Daily Mashriq

مقامات آہ و فغاں

مقامات آہ و فغاں

کہتے ہیں گانا اور رونا کسے نہیں آتاجو مکمل طور پر بے سرے ہوتے ہیں وہ بھی باتھ روم میں گنگنا کر باتھ روم سنگر کہلاتے ہیں ۔گانے اور رونے کے ساتھ اگر ہنسنے کو بھی شامل کر دیا جائے تو اس میں کیا مضائقہ ہے فی زمانہ ہنسی ویسے بھی کالے گلاب کی طرح نایاب ہوتی جارہی ہے جسے دیکھیے لڑنے مرنے پر تلا نظر آتا ہے ۔بے ہنگم ٹریفک، ماحولیاتی آلودگی، بد امنی ، مہنگائی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی روز بروز گرتی ہوئی قیمت!حکمرانوں کی مہربانیوں سے عام آدمی چڑ چڑے پن کا شکار ہوگیا ہے کل ہمیں سمارٹ فون پر ایک پیغام موصول ہوا جسے پڑھ کر بے اختیار ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی ۔ ہمیں جو پیغام موصول ہوا وہ وطن عزیز کے حکمرانوں کے حوالے سے ہے ۔ایک بادشاہ کی سخاوت کے چرچے بہت دور دور تک پھیلے ہوئے تھے جسے سن کر ایک منشی بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ اور بادشاہ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ آپ کی سخاوت کی بڑی تعریف سنی ہے اس لیے آپ کی سخاوت دیکھنے آیا ہوں ۔ بادشاہ نے منشی سے مخاطب ہو کر کہا مانگو کیا مانگتے ہو؟ منشی نے بڑی لجاجت سے کہا بادشاہ سلامت میرا یہ کشکول بھر دیں۔ بادشاہ نے منشی کی بات سن کر فوراًاپنے گلے سے قیمتی موتیوں والے ہار سمیت سونے کی انگوٹھیاں اور بہت سی اشرفیاں کشکول میں ڈال دیں مگر منشی کا کشکول بڑا ہونے کی وجہ سے خالی ہی رہا ۔ بادشاہ نے شرمندگی سے بچنے کے لیے اپنے خزانے کے منہ کھول دیے اور سارا خزانہ منشی کے کشکول میں انڈیل دیا۔بادشاہ پھر بھی کشکول بھرنے میں ناکام رہا۔ آخر میں منشی نے اپنا کشکول اٹھایا اور جاتے جاتے کہنے لگا کہ یہ کشکول بھرنا آپ کے بس کی بات نہیں بادشاہ نے حیران ہوکر پوچھایہ کشکول کس ہستی کا ہے منشی مسکرایا اور کہا کہ یہ کوئی معمولی کشکول نہیں ہے یہ ہماری حکومت کا کشکول ہے جس کا بھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اس کے بعد منشی نے کشکول میں موجود ہیرے جواہرات اور اشرفیاں اپنے تھیلے میں ڈالیں اور بادشاہ کو کنگال کر کے مسکراتا ہوا رخصت ہوگیا۔ویسے ذہن میں خیال آتا ہے کہ جب عوام بے بس ہوں ان کے دائرہ اختیار میں کچھ بھی نہ ہو تو وہ اس قسم کے پیغامات پڑھ کر اپنے دل کا غبار نکال لیتے ہیں انہیں اس بات سے ہی سکون مل جاتا ہے کہ ان حکومتوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے جنہوں نے ان کے حالات کو سدھارنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی بس انہیں ہمیشہ جھوٹے وعدوں سے ہی بہلاتے رہے ہیں۔کالم کے آغاز میں ہنسنے مسکرانے کی بات کی گئی تھی کہ آج کل ہنسی کے مواقع اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہو چکے ہیں۔چڑچڑا پن اور رونا دھونا ہر طرف دیکھا جاسکتا ہے اور اس میں چھوٹے بڑے کی قید بھی نہیں ہے۔
سب پریشان ہیںہمیں وہ چھوٹا سا معصوم بچہ یاد آگیا ہے جو بری طرح رو رہا تھااور اس کے والد اسے بری طرح ڈانٹ رہے تھے ہم سے بچے کی پریشانی نہیں دیکھی گئی اس لیے ہم نے اس کو پیار کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا کیوں رو رہے ہو؟ ہماری بات سن کر بچے کے والد نے گرجتی ہوئی آواز میں کہاکہ یہ کلاس ٹو کے سالانہ امتحان میں فیل ہوگیا ہے میں اس کے سکول کی بھاری بھرکم فیس ہر مہینے باقاعدگی سے ادا کرتا ہوں لیکن اس کے باوجود اسے کوئی احساس نہیں ہے اب اس کا ایک سال ضائع ہوگیا ہے! ہمیں بچے کے والد کی بات سن کر بڑا افسوس بھی ہوا اور اپنا سر پیٹ لینے کو دل چاہا یہ کیا حماقت ہے ! ہم نے ہر گلی محلے میں انگلش میڈیم سکول تو کھول لیے ہیں لیکن ہم تعلیمی نفسیات کے حوالے سے مکمل طور پر بے خبر ہیں بس آج کل سکول کھولنا ایک منافع بخش کاروبار ہے اس لیے جسے دیکھیے وہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے ۔ ہم نے بچے کے والد کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو سالانہ امتحانات میں فیل کرنا غلط ہے ۔ جاپان میں پہلی جماعت سے تیسری تک بچوں کو فیل کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ ان چھوٹے بچوں کی تعلیم کا مقصد ان کی تربیت اور ان کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے اس کے علاوہ جاپانی بچے روزانہ اپنے اساتذہ کے ساتھ پندرہ بیس منٹ کے لیے اپنے سکول کی جھاڑ پھونک اور صفائی ستھرائی کرتے ہیں اس مشق کا مقصد انہیں اخلاقی طور پر متواضع بنانا اور عملی طور پر صفائی پسند بنانا ہوتا ہے ۔ جاپان میں ہر بچہ اپنا دانت صاف کرنے والا برش بھی سکول ساتھ لے کر جاتا ہے سکول میں کھانے پینے کے بعد ان سے دانت صاف کرائے جاتے ہیں۔اپنے بچپن سے ہی ان کو اپنی صحت کا خیال رکھنے والا بنایا جاتا ہے ۔آپ اپنے بچے کی بھار ی بھرکم فیس کا رونا تو روتے ہیں مگر کیا آپ نے یہ جاننے کی زحمت بھی گوارا کی ہے کہ سکول کی کینٹین میں آپ کے بچے کو کس قسم کے پاپڑ، چپس اور سلانٹیاں کھلائی جارہی ہیں کس طرح بچوں کو برگر اور کولڈ ڈرنکس کا عاد ی بنایا جارہا ہے ؟بات چاہے ہنسی سے شروع ہو لیکن ہمارے یہاں اتنے مقامات آہ و فغاں ہیں کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی رونے دھونے کا ذکر لے بیٹھتے ہیں۔