Daily Mashriq


شہباز شریف کا طنز اور تلخ حقائق

شہباز شریف کا طنز اور تلخ حقائق

یہ بات ایک عرصے سے میں کہہ رہا ہوں مگر کوئی توجہ بھی دے نا ، شاید اسی لئے پشتو زبان کی اس ضرب المثل پر توجہ چلی جاتی ہے یعنی غریب موذن کی اذان پر کوئی کلمہ پڑھنے کو بھی تیار نہیں ہوتا ، مگرا ب تو انگریزی کے مقولے کے مطابق ''گھوڑے کے منہ '' سے یہی بات نکل آئی ہے تو توجہ دینا تو بنتا ہے ، حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں اینکر شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جہاں اوربہت سی باتیں کی ہیں (جن سے فی الحال کوئی تعرض نہیں ہے ) وہاں ایک بہت اہم بات کی ہے جس کو ٹی وی ٹکر کی صورت میں بار بار فلیش کیا جاتا رہا اور جس پر ایک بار پھر مجھے قلم اٹھانے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ اور وہ بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہزاروں میگا واٹ پن بجلی پیدا کی جا سکتی ہے مگر صوبائی حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی ، بظاہر تو وہ تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت پر طنز کے تیر چلارہے تھے ، اسی قسم کی باتیں وفاقی حکومت کے بعض وزراء بھی اکثر وبیشتر کرتے رہتے ہیں ، تاہم اصل حقائق جاننے کیلئے ہمیں ماضی میں جھانکتے ہوئے دور تک جا نا پڑے گا ۔

اٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس کچھ گل نے

چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے داستاں میری

قیام پاکستان کے بعد سابق مشرقی پاکستان کی آبادی کی اکثریت سے خوفزدہ ایک مخصوص مگر طاقتور لابی نے سابق مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کو ون یونٹ بنا کر ملک کو دو یونٹوں میں باندھ دیا اور پیر ٹی کے اصول کے تحت دونوں حصوں کو برابری کی بنا پر اپنی من مانی کا شکار بنایا ، اسی اصول کے تحت واپڈا کے ہیڈ کوارٹر کو لاہور منتقل کرتے ہوئے تب کے صوبہ سرحد کی بجلی پر قبضہ جمالیا ، تاہم قصہ مختصر جب یحییٰ خان کے دور میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ایک بار پھر صوبے بحال کئے گئے تو اسی طاقتور لابی نے واپڈا کو صوبہ سرحد کو واپس کرنے کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہوئے اسے وفاق کی دستر س میں دینے کی کامیاب کوشش کی۔ اسی پربس نہیں کی گئی بلکہ اس زیادتی کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے نہ صرف پن بجلی کی رائیلٹی کے معاملے کو لٹکائے رکھا بلکہ نئے آئین میں طے کیا گیا کہ صوبے 50میگا واٹ سے زیادہ قوت کے بجلی منصوبے شروع نہیں کر سکیں گے ۔ اس ظلم کو بروئے کار لاتے ہوئے ملکی اور قومی مفاد کو بھی پس پشت ڈالا گیا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا ) کے بالائی علاقوں سوات ، دیر ، چترال اور گلگت ، بلتستان ، وغیرہ میں درجنوں ایسے مقامات موجود ہیں جہاں بڑے اور چھوڑے ڈیموں اور منصوبوں کی تکمیل سے ہزاروں میگا واٹ پن بجلی حاصل کرکے ملک کے مستقبل کو روشن کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اصل مقاصد ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی' گروہی اور علاقائی کی وہ سوچ ہے جس نے آج ہمیں ترقی کی شاہراہ کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا۔

ذاتی مفادات یوں کہ اگر پانی سے پیدا ہونے والی سستی ترین بجلی پیدا کی جاتی تو دیگر ذرائع یعنی فرنس آئل' کوئلے کے منصوبوں اور اب ایل این جی پر شفٹ ہونے والے منصوبوں میں جو کمیشن' کک بیکس اور مستقل آمدنی کے مبینہ الزامات سامنے آرہے ہیں اور جن کی وجہ سے کچھ حلقوں کی جیبیں بھر رہی ہیں۔ پن بجلی کے منصوبوں میں ایک ہی بار کمیشن کے حصول کے بعد یہ مزے کہاں ہوسکتے ہیں۔ گروہی مفادات یوں کہ چولستان کی لاکھوں ایکڑ اراضی جس طرح کچھ مخصوص طبقوں بشمول جاگیر داروں' سرمایہ داروں کو اونے پونے فروخت کی گئی اسے آباد کرنے کے لئے صرف اور صرف کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر مصر رہنے والے یہ کہاں چاہتے تھے کہ بھاشا یا دیگر بڑے ڈیم تعمیر کئے جائیں کیونکہ ان بڑے ڈیمز کی تعمیر سے کالا باغ ڈیم کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے جبکہ اس بدنام زمانہ ڈیم سے نہ صرف سندھ پر پانی کم ہو جائے گا اور وہاں بھوک اگنے لگے گی بلکہ نوشہرہ ڈوبنے سے صوبہ خیبر پختونخوا میں تباہی آسکتی ہے اور علاقائی سوچ یہ ہے کہ اگر سوات' دیر' چترال' کاغان وغیرہ میں چھوٹے منصوبے بروئے کار لا کر جنریٹرز کے ذریعے چھوٹی سطح پر بجلی پیدا کی جائے یا بڑے ڈیمز کی تعمیر سے زیادہ مقدار میں پن بجلی حاصل کی جائے تو ایک تو جیسا کہ عرض کیا کالا باغ ڈیم سے کہیں زیادہ پن بجلی حاصل ہوگی اور بھاشا اور دیگر ڈیمز میں پانی ذخیرہ کرکے نہ صرف تربیلا ڈیم کی زندگی میں 20سے 30 سال اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ پانی کی ضروریات بھی پوری کی جاسکتی ہیں مگر ان منصوبوں سے جو بجلی حاصل ہوگی اس کی رائلٹی بھی خیبر پختونخوا کو ملے گی جو اسی مخصوص لابی کو قطعاً منظور نہیں جو شروع دن سے ہی سازشوں کے جال بن رہی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو اس کی پن بجلی کی رائلٹی آج تک پوری ادا نہیں کی گئی بلکہ اس کی راہ میں مختلف حیلوں بہانوں سے روڑے اٹکائے جاتے رہے ہیں۔ رہ گئی جناب شہباز شریف کی یہ طنزیہ جملہ بازی کہ خیبر پختونخوا میں ہزاروں میگا واٹ پن بجلی پیدا کی جاسکتی ہے مگر حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے تو عرض ہے کہ 50میگا واٹ سے زیادہ کے بجلی منصوبوں کی تعمیر سے پابندی ضرور ہٹائی گئی ہے مگر اب بھی زیادہ قوت کے منصوبوں کے لئے وفاق کی اجازت لازمی ہے حالانکہ اگر کوئی صوبہ خصوصاً خیبر پختونخوا (جہاں پانی کے وافر منابع موجود ہیں) پن بجلی کے بڑے منصوبے بنانے پر توجہ دے گا تو اسے پورے ملک کے لئے بروئے کار لایا جائے گا اور یہ بجلی انتہائی سستی بھی ہوگی تو پھر یہ پابندیاں یا وفاق سے اجازت کس کھاتے میں اور اگر صوبے کو اس کے بجلی کی پوری رائلٹی مل جائے تو اس رقم سے کئی مزید پن بجلی منصوبے شروع کئے جاسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں