Daily Mashriq

اعلان استنبول کے بعد کیا ہوگا؟

اعلان استنبول کے بعد کیا ہوگا؟

ترکی کے دارالحکومت استنبول میں اسلامی ملکوں کی تنظیم اوآئی سی کے سربراہی اجلاس میں اقوام عالم سے بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔اجلاس میں امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردینے کے اعلان کو امن عمل کے خاتمے سے تعبیر کیا گیا ۔اسلامی تعاون تنظیم کی سربراہی اس وقت ترکی کے پاس ہے اور اسی لئے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے امریکی فیصلے کے مضمرات پر غور کرنے اور مسلمانوں کے اجتماعی موقف کو سامنے لانے کے لئے فلسطین کے مسئلے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا ۔اجلاس اس لحاظ سے اہم رہا ہے کہ اس میں جہاں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ شریک ہوئے وہیں ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی شرکت کی تھی ۔ پاکستان سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں ایک بھاری بھرکم وفد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اردن کے شاہ عبداللہ سمیت بائیس ملکوں کی بھرپور نمائندگی رہی ۔ایران اور سعودی عرب اس وقت علاقائی سیاست میں طاقت اور بالادستی کی لڑائی میں شریک ہیں جس سے مسلمانوں کے کاز کوتقویت نہیں مل رہی مگر سعودی عرب اور ایران جیسے متحارب مسلمان ملکوں اور ترکی اور پاکستان جیسے مضبوط دفاع کے حامل ملکوں کی شرکت نے کانفرنس کی اہمیت کو دوچند کر دیا ۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس پہلی بار اس کانفرنس میں غصے اور مایوسی کا شکار دکھائی دئیے۔ان کے خطاب سے یہ حقیقت اور تاسف جھلک رہا تھا کہ امریکہ نے اوسلومعاہدے کے نام پر ان سے دھوکا کیا ۔انہوں نے امریکہ کے اس فیصلے کو امن عمل سے دستبرداری کے مترادف قرار دیا ۔گویاکہ امریکہ اس عمل میں ضامن اور سہولت کار کی حیثیت چھوڑ کر اب باقاعدہ طور پر جارح کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ اوسلو معاہدے کے ذریعے یاسر عرفات کو بے اختیار فلسطینی اتھارٹی کی سربراہی سونپ کر انہیں حماس اور اسلامی جہاد جیسی فعال تنظیموں کی مزاحمت کو ختم کرنے اور اسے سیاسی دھارے میں لانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ۔یہ وہ زمانہ تھا جب اسرائیل فلسطینی حریت پسندوں کے تابڑ توڑ میزائل اور خود کش حملوں کی زد میں تھا اور اسرائیل کے لئے چلتے پھرتے انسانی بموں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا تھا ۔اسرائیل فلسطین کے ہمسایہ مسلمان ملکوں سے فدائی حملے روکنے کی درخواستیں کرتا پھر رہا تھا۔ایسے میں فلسطینی اتھارٹی اور یاسر عرفات جیسی قد آور شخصیت نے حماس اور اسلامی جہاد جیسی فعال تنظیموں کو اپنی ساکھ اور شہرت کی قیمت پر امن عمل کا حصہ بنانے کا راستہ اپنایا ۔یاسر عرفات نے جب اس سارے تعاون کے بعد اسرائیل سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش رفت کا مطالبہ کیا تو اسرائیلی فوج نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور اپنے عہد کے مشہور مزاحمتی قائد کو رام اللہ کے کمپائونڈ میں محصور کر دیا ۔وہ مہینوں سے کمپائونڈ میں محصور ہو گئے اور یہیں ان کیطبیعت بگڑ گئی اور ایک روز انہیں فرانس کے دارالحکومت پیرس منتقل کیا گیا جہاں وہ چند دن زیر علاج رہنے کے بعد پراسرار انداز میں انتقال کر گئے ۔ان کے انتقال کے بعد یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ یاسر عرفات کو سلوپوائزننگ کے ذریعے قتل کیا گیا ۔
طاقتور کی دنیا میں یہ خبریں گرم رہنے کے بعد دم توڑ گئیں اور یاسر عرفات کی موت ایک معمہ ہی رہی ۔ اس کے بعد محمود عباس فلسطینی اتھارٹی کے نئے سربراہ بنائے گئے اور ان سے حماس کو کچلنے کے لئے پولیس مین کا کام لینے کی کوشش کی گئی ۔ 1993کے اوسلو معاہدے کے چوبیس سال بعد امریکہ نے وہ سارے خواب توڑ دئیے جو ایک آزاد ریاست کے حوالے سے فلسطینیوں کو دکھائے گئے تھے ۔فلسطین پر اوسلو معاہدے کی حقیقت اب کھل کر سامنے آگئی ہے ۔اس معاہدے سے فارغ ہوتے ہی امریکی صدر بل کلنٹن نے کشمیر پر اسی طرز پر ایک معاہدے کی کوششیں شروع کر دی تھیں ۔یہاں بھی مسئلے کے حل سے زیادہ حکومت پاکستان سے حریت پسندوں کی طاقت کو غیر محسوس طور پرتوڑنے ،انہیں کسی نہ کسی طرح بندوق چھوڑ کر امن معاہدے پر آمادہ اور مجبور کرنے کا وہی کام لینا مقصود تھا جس کے لئے یاسر عرفات کو منتخب کیا گیا تھا۔ فلسطین اور کشمیر مسلم امہ کے دو دیرینہ تنازعات ہیں ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے او آئی سی کے اجلاس کے موقع پر جہاں فلسطین کے حوالے سے زوردار موقف اپنایا وہیں انہوں نے کشمیر کے مسئلے کا تذکرہ بھی شد ومد سے کیا اور مسلمان دنیا کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ کشمیر کا مسئلہ بھی مسلم امہ کے اس مسئلے کی طرح سنگین اور اُلجھا ہوا ہے جہاں اسرائیل کا سٹریٹجک پارٹنر بھارت پوری قوت سے مسلمان آبادی کو تباہ وبرباد کررہا ہے۔ آج بھی بھارت کشمیر میں عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لئے اسرائیل کے تجربات سے ہی نہیں بلکہ اسلحے اور ہر قسم کی ٹیکنا لوجی سے فائدہ اُٹھا رہا ہے ۔اس لئے ایران ،ترکی ،پاکستان اور سعودی عرب جیسے بااثر ملکوں کو ان مسائل کے حل کے لئے بھی ایک جیسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔اعلان استنبول تو ہو گیا مگر ایسے کتنے ہی اعلان ہوائوں میں تحلیل اوراخبار کی ایک دن کی سرخی بن کر لوح حافظہ سے مٹ جاتے رہے ہیں ۔اس اعلان کے بعد مسلمان دنیا کے چار پانچ بااثر ملکوں کو ٹھوس اقدامات پر متفق ہونا ضروری ہوگا وگرنہ مسلمان دنیا یونہی گرم کیک کی طرح ٹکڑوں میں ہڑپ اور ہضم ہوتی رہے گی۔

اداریہ