Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

کسائیؒ علم نحو اور قرأت قرآن کے مشہور عالم ہیں۔ دونوں علوم میں ان کا مرتبہ محتاج تعارف نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نماز میں ہارون رشید کی امامت کی تلاوت کرتے ہوئے مجھے اپنی قرأت خود پسند آنے لگی ، ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ پڑھتے پڑھتے مجھ سے ایسی غلطی ہوئی جو کبھی کسی بچے سے بھی نہ ہوئی ہوگی۔ لیکن بخدا! ہارون رشید کو بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ تم نے غلط پڑھا ، بلکہ سلام پھیر نے کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا:’’یہ کونسی لغت ہے؟‘‘ میں نے کہا’’یا امیر! کبھی سبک روگھوڑا بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے‘‘۔ ہارون رشید نے کہا:’’یہ بات ہے تو ٹھیک ہے!‘‘۔بڑوں سے بھی لغزش ہو جایا کرتی ہے کوئی انسان بھی مکمل نہیں ہوتا۔مگر اپنی لغرش وکو تاہی پر نہ ڈٹنا او ر غلطی کا اعتراف کرنا ہی بڑائی ہے۔ (الذہبیؒمعرفتہ القراء1۔ص103 ) شیخ الحدیث حضرت مولانازکریاؒ اس دور کے بڑے محدث تھے ۔ انہوں نے اپنی کتاب’’آپ بیتی‘‘ میں ایک واقعہ نقل فرمایا ہے: ایک بزرگ بہت ہی نیک ، نماز، روزہ اور وظائف کے پابند تھے ۔ ان کے انتقال کے بعد کسی نے(ان کو) خواب میں دیکھا۔ نہایت ہی پر تکلف مکان ہے ، جس میں عمدہ بستر اور قالین بچھا ہوا ہے۔ وہ بزرگ ایک عالی شان تخت پر آرام کررہے ہیں ، مگر (ان کے) ہونٹوں پر ایک چھوٹا ساسانپ کا بچہ لپٹا ہوا ہے۔ خواب دیکھنے والے نے ان سے بڑی حیرت کے ساتھ پوچھا کہ اس اعزازواکرام کے ساتھ یہ سانپ کیسا؟انہوں نے کہا کہ (ہندوئوں کے تہوار) ہولی کے زمانے میں، جس میں ہندو ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں ، میں نے پان کھا رکھا تھا ، سامنے ایک مریل سا گدھا جارہا تھا۔ میں نے پان کی پیک اس گدھے پر تھوک کر مذاقاً یہ کہہ دیا کہ آج ساری دنیا رنگی ہوئی ہے، تجھے کسی نے نہیں رنگا، چل میں تجھے رنگ دیتا ہوں۔اسی پر پکڑ ہوگئی۔ معلوم ہو ا کہ کسی بھی جاندار کو ایذا نہیں پہنچانی چاہیئے کجا کہ ایک انسان کو تکلیف دی جائے جو اشرف المخلوقات ہے ۔(حوالہ بالا،239، ازآپ بیتی)غصہ نقصان پہنچانے والی اور اتنی بری چیز ہے کہ قرآن مجید میں اس پر قابو پانے کی تاکید بطور خاص کی گئی ہے ۔ اس حکایت میں شیخ سعدیؒ اس بات کو ایسے بیان فرماتے ہیں۔ایک جذباتی شخص کسی سے جھگڑ پڑا اور اول فول بکنے لگا۔ مد مقابل نے اسے خوب مارا اور اس کا لباس تار تار کردیا ۔ اس کا یہ حال دیکھا تو ایک دانا شخص نے کہا: اگر تو عقل سے کام لیتا اور اپنی زبان کو قابو میں رکھتا تو تیرا یہ حال نہ ہوتا تو اگر غنچے کی طرح اپنا منہ بند رکھتا تو پھول کی طرح دریدہ دامن نہ ہوتا۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ ایک کم عقل اور گھبرایاہوا شخص ہی شیخی بگھارتا ہے اور اس کے نتیجے میں نقصان اٹھاتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ آگ سرتاپاز بان ہے ۔ بھڑکتی ہے ،چٹختی ہے ، لپکتی ہے ، لیکن پانی کی تھوڑی سی مقدار بھی اسے بجھا دیتی ہے۔ یعنی غصے کے اظہار کے مقابلے میں اس پر قابو پانا افضل ہے ۔

(حکایات بوستان سعدی)

متعلقہ خبریں