Daily Mashriq


کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

سبحان اللہ! صورتحال ہی ایسی ہے کہ بے ساختہ منہ سے یہی الفاظ نکل آتے ہیں، اور وہ جو فارسی کا ایک شعر ہے اس کی حقیقت اب واضح ہو گئی ہے ، شعر تھا 

خشت اول چوں نہد معمار کج

تاثر یا می رود دیوار کج

یعنی معمار اگر پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھے تو دیوار خواہ اوج ثریا تک ہی کیوں نہ تعمیر کردی جائے اس نے ٹیڑھا ہی رہنا ہے ،یہ شعر یاد آنے کی وجہ وہ تازہ خبر ہے جو اتوار کے اخبارات میں شامل ہے اور جس میں بتایا گیا ہے کہ بی آر ٹی کی تعمیر کے ہنگام جو دیوار فردوس انڈرپاس کے حوالے سے اٹھائی گئی تھی اس پر محولہ بالا شعر کا اطلاق ہونے کی وجہ سے وہ دیوار توڑنے کا نہ صرف فیصلہ کیا گیا بلکہ اس پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا گیا ،گویا وہ جو مقولہ ہے کہ مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی تو صورتحال ایسی ہی دکھائی دیتی ہے ، خبر کی تفصیل کے مطابق پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے ڈیزائن میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی کر دی گئی ہے اور فردوس چوک کے قریب تعمیر کئے گئے انڈرپاس کی سائیڈ وال کی توڑ پھوڑ کا عمل شروع کردیا گیا ہے،انڈر پاس کی سائیڈ وال کی تعمیر کرتے وقت جی ٹی روڈ کا خیال نہیں رکھا گیا تھا اور سائیڈ وال سڑک کے عین وسط میں تعمیر کر دی گئی جس کی وجہ سے ٹریفک کے بہائو میں مسائل پیش آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ، دوبارہ تعمیر کے دوران اسے ترچھا رکھا جائے گا تاکہ جی ٹی روڈ کے ساتھ مطابقت رکھ سکے اور ٹریفک کے بہائو میں رکاوٹ نہ آسکے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسی جگہ زیر زمین قدیم دور کا شاہی کٹھہ نکل آنے کی وجہ سے بھی ڈیزائن میں تبدیلی کی جا چکی ہے ،جبکہ چند ہفتے پہلے ہشتنگری کے مقام پر بھی تعمیر کئے گئے ٹریک کی توڑ پھوڑ اس وجہ سے کی گئی تھی جب اطراف میں سڑک کم رہ جانے کا مسئلہ سامنے آیا تھا۔ گویا یہ کجی صرف فردوس چوک ہی کے پاس نہیں ہے ، ہشتنگری کے قریب بھی تھی اور شہر کے لوگوں کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس منصوبے میں ایک دو کجیاں نہیں ہیں ، پہلے ارباب سکند ر خان فلائی اوور کے قریب یوٹرن کے مسائل پیدا ہوئے تھے جن کی نشاندہی میں نے ہی ایک کالم میں کی تھی۔ مقام شکر ہے کہ ہم نہ تو شہنشاہ ایران کے دور میں ہیں نہ ہی اس دور کا قانون ہمارے ہاں لا گو ہے ، شنید ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دروغ بر گردن راوی تو بے جا نہ ہوگا کہ شہنشاہ آریہ مہر محمد رضا شاہ پہلوی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ عوامی بہبودکے منصوبوںمیں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے ، ایک بار کسی پل کا افتتاح کرنے کیلئے وہ گئے اور پل کی ظاہری صورت کو دیکھ کر بڑے خوش ہوئے ، تفصیل بتاتے ہوئے متعلقہ حکام نے پل پر اٹھنے والے اخراجات ، پل کی مضبوطی ، بوجھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے شہنشاہ کو آگاہ کیا، شاہ نے صرف ایک سوال کیا کہ پل پر سے گزرنے والی گاڑیوں میں جس وزن کی بات کی گئی ہے کیا واقعی اتنا بوجھ یہ پل برداشت کر سکے گا، متعلقہ ٹھیکیدار اور چیف انجینئردونوں نے یقین دہانی کرائی تو شہنشاہ نے حکم دیا کہ ایک ٹرک پر مذکورہ وزن کا سامان لادکر اس پل پر سے گزارا جائے ، تھوڑی دیر میں تعمیل کی گئی تو شہنشاہ نے چیف انجینئراورٹھیکیدار کو بھی ٹرک پر سوار ہونے کا حکم دیا، پل کے نیچے تیز رفتار دریا بہہ رہا تھا، ٹرک پل سے گزرا تو پل ٹوٹ گیا اور ٹرک نیچے دریا میں گر گیا ، ظاہر ہے چیف انجینئر اور ٹھیکیدار کا کیا حشر ہوا ہوگا اس کا تذکرہ ہی فضول ہے ، تاہم اس کے بعد ایران میں کسی منصوبے میں بدعنوانی کے ارتکاب کی کسی کو بھی جرأت نہیں ہو سکی۔بی آر ٹی منصوبے پر بھی کچھ ایسا ہی گمان ہورہا ہے ، جب سے یہ سڑک شروع کی گئی ہے وہیں کی وہیں موجود ہے البتہ توڑ پھوڑ نے پشاور کے لوگوں کو ایک عذاب سے دوچار کر رکھا ہے ، جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزارش کر چکا ہوں اس میں مختلف مقامات پر اٹھنے والے مسائل پر میں نے کالم لکھا تو متعلقہ افراد کی توجہ مبذول ہوئی اور ڈیزائن میں تبدیلی کی گئی ، ساتھ ہی اخراجات میں اضافہ ہوتا رہا ، سوال مگر پیدا ہوتا ہے کہ اب تک جتنی بھی تبدیلیاں ہوئیں ان کے بارے میں سروے سے لیکر تعمیر کے مراحل تک منصوبے میںشامل اہلکاروں اور ماہر انجینئروں نے پہلے کیوں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں، اور ان سقوم کے بارے میں سوچنے کی زحمت کیوں گوارا نہیں کی ، اسی لئے تو میں نے کہا کہ مقام شکر ہے ہم شہنشا ہ ایران کے دور میں نہیں رہتے ورنہ متعلقہ عملے کا کیا بنتا؟ بس یہ ضرور ہوا کہ سابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک کے ساتھ بعض معاملات پر اختلافات کی وجہ سے ایک دو کو انہوں نے برطرف کردیا تھا اور بعض نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر منصوبے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، ویسے خدالگتی کہیئے کہ جن لوگوں نے مدت تکمیل پر اختلافات پیدا ہونے کی وجہ سے منصوبے کو چھوڑ دیا تھا ان کا موقف درست ثابت ہورہا ہے کہ ابھی تک تعمیر وتخریب کاسلسلہ جاری ہے اگرچہ اب ایک بار پھر نہ صرف23مارچ کی تاریخ مدت تکمیل کے حوالے سے صوبائی حکومت نے دیدی ہے بلکہ صدرمملکت نے بھی پشاور تشریف لاکر ایسی ہی بات کی ہے تاہم نئی نئی پیچیدگیاں جس طرح جنم لے رہی ہیں ان کو دیکھ کر تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اب یہ منصوبہ نئی دی جانے والی تاریخ تک بھی مکمل ہوجائے گا۔ ہاں دعا البتہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پشاور کے عوام پر رحم کرے اور یہ منصوبہ متوقع تاریخ تک مکمل ہوجائے کیونکہ اس منصوبے نے عوام کو زچ کر کے رکھ دیا ہے ،سانس کی بیماریاںا لگ پھیل رہی ہیں یہاں تک کہ بے چارے ٹریفک اہلکار بھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ بھی میں نہیں کہتا بلکہ کچھ روز پہلے شائع ہونے والی ایک خبر سے پتہ چلا تھا۔ بہرحال اگر کالم کا آغاز سبحان اللہ کے الفاظ سے کیا تھا تو اس کی وجہ واضح ہوگئی ہے، اب آپ بھی اس دعا میں شامل ہوجائیں کہ اللہ پشاور پر رحم کرے اور یہ منصوبہ جلد تکمیل تک پہنچ جائے کہ بقول احمد فراز

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

متعلقہ خبریں