Daily Mashriq

سقوط ڈھاکہ اور سانحہ آرمی پبلک سکول

سقوط ڈھاکہ اور سانحہ آرمی پبلک سکول

یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ‘ پاکستان میں سقوط ڈھاکہ اور سانحہ آرمی پبلک سکول کی یاد میں اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔دشمن نے دونوں سانحوںکے لیے ایک ہی دن منتخب کیا تھا۔ 1971ء میں جس دن سقوط ڈھاکہ کی یاد منائی جا رہی تھی اسی دن چار سال پہلے آرمی پبلک سکول میںڈیڑھ سو سے زیادہ بچوں اور ان کی ٹیچروںکا بہیمانہ قتل عام کیا جا رہا تھا۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کے مجرموں کی تنظیم کے ترجمان نے کھلا اعتراف کیا کہ اس کی تنظیم کو بھارت سے سرمایہ‘ گولہ بارود اور ہدایات موصول ہوتی تھیں۔ اور ڈھاکہ میں ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج نے حصہ لیاتھا بلکہ وہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد قائم ہونے والی بنگلہ دیش کی حکومت کو بھارتی فوج کی کارکردگی کے حوالے سے احسان بھی جتا چکے ہیں ۔ اس سے پہلے اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے بڑی ڈھٹائی سے اعلان کیا تھا کہ آج ہم نے دو قومی نظریے کو شکست دے دی ہے۔ 1971ء میں بھارت کی انڈین نیشنل کانگریس کی اندرا گاندھی سے لے کر 2018ء کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے نریندر مودی سمیت بھارت کا مائنڈ سیٹ وہی ہے جو آزادی کی جدوجہد کے دوران تھا جس میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان اگر بن بھی گیا چھ مہینے نہیں چل سکے گا۔ پاکستان قائم ہو گیا تو بھارت نے پاکستان کے اثاثے دینے سے انکار کیا۔ لیکن یہ بات یہیں ختم نہیںہوئی اس کے بعد بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں جاری رکھیں۔ علیحدگی پسندوں کو مشرقی پاکستان میںفوجی قوت فراہم کی۔ بلوچستان میںکلبھوشن یادیو اور دوسرے جاسوسوںکے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں اور خیبر پختونخوا کا امن برباد کرنے کے لیے تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کی جس کی پاکستان دشمن کارروائیوں کے نتیجے میں سانحہ آرمی پبلک سکول اور دہشت گردی اور ایسے ہی واقعات کے نتیجے میںہزاروں پاکستانی شہید ہوئے ۔ پاکستانی فوج کی بروقت کارروائی اور عزم صمیم اور پاکستانی عوام کے قومی جذبے کے سامنے دہشت گردوں کو گوریلا فورسز کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ میں شکست ہوئی۔ لیکن اب بھی ملک میںکہیںکہیں کبھی کبھی ان کی باقیات یعنی ان کے سہولت کار سر اٹھاتے ہیں۔ آج جب ہم مشرقی پاکستان اور سانحہ آرمی پبلک سکول کی یاد مناتے ہیں تو ہمیں ایک طرف جانوں کی قربانیاں دینے والوں کے لیے دعائیںکرنے کے ساتھ ساتھ ان کے عزیز اور لواحقین کی ہر طرح سے دلجوئی اور اشک شوئی کو نہیںبھولنا چاہیے‘ دوسری طرف ہمیں دہشت گردوں کے سہولت کاروں پر نظر رکھنے کے لیے مستعدی کے فرض کو نہیں بھولنا چاہیے۔

آصف زرداری کا نیا پینترا

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایک بار پھر پینترا بدلا ہے ‘ ایک طرف پی ٹی آئی کی حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیا ہے اور دوسری طرف بغیر نام لیے ’’قوتوں‘ ‘ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ انہیں قومی فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان کی پارٹی حکومت کے پہلے سو دن تک حکومتی پارٹی سے اشتراک کی امید پالتی ہوئی نظر آئی۔ پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات میں بڑی اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کی بجائے اپنا امیدوار کھڑا کیا اور جب وزیر اعظم کا انتخاب ہوا تو انتخاب ہی سے الگ ہو گئے اور مسلم لیگ ن کا ساتھ نہ دیا۔ کئی بار پارلیمان میں تعاون کی بھی پیش کش کی اور پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ نے حکومت کو میثاقِ معیشت کی بھی تجویز دی ۔ شاید کسی قسم کی مفاہمت حاصل کرنے میں ناکامی ان کے حیدر آباد کے جلسے کے خطاب کی وجہ ہے جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیا ہے اور نام لیے بغیر بعض قوتوں سے کہا ہے کہ جس کی نوکری تین سال کی ہو اسے قومی فیصلوں کا کوئی حق نہیں۔ چند سال پہلے بھی آصف زرداری نے ایسی تقریر کی تھی جس میںکہا تھا کہ آپ تین سال بعد چلے جائیں گے ہم نے اس ملک میں رہنا ہے۔ انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی بھی بات کی تھی لیکن اس تقریر کے بعد وہ ملک سے چلے گئے جس کی طرف اشارہ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کیا ہے کہ ایسے ہی ایک بیان پرپہلے بھی آصف زرداری دبئی کی سیاحت کر چکے ہیں۔ آصف زرداری نے کہا ہے کہ قومی فیصلے کا حق پارلیمنٹ کو ہے ۔ لیکن پارلیمنٹ کی بالا دستی کے دعوے پر یقین کا ثبوت وہ جن معاملات کے بارے میں انہیں شکایت ہے انہیںپارلیمنٹ میں اٹھا کر فراہم کر سکتے ہیں۔ وہ خود بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ جہاں تک تین سال کی نوکری کی بات ہے ۔ اہم عہدوں پر لو گ اعلیٰ تعلیم کے بعد‘ مقابلے کے امتحانوں میں شرکت کے طویل تجربے اور تربیتی کورسوں سے گزرنے کے بعد پہنچتے ہیں اور انہیں اختیار پاکستان کا آئین دیتاہے۔ اس تقریر کے بعد ان پر لازم آتا ہے کہ وہ اپنا نقطہ نظر پارلیمنٹ میںلے جائیں اور آئینی اختیارات میں ترمیم پیش کریں۔

متعلقہ خبریں