Daily Mashriq


مقبوضہ کشمیر میں سست رُو قتلِ عام

مقبوضہ کشمیر میں سست رُو قتلِ عام

جوں جوں بھارت میں 2019ء میں عام انتخابات کی تکمیل نزدیک آ رہی ہے مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے قتلِ عام اور ان کی نسل کشی کے اقدامات کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ پلواما میں ہفتہ کے روز ایک ہی دن میں گیارہ کشمیری نوجوانوں کا قتل اسی سکیم کا حصہ ہے جس کے بارے میں امریکی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں بھارت مقامی آبادی کو دبانے کے لیے اسرائیل کی طرز کا رویہ اپنا رہا ہے۔ سری نگر اور دوسرے شہروں میں بھارتی فوج بنکر بنا رہی ہے جن کا مقصد نہتے کشمیریوں پر چھپ کر فائرنگ کرنا ہو سکتا ہے۔ پلواما میں گزشتہ روز بھارتی فوج نے ایک مکان کا محاصرہ کر کے تلاشی کے دوران تین کشمیریوںکو شہید کیا اس پر مقامی آبادی نے جب احتجاج کیا اس مظاہرے پر براہِ راست گولیاں برسائیں اور چھرہ دار بندوقوں سے فائر کیے جس سے بینائی ضائع ہو جاتی ہے اور چہرے اور بدن داغدار ہو جاتے ہیں۔ اس احتجاجی مظاہرے کے دوران مزید آٹھ کشمیریوںکو قتل کر دیا گیا اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ محض ایک واقعہ نہیںہے۔ یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے اورکشمیر کے نہتے عوام بھارتی فوج کے یہ مظالم سہتے آرہے ہیں۔ بھارتی فوجی روزانہ کشمیریوں کے کسی مکان کا محاصرہ کر کے وہاں مقیم نہتے نوجوانوںکو قتل کرنے کی روش ایک عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نسل کشی اور سست رو قتل عام کے باعث کشمیریوں کی حالت کیا ہے اس کا اندازہ حریت کانفرنس کے ایک رہنما کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ بھارت ہمیں روزانہ تھوڑے تھوڑے کر کے مارنے کی بجائے ایک ہی دفعہ مار ڈالے۔ یہ محض انسانی حقوق کی پامالی نہیں بلکہ باقاعدہ نسل کشی کی کوشش ہے جس کی گواہی جیسے کہ سطور بالا میں بیان کی جا چکی ہے بعض نامور امریکیوں نے بھی دی ہے جب کہ امریکہ جو دنیا میں انسانی حقوق کا چمپئن ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اس بارے میں خاموش ہے۔ یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کے قتال میں شریک جرم ہے۔ پاکستان کی طرف سے وزارت خارجہ کے ترجمان نے پلواما آپریشن کی مذمت کی ہے اور اس کے ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی عالمی عدالت سے تحقیقات کرائی جائے۔ لیکن بھارت ہمیشہ عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر کی طرف متوجہ ہونے کی مزاحمت کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اس نے اسلامی کانفرنس کے وفد کو بھی مقبوضہ کشمیر کے دورے کی بھی اجازت نہیںدی حالانکہ مسلمان ملکوں کے بھارت کے ساتھ فائدہ بخش تعلقات ہیں۔ بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کے گروپ کو بھی مقبوضہ کشمیر آنے کی اجازت نہیںدیتا۔ عالمی عدالت میں معاملہ کون لے جائے گا۔ کیا یہ درخواست دائر ہو سکے گی؟ کیا بھارت عالمی عدالت میںجانا منظور کرے گا؟ اگر یہ سب کچھ ہو بھی جاتا ہے تو عالمی عدالت اس ’’تحقیقات‘‘ میں کتنا عرصہ صرف کرے گی جب کہ قتل عام کی کارروائی مقبوضہ کشمیر میں آج بھی ہو رہی ہے۔ یہ سب سوالات اس احتجاج کا وزن کم کرتے ہیں ۔ معاملہ بنیادی انسانی حقوق اور نسل کشی کا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنی سیاسی مصلحتوں کے تحت کسی بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر تیار نہیں۔ لیکن بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی نسل کشی اور سست رو قتل عام کا معاملہ سیاسی کی بجائے انسانی المیہ بن چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر بھارت محض قابض نہیں ہے بلکہ وہاں بھارت کشمیریوں کی رفتہ رفتہ نسل کشی کر رہا ہے مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ برپا ہے جو ایک حریت رہنما کے اس بیان سے ظاہر ہے جس کا ذکر سطور بالا میں کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کشمیریوںکی اخلاقی‘ سیاسی اور سفارتی حمایت کے دعوے پر کاربند ہے۔ لیکن بھارت کے مظالم انسانیت کے خلاف جرم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس لیے معاملہ محض حکومتوںکو متوجہ کرنے کی بجائے عالمی رائے عامہ کو متوجہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان کے سفارت خانوں کو چاہیے کہ وہ عالمی رائے عامہ کو مقبوضہ کشمیر میں برپا انسانی المیہ سے خبردار کریں۔ کشمیریوں اور انسان دوست تنظیموں کی اس انسانی مسئلہ کو اجاگر کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کریں ‘ ان کی معاونت کریں۔ عالمی رائے عامہ کو بھارت کی اصل تصویر دکھانا ضروری ہے جو بینائی سے محروم اور داغدار چہروں اور بدنوں والے کشمیریوں کی تصویروں میں موجود ہے۔ جو مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں ان لاکھوں کشمیریوں کی قبروں کے کتبوں کی صورت میںموجود ہے جنہیں بھارتی فوج نے قتل کیا۔ جو ہزاروں غمزدہ خاندانوں کی صورت میں موجود ہے جن کے پیارے بھارتی فوج نے غائب کر دیے۔ جو آج بھی اپنے پیاروں کی یاد میں حسرت ویاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ عالمی رائے عامہ بیدار ہو گی تو حکمران مصلحتوں کی بجائے کشمیر میں برپا انسانی المیہ پر متوجہ ہوں گے۔

متعلقہ خبریں