Daily Mashriq


ہائرایجوکیشن چیمپئن ڈیپارٹمنٹ

ہائرایجوکیشن چیمپئن ڈیپارٹمنٹ

عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کے اس دور میں ہماری تعلیم کسی طور بھی روایتی انداز کی متحمل نہیںرہ سکتی ۔ دنیاخود بھی توکارپوریٹ کلچر کے شکنجے میں جکڑی جاچکی ہے کہ جہاں ملٹی نیشنل کا غلبہ ہر طرف دکھائی دیتا ہے ۔ کمرشلزم کے اس دور میں ہیومن ریسورس کی مارکیٹ جغرافیائی حدوں کو عبور کرچکی ہے ۔ملکی اور غیرملکی سطح پر افرادی قوت کے نئے امکانات سامنے آچکے ہیں۔ ایسی صورت میں تعلیم کو بھی بین الاقوامی معیارتک لیجانا ایک چیلنج ہی ہے ۔

پاکستان میں 2009میں جو قومی تعلیمی پالیسی بنائی گئی تھی اس کے تحت ہائر ایجوکیشن کے روایتی ایم اے ۔ایم ایس سی سسٹم کو بی ایس چارسالہ پروگرام میں بتدریج تبدیل کرنے کی پالیسی بنائی گئی تھی تاکہ پاکستانی گریجویٹس باآسانی عالمی تعلیمی معیار تک پہنچ سکیں اور ہمارے گریجویٹس اپنی تعلیمی قابلیت اور اپنے سکلزسے ملکی اور غیرملکی کارپوریٹ مارکیٹ سے اپنا حصہ حاصل کرسکیں ۔پرانے سسٹم میں دس سال سکول (میٹرک تک )،چار سال کالج (انٹرمیڈیٹ ،بی اے بی ایس سی )اور دو سال (ایم اے ۔ایم ایس سی )یونیورسٹی تعلیم دی جاتی تھی۔جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی یونیورسٹی کا مینڈیٹ تھا ۔ 2009کی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت سکولوں کو اپ گریڈ کرکے ہائرسیکنڈری سطح پر لانا اور ان میں انٹرمیڈیٹ سطح کی تعلیم کا مینڈیٹ دینا تھا جبکہ اسی پالیسی کے تحت کالجزبی ایس چار سالہ پروگرام اور یونیورسٹیاں ایم ایس اور پی ایچ ڈی سطح کی تعلیم دیں ۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس پالیسی کو سوئچ اوور کرنے کے لیے انفراسٹرکچر میں بہت زیادہ تبدیلیاں ناگزیر تھیں ان میں سے کچھ تبدیلیاں تو ہوئیں اور کچھ ہنوز باقی ہیں ۔ خیبر پختونخوا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہائر ایجوکیشن نے اس نئے تعلیمی سسٹم کو نہ صرف سب سے پہلے قبول کیا بلکہ اسے اپنے صوبے میں رائج بھی کیا ۔اپنی دیگر سرگرمیوں کو متاثر نہ کرتے ہوئے بی ایس پروگرام کو ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے ایک ذیلی ادارے کے قیام کے ساتھ ،ایک پراجیکٹ کی صورت میںپیش کیا تھا ۔2011/2012میں اس کا پہلا فیز شروع ہوا جس کے تحت 53سرکاری کالجوں میں بی ایس شروع کیا گیا ۔اس نئے نظام تعلیم میں ظاہر ہے ایک نیا انفراسٹرکچر درکار تھا ۔صوبائی ہائرایجوکیشن نے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے علاوہ سرکاری کالجوںمیں بی ایس بلاکس کی تعمیر،لیبارٹریوں کی تنصیبات اور دیگر ناگزیر ضرورریات کو اپنے دستیاب وسائل سے پورا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے سرکاری کالجوں میں بی ایس کے حوالے سے انقلابی کیفیت دیکھی جاسکتی ہے ۔صوبے کے طول و عرض میں چلنے والے سرکاری کالجوں میں اس وقت بی ایس کا ایک جال بچھایا جاچکا ہے ۔جس کے تحت بچے اور بچیاں اپنے گھروں کے نذدیک اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ تین ساڑھے تین ہزار روپے فی سمسٹر (چھے ماہ)فیس سرکاری اور غیرسرکاری یونیورسٹیوں کی فیسوں کے مقابلے میںنہ ہونے کے برابر ہے۔ شاید ہی دنیامیں کہیںتیس چالیس ہزار روپے میں بی ایس یا اس کے مساوی ڈگری میسر ہو۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ہمارے صوبے میں بی ایس پروگرام ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اصول و ضوابط اور معیارکے عین مطابق چل رہاہے۔ جس انداز اور سنجیدگی کے ساتھ ہمارے صوبے کے سرکاری کالج بی ایس پروگرام کو چلارہے ہیں میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ دن بھی دور نہیں کہ جب ہمارے سرکاری کالجوں کا بی ایس پروگرام کا معیار ملک میں سب سے اچھا قرار دے دیا جائے گا۔اس کا کریڈٹ جہاں سرکاری کالجوں کے قابل اساتذہ کو جاتا ہے وہیں کالجوں کے پرنسپل ، ڈائریکٹوریٹ اور سیکریٹریٹ ہائرایجوکیشن بھی داد کے مستحق ہیں۔جب بھی چمن میں بیج بوئے جائیں تو اس کے نتیجے میں پھول ضرور کھلتے ہیں ۔ ہائرایجوکیشن کے بی ایس کے پودے پر اب پھول کھلنا شروع ہوگئے ہیں ۔گزشتہ دنوں گورنمنٹ کالج پشاور میں سائنس اینڈ آئی ٹی کی منعقدہ ایک نمائش میں شرکت کی یقین کیجئے دل خوشی سے کھل اٹھا۔ پشاور جوائنٹ منیجمنٹ کونسل کے کلسٹر کالجوں کے طلباء نے اس نمائش میں اپنے سٹالز لگارکھے تھے ۔ایک تو گورنمنٹ کالج کے ساتھ ایک دیرینہ وابستگی ہے کہ وہاں کوئی بھی تقریب ہو دل خوش ہوتا ہے دوسرا یہ نمائش صحیح معنوں میں well organizedتھی ۔ جس کے انعقاد اور انتظامات سے لگتا تھا کہ اس نمائش کو پہلے سوچا گیاہوگا۔ پھر اس کے لیے ٹیم بنائی گئی ہوگی اور پھر ایک پلان بناکر اس پر عمل کیا گیاہوگا۔ اس نمائش کی سب سے خوبصورت بات ان سٹالوں پر سجائے گئے پراجیکٹس کی تازگی تھی ۔ معروضی ضرورتوں کے تحت طالب علموں نے اپنے آئیڈیاز کو تخلیق کیا تھا جنہیں بڑی آسانی کے ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں باآسانی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ یہی ہائر ایجوکیشن کا تقاضا ہوتا ہے کہ نئی تخلیقات اور نئی ایجادات سامنے لائی جائیں ۔میں نے ا ن سٹالوں پر طلباء سے جتنے بھی سوال کیے طلباء نے بڑے احسن طریقے سے ان سوالوں کے جوابات دئیے جس سے ایک بات ثابت ہورہی تھی کہ یہ طلباء اپنے پراجیکٹس کے بنیادی علم سے کتنے واقف ہیں۔ میں ذاتی طور پر کسی بھی عمل ، کسی بھی کام میں ٹیم بنانے کا قائل ہوں ۔ ہائر ایجوکیشن کی کامیابی بھی اس کی آرگنائزیشن کے بل بوتے پر ہے ۔

متعلقہ خبریں