Daily Mashriq

مفتیان کرام اور حکومتوں کا باہمی تعلق

مفتیان کرام اور حکومتوں کا باہمی تعلق

مسلمان معاشروں میں علماء‘ مشائخ اور مفتیان کرام کا بہت بڑا کردار اور احترام رہا ہے ۔ کیونکہ یہ لوگ دین کے محافظ اور مبلغ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند اور دنیا کے دیگر خطوں میں اسلام کی اشاعت کا بنیادی ذریعہ و وسیلہ علماء کرام ہی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ مبارک میں صحابہ کرامؓ دنیا کے مختلف ملکوں میں حکام اور تجار و داعیین کی حیثیت سے پہنچے اور اپنے اخلاق کریمانہ کے ذریعے وہاں کی مقامی آبادیوں کو متاثر کیا۔ جب جب اور جہاں جہاں اسلام پہنچا لوگوں نے اسلام کے مسائل و احکام سمجھنے کے لئے ہمیشہ مستند علماء و مفتیوں سے پوچھا اور انہوں نے قرآن و سنت کے مطابق جواب دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبارک عہد میں صحابہ کرامؓ کو جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے اور بھرپور ادب کے ساتھ مسئلہ پوچھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کا جواب عطا فرماتے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی صحابیؓ نے سوال کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس وقت خاموش رہ گئے اور پھر جب پوچھے گئے مسئلے کے بارے میں وحی کا نزول ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس صحابیؓ کو بلا کر یا موجود صحابہؓ کے ذریعے وحی کی تلاوت فرما کر جواب عطا فرماتے۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صحابہ کرامؓ سے خود سوال پوچھتے‘ صحابہ کرامؓ اکثر فرماتے‘ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے ہی سوال کا جواب عطا کر صحابہؓ کے علم و تربیت میں اضافہ فرماتے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قرآن کریم کی قرأت و فہم کے ماہر صحابہ کرامؓ کو مختلف علاقوں کی طرف معلم و مبلغ بنا کر بھی بھیجا۔ حضرت معاذؓ بن جبل کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجتے وقت پوچھا۔ معاذؓ وہاں جا کر فیصلے کیسے کرو گے؟ آپؓ نے جواب میں فرمایا کہ سب سے پہلے پوچھے گئے مسئلے کا حل قرآن شریف میں تلاش کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا وہاں نہ ملا تو! آپؓ نے جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت (احادیث مبارکہ) میں دیکھوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا وہاں نہ ملا پھر؟ حضرت معاذؓ نے جواب دیا پھر قرآن و سنت کی روشنی میں قیاس و اجتہاد سے کام لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت معاذؓ کے سینہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے تحسین و ستائش فرمائی۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے مبارک ادوار کے بعد تابعین و تبع تابعین کے ادوار میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا لیکن بتدریج اجتہاد کا سلسلہ کمزور پڑتا چلا گیا۔ عالم اسلام میں اجتہاد کے دروازے بند ہونے یا کمزور پڑنے میں جہاں ایک طرف اس کے ذریعے اسلامی دنیا میں نت نئے فتنوں کے در آنے کا سلسلہ شروع ہونا تھا تو دوسری طرف مستند علماء و فقہاء کی بھی کمی محسوس ہونے لگی تھی۔ ایک بہت ہی اہم عنصر ملوکیت کا فروغ تھا جس نے عالم اسلام میں تحقیق‘ تجسس اور زمانے کے تقاضوں اور ضروریات کو سمجھنے والے علماء و فقہاء کو صرف اس لئے کنارے لگا کر تکالیف و مصائب میں مبتلا کیا کہ وہ ان کے جائز و ناجائز اور من مانے فیصلوں کی توثیق کے لئے تیار نہ ہوئے۔ یہی وجہ تھی کہ امام ابو حنیفہؒ کو قاضی القضاۃ کے منصب کی پیش کش ہوئی لیکن آپؒ نے اس لئے قبول نہ کیا کہ حاکم وقت کے حکومتی معاملاتٰ اسلام و شریعت کے مطابق نہ تھے۔امام احمدؒ بن حنبل نے جیل کے اندر موت قبول فرمائی لیکن بادشاہ وقت کے ذہنی و فکری فتنہ کی تصدیق نہیں کی۔ لیکن تابہ کہ‘ آہستہ آہستہ‘ بتدریج حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ ملوکیت مضبوط سے مضبوط تر اور علماء حق کم سے کم تر ہوتے چلے گئے۔ راہ عزیمت اور جادہ حق پر استقامت کے ساتھ رہنے والے یا تو خال خال رہے یا پھر درس و تدریس اور عوام کی دینی رہنمائی اور تعلیم و تربیت کے لئے گوشتہ نشین ہوگئے۔ یہاں تک ایک وقت عالم اسلام میں ایسا بھی آیا کہ حکومت اور علماء حق کے درمیان تعلق منقطع ہو کر رہ گیا۔ نتیجتاً بادشاہوں کے دربار درباری علما سے بھر گئے جو بادشاہوں کو خوش کرنے اور ان کے مزاج و ضرورت کے مطابق دینی تعلیمات کی تاویل و تشریح کرنے کے علاوہ اپنی طرف سے مقدس تعلیمات میں اضافے سے بھی نہیں کتراتے تھے۔لیکن دربار سے باہر علماء حق نے ان فتنوں کا خوب خوب سد باب کیا اور آج الحمدللہ! من گھڑت و ضعیف احادیث کو صحیح و مستند احادیث سے آٹے سے بال کی طرح کھینچ کر الگ کردیا ہے۔ اگرچہ علماء حق اور علماء سوء کے درمیان کشمکش کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور جلال الدین اکبر کے زمانے میں تو دین الٰہی کی صورت میں بام عروج پر پہنچ گیا تھا لیکن وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجدد الف ثانیؒ کی صورت میں ایک ایسی شخصیت سامنے آئی جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ نے ایک ہی شعر میں ان کامشن واضح کر کے رکھ دیا۔

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں

خدا نے بروقت کیا جس کو خبردار

لیکن پھر ایک وقت آیا کہ عالم اسلام استعمار کی غلامی میں چلا گیا اور اس دوران بقول

جو تھا نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں