Daily Mashriq


عوامی نیشنل پارٹی ، ایک وجودی بحران کا شکار

عوامی نیشنل پارٹی ، ایک وجودی بحران کا شکار

حال ہی میں عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دو اہم رہنماؤں، افراسیاب خٹک اور اور بشریٰ گوہر کی رکنیت پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی وجہ سے معطل کردی ۔ گو کہ پارٹی قیادت کی جانب سے ان پر الزامات کی وضاحت نہیں دی گئی البتہ قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں کے شہری حقوق کے متعلق امور پر آواز اٹھانے کے باعث پارٹی کی اعلیٰ قیادت ان سے نا خوش تھی۔ یہ اقدام اس صورتحال کی جانب اشارہ کرتا ہے جس میں ہماری سیاسی جماعتیں ایک خاص قسم کے’’غیر جمہوری‘‘ دباؤ کے نتیجے میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ وہ میڈیا جو کسی دور میں آزاد اور متحرک ہوتا تھا اب ایک بھونچال کا شکار ہے اور دن بدن اس پر گرفت تنگ ہوتی محسوس ہورہی ہے۔ جمہوریت پر ایسے کڑے دور میںبیشتر سیاسی جماعتیں اپنے سطحی اور قلیل مدتی مفادات کی خاطر اپنے جمہوی نظریات کو قربان کرنے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔

دوسری جانب ، عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کیے جانے والے اس اقدام سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اندرونی طور پر اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک بحران کا شکار ہے ۔ اور اس بحران کی بنیادی وجہ ممکنہ طور پر اے این پی کا حال ہی میں پاکستان میں رونما ہونے والی دو بڑی آئینی اور سماجی تبدیلیوں کو کلی طور پر اپنانے سے معذوری ہے۔ پہلی بڑی تبدیلی آئینی نوعیت کی ہے جو اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں رونما ہوئی۔ صوبوں کو اختیارات کی منتقلی اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی آئینی بنیادوںپر تقسیم اٹھارہویں ترمیم کی دو بنیادی اور اہم خصوصیات تھیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اپنے آغاز سے ہی صوبائی خود مختاری،تشخص اور وسائل کی مساوی تقسیم کی بڑی حامی رہی ہے اور اس نے اٹھارہویں ترمیم میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت ہونے والی دونوں بڑی تبدیلیاں اے این پی کی اب تک کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی گردانی جا سکتی ہے۔

البتہ ان دو بڑی اور بنیادی سیاسی کامیابیوں کے بعد اے این پی کو ایک نیا چیلنج درپیش ہے۔ وہ یہ کہ بطور پارٹی یہ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کر چکی جس کے بعد اس کی سیاسی اہمیت کم ہونے لگی ہے۔پالیسی مسائل سے متعلق وہ سیاسی عزائم جو ایک طویل مدت تک اے این پی کے ووٹر کی ڈھارس بندھائے رکھے ، اب مکمل ہونے کے بعد انہیںاپنے ووٹ کے استعمال کے لیے تشخص اور قوم پرستی سے بڑھ کر سوچنے پر مجبور کرنے لگے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ عوامی نیشنل پارٹی اپنے ووٹروں کی حمایت کھونے لگی ہے۔ ووٹروں کا رجحان اب ان سیاسی پارٹیوں کی جانب مبذول ہونے لگا ہے جو ا نہیں قوم پرستی پر مبنی سیاست کی بجائے خدمت اور بہتر گورننس کو دینے کی دعویدار ہیں۔ کئی دانشوروں کی رائے میں بھی اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی کا علاقائی اور قوم پرست جماعتوں کی حمایت پر خاصا منفی اثر دیکھا گیا ہے۔

ایک دوسری بڑی تبدیلی جس سے اے این پی اور اس جیسی کئی سیاسی جماعتیں بہتر انداز میں نبرد آزما نہیں ہو سکیں وہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران شہری آبادی میں مستقل اضافہ ہے۔ اس متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی شہری آبادی سے جنم لینے والی تبدیلی نے کئی سیاسی جماعتوں کی قسمت کے چراغ گُل کر دیے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ یہ شہری آبادی گو کہ نظریاتی طور پر متحد و ہم آہنگ نہیں البتہ اس کے باوجود ان میں کچھ عوامل مشترک پائے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ متوسط درجے کے شہری لوگ سیاسی اور تہذیبی طور پر ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں۔ آبادیاتی تبدیلی کا کسی بھی سیاسی جماعت پر کیا اثر ہوگا،اس کا انحصار بنیادی طور پر اس بات سے ہے کہ اس جماعت کے حامیوں کا تعلق کس طبقے سے ہے۔ یعنی ایسی جماعتیں جن کے حامیوں کی بڑی تعداد کا تعلق شہری اور متوسط طبقے سے ہے، ان کا اس تبدیلی سے مثبت یا منفی انداز میں متاثر ہونا زیادہ متوقع ہے۔ اے این پی اور پاکستان تحریکِ انصاف اس کی بہترین مثالیں ہیں جن کے حامیوں کا بنیادی تعلق نیم شہری،شہری، تعلیم یافتہ اورپیشہ ورانہ طبقے سے ہے۔ اے این پی کا معاملہ یوں بھی خاص ہے کہ اس کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد خدائی خدمت گارو ں کی تیسری اور چوتھی نسل ہے اور وہ تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ ہے جس کا سامنا تشخص پر مبنی سیاست سے اسلام آباد، کراچی اور پشاور جیسے شہری مراکز میں ہو چکا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کا وقت کے ساتھ دیگر سماجی طبقات کی حمایت حاصل نہ کرپانا بھی ایک ناکامی ہے جس کے بناء پر اس کا کُل انحصار تعلیم یافتہ، متوسط اور اعلیٰ متوسط طبقات پرجم کر رہ گیا ہے اور اس میں بھی تعلیم یافتہ نوجوان شہری آبادی میں اضافے کے باعث کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس رونما ہوتی تبدیلی کے باعث اے این پی اندرونی طور پر دباؤ کا شکار ہے۔ یہ دباؤ ا ے این پی میں نوجوان آوازوں کو فوقیت دینے اور عوامی خدمت کے حوالے سے بُرے تاثر کو مؤثر انداز میں ختم کرنے کا متقاضی ہے۔ بلوچستان کی پشتون قوم پرست جماعت، پی کے میپ، جو اے این پی ہی کی طرح اپنا ووٹ بینک نیم شہری اور تعلیم یافتہ شہری طبقات میں رکھتی ہے،بھی اس آبادیاتی تبدیلی اور عوام کی جانب سے بہتر خدمات کے مطالبے کے باعث خود کو محفوظ نہ رکھ سکی ۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں