہاں مظلوم نے بھی کمال کی ہنرمندی کے ساتھ نہ صرف اسے برداشت بلکہ برداشت کے میدان میں اپنا لوہا بھی منوایا، ظالم اور مظلوم کے اس ڈرامہ میں تیسرے طبقے تماشائی نے اپنا خاموش کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔لیکن حال ہی میں ظالموں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے مظلوموں کو جسمانی اور ذہنی تشدد کے بعد روحانی اور مذہبی طور پر بھی تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جس کی تازہ ترین مثال بیت المقدس ''یروشلم '' کو امریکہ کی جانب سے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہے، موجودہ حالات میں تو پوری دنیا میں اس بات کو لے کر کافی چرچا ہے لیکن دیکھنا یہ کہ مظلوم یعنی مسلمان ظلم برداشت کرنے کی اپنی روایت برقرار رکھتے ہیں یا نہیں ،اور اب بھی ظالم یعنی کفر کے کسی نئے ظلم کا انتظار کرتے ہیں یا اسی نا قابل برداشت ظلم کیخلاف متحد ہو کر بیک آواز ظلم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اس ضمن میں ایک نظر اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار ممالک پر ڈالی جائے تو ہمارے ہاتھ افسوس کے سوا کچھ نہیں آتا اسلام سے وابستگی کا تاج اپنے سر سجانے والے سعودی شیخ اس وقت کیا کردار ادا کر رہے ہیں اسے اگر شرم ناک کہا جائے تو غلط نہ ہوگا بعض اوقات تو یہ گمان بھی ہونے لگتا ہے کہیں سعودی شیخوں کی عرب نواز پالیسی اور امریکہ پر ان کا حد سے زیادہ انحصار ہی تو کہیں فلسطین کے مسلمان عوام پر ظلم کا باعث نہیں بن رہا اگر دیکھا جائے تو امریکہ انہیں وسائل کے بل بوتے پر اسرائیل کی مدد کرتا ہے جو اسے عرب ممالک سے حاصل ہورہے ہیں۔سعودی شیخوں کے پاس اپنی عیاشیوں ، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے خاندان کو سونے میں تولنے کا وقت تو ہے لیکن ان میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ اور کچھ نہیں تو کم ازکم امریکہ اور اسرائیل پر سفارتی اور اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عرب ممالک میں امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلامیہ جاری کر سکیں ۔ اللہ سے دعا ہے کے ہم مسلمانوں کو نہ نظر آنے والی اس غلامی سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب کرے اور ظلم برداشت کرنے کی یہ روایت تبدیل ہو جائے۔ اور مساوات کا سورج اپنی نئی آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آزادی کا یہ سورج طلوع ہوگا یانہیں ،یاہم یونہی اپنی بقیہ عمر اس غلامی میں گزاریں گے، اور ہماری آنے والی نسلیں بھی بس یہی شعر دہراتی رہیں گی کہ ،

ادھر آستمگر ہنر آزمائیں

توتیر آزما ہم جگر آزمائیں

متعلقہ خبریں